پاکستان کی تاریخ نا اہل حکمرانوں سے بھری پڑی ہے توقیر فاطمہ
بھٹو نے پہلی تعلیمی پالیسی دی، سیمینار سے خطاب
صوبائی وزیر ترقی نسواں توقیر فاطمہ بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ تعلیم کے فروغ کے لیے کردار ادا کیا اور اب بھی تعلیم اور تربیت کے لیے حکومت نے کئی منصوبے شروع کیے ہیں۔ فوٹو: عدیل احمد/ ایکسپریس
لاہور:
صوبائی وزیر ترقی نسواں توقیر فاطمہ بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان کی 64 سالہ تاریخ حکمرانوں کی نا اہلی اور جمہوریت دشمنی سے بھری پڑی ہے۔
ہمارے حکمران اور سول سوسائٹی اپنا بوجھ کسی اور کے کاندھوں پر ڈال دیتے ہیں، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ تعلیم کے فروغ کے لیے کردار ادا کیا اور اب بھی تعلیم اور تربیت کے لیے حکومت نے کئی منصوبے شروع کیے ہیں۔ حیدرآباد پریس کلب میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے فروغ اور تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے پیپلز پارٹی نے اپنے ہر دور حکومت میں اقدامات کیے جب کہ ملک میں پہلی تعلیمی پالیسی بھی پی پی کے بانی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے دی تھی ،پیپلز پارٹی تعلیم کے فروغ کو ترجیح دیتی ہے۔
ماضی میں فنی تعلیم کے اداروں کو تباہ کیا گیا، لیکن ہماری حکومت ان اداروں کو کار آمد بنا رہی ہے، بینظیر یوتھ پروگرام کے تحت لوگوں کو تربیت دی گئی، جس کے نتیجے میں نوجوان بڑی تعداد میں بیرون ملک روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم زندہ و جاوید قوم ہیں اور ایسا پاکستان بنانا چاہتے ہیں جس کا تصور ہمارے آباؤ اجداد نے دیا ہے۔ قبل ازیں ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے رکن سندھ اسمبلی سہیل یوسف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان بڑی قربانیوںکے بعد وجود میں آیا، تعلیم اور صحت ایسے شعبے ہیں جن پر حکومت وہ توجہ نہیں دیتی جو دی جانی چاہیے، سب سے زیادہ وسائل دفاع پر خرچ ہوتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے سوائے چین کے تمام پڑوسی ممالک سے دشمنی لے رکھی ہے اورسب پڑوسی ممالک سے ہمارے تعلقات خراب ہیں، ایک طرف ہم جنگوں میں الجھے ہوئے ہیں دوسری طرف ہماری نسل تعلیم سے دور ہو رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما کامریڈ جام ساقی نے کہا کہ پاکستان کے لوگوں کو جب تک تعلیم نہیں ملے گی وہ سب کے لیے خطرہ ہوں گے اور یہ خود اپنے لیے بھی خطرناک ہیں، ساری دنیا کی خواہش ہے کہ پاکستان میں تعلیم کو فروغ دیا جائے۔
صوبائی وزیر ترقی نسواں توقیر فاطمہ بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان کی 64 سالہ تاریخ حکمرانوں کی نا اہلی اور جمہوریت دشمنی سے بھری پڑی ہے۔
ہمارے حکمران اور سول سوسائٹی اپنا بوجھ کسی اور کے کاندھوں پر ڈال دیتے ہیں، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ تعلیم کے فروغ کے لیے کردار ادا کیا اور اب بھی تعلیم اور تربیت کے لیے حکومت نے کئی منصوبے شروع کیے ہیں۔ حیدرآباد پریس کلب میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے فروغ اور تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے پیپلز پارٹی نے اپنے ہر دور حکومت میں اقدامات کیے جب کہ ملک میں پہلی تعلیمی پالیسی بھی پی پی کے بانی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے دی تھی ،پیپلز پارٹی تعلیم کے فروغ کو ترجیح دیتی ہے۔
ماضی میں فنی تعلیم کے اداروں کو تباہ کیا گیا، لیکن ہماری حکومت ان اداروں کو کار آمد بنا رہی ہے، بینظیر یوتھ پروگرام کے تحت لوگوں کو تربیت دی گئی، جس کے نتیجے میں نوجوان بڑی تعداد میں بیرون ملک روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم زندہ و جاوید قوم ہیں اور ایسا پاکستان بنانا چاہتے ہیں جس کا تصور ہمارے آباؤ اجداد نے دیا ہے۔ قبل ازیں ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے رکن سندھ اسمبلی سہیل یوسف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان بڑی قربانیوںکے بعد وجود میں آیا، تعلیم اور صحت ایسے شعبے ہیں جن پر حکومت وہ توجہ نہیں دیتی جو دی جانی چاہیے، سب سے زیادہ وسائل دفاع پر خرچ ہوتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے سوائے چین کے تمام پڑوسی ممالک سے دشمنی لے رکھی ہے اورسب پڑوسی ممالک سے ہمارے تعلقات خراب ہیں، ایک طرف ہم جنگوں میں الجھے ہوئے ہیں دوسری طرف ہماری نسل تعلیم سے دور ہو رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما کامریڈ جام ساقی نے کہا کہ پاکستان کے لوگوں کو جب تک تعلیم نہیں ملے گی وہ سب کے لیے خطرہ ہوں گے اور یہ خود اپنے لیے بھی خطرناک ہیں، ساری دنیا کی خواہش ہے کہ پاکستان میں تعلیم کو فروغ دیا جائے۔