نیو سبزی منڈی کرپشن اور الاٹمنٹ میں ہیر پھیر کا نوٹس لیا جائے حیدرآباد چیمبر
پارکنگ، کولڈ اسٹوریج سمیت دیگر پلاٹ من پسند افرادکو دینے کا الزام۔
مارکیٹ کمیٹی انتظامیہ نے نقشے میں ہیر پھیرکر کے پلاٹ من پسند افراد کو الاٹ کر دیے۔ فوٹو: فائل
لاہور:
چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی سب کمیٹی برائے امور مارکیٹ، ایگریکلچر ایکسٹینشن سندھ کے چیئرمین حاجی اختیار آرائیں نے کہا ہے کہ ایڈمنسٹریٹر مارکیٹ کی مبینہ کرپشن اور پلا ٹوں کی الاٹ منٹ میں ہیر پھیر کے باعث نیو سبزی و فروٹ مارکیٹ قائم نہیں ہو سکی، چیف جسٹس پاکستان اور حکومت نوٹس لیں۔
چیمبر آف کامرس کانفرنس ہال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ نے ہالا ناکا کے مقام پر نیو سبزی و فروٹ منڈی قائم کرنے کے لیے 1994میں 72 ایکڑ قطعہ اراضی الاٹ کیا تھا، مارکیٹ کی تعمیر کے لیے ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے فنڈز فراہم کیے جبکہ 1996میں حقیقی بیوپاریوں نے مذکورہ منڈی میں پلاٹ بک کرائے تھے مگر مارکیٹ کمیٹی انتظامیہ نے نقشے میں ہیر پھیرکر کے پلاٹ من پسند افراد کو الاٹ کر دیے، موجودہ ایڈمنسٹریٹر جام عبدالستار بھی کوئی تعاون کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی 18پلاٹ 1996 کے اصل مالکان کو الاٹ کرنے کا عدالتی حکم ماننے کو تیار ہیں، جس کی تفصیلات صوبائی وزیر زراعت سید علی نواز شاہ، سیکریٹری زراعت، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر حیدرآباد کو ارسال کی گئیں مگر ہر طرف سے مایوسی کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ کمیٹی کے ایڈمنسٹریٹر وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتے رہے اور بیو پاریوں کے سابقہ عہدیداروں نے ایڈمنسٹریٹر مارکیٹ کمیٹی کے ساتھ ساز باز سے نیو سبزی و فروٹ مارکیٹ ہالا ناکا میں پارکنگ اور کولڈ اسٹوریج سمیت ایمنٹی پلاٹ اپنے رشتے داروں کے نام پر الاٹ کرا کے فروخت کردیے۔ انھوں نے گورنر اور وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فروٹ مارکیٹ کے مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں اور اصل مالکان کو پلاٹ الاٹ کیے جائیں اور کسی ایماندار شخص کو مارکیٹ کمیٹی ایڈمنسٹریٹر مقررکیا جائے تاکہ بیو پاریوں کے مسائل حل کیے جاسکیں۔ اس موقع پر صدر ہو ل سیل فروٹ کمیشن ایجنٹس ضیاء الدین بھی موجود تھے۔
چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی سب کمیٹی برائے امور مارکیٹ، ایگریکلچر ایکسٹینشن سندھ کے چیئرمین حاجی اختیار آرائیں نے کہا ہے کہ ایڈمنسٹریٹر مارکیٹ کی مبینہ کرپشن اور پلا ٹوں کی الاٹ منٹ میں ہیر پھیر کے باعث نیو سبزی و فروٹ مارکیٹ قائم نہیں ہو سکی، چیف جسٹس پاکستان اور حکومت نوٹس لیں۔
چیمبر آف کامرس کانفرنس ہال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ نے ہالا ناکا کے مقام پر نیو سبزی و فروٹ منڈی قائم کرنے کے لیے 1994میں 72 ایکڑ قطعہ اراضی الاٹ کیا تھا، مارکیٹ کی تعمیر کے لیے ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے فنڈز فراہم کیے جبکہ 1996میں حقیقی بیوپاریوں نے مذکورہ منڈی میں پلاٹ بک کرائے تھے مگر مارکیٹ کمیٹی انتظامیہ نے نقشے میں ہیر پھیرکر کے پلاٹ من پسند افراد کو الاٹ کر دیے، موجودہ ایڈمنسٹریٹر جام عبدالستار بھی کوئی تعاون کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی 18پلاٹ 1996 کے اصل مالکان کو الاٹ کرنے کا عدالتی حکم ماننے کو تیار ہیں، جس کی تفصیلات صوبائی وزیر زراعت سید علی نواز شاہ، سیکریٹری زراعت، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر حیدرآباد کو ارسال کی گئیں مگر ہر طرف سے مایوسی کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ کمیٹی کے ایڈمنسٹریٹر وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتے رہے اور بیو پاریوں کے سابقہ عہدیداروں نے ایڈمنسٹریٹر مارکیٹ کمیٹی کے ساتھ ساز باز سے نیو سبزی و فروٹ مارکیٹ ہالا ناکا میں پارکنگ اور کولڈ اسٹوریج سمیت ایمنٹی پلاٹ اپنے رشتے داروں کے نام پر الاٹ کرا کے فروخت کردیے۔ انھوں نے گورنر اور وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فروٹ مارکیٹ کے مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں اور اصل مالکان کو پلاٹ الاٹ کیے جائیں اور کسی ایماندار شخص کو مارکیٹ کمیٹی ایڈمنسٹریٹر مقررکیا جائے تاکہ بیو پاریوں کے مسائل حل کیے جاسکیں۔ اس موقع پر صدر ہو ل سیل فروٹ کمیشن ایجنٹس ضیاء الدین بھی موجود تھے۔