سائیکلوٹرون کی سہولت

جگر انسانی جسم کا ایک اہم ترین اور فعال ترین عضو ہے جگر کی بیماری ہمارے ملک میں عام ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

لاہور:
ایکسپریس میں دو ایسی اہم خبریں لگی ہیں جن کا جائزہ لینا میرے خیال میں ضروری ہے یہ دونوں خبریں میڈیکل کے شعبے سے متعلق ہیں۔ ایک خبر کے مطابق 14مئی کو ڈاؤ یونیورسٹی میں جگر کی تبدیلی کا ایک کامیاب آپریشن کیا گیا جو10 گھنٹوں پر مشتمل تھا، اس آپریشن کی نگرانی کے لیے برادر ملک ترکی سے متعلقہ شعبے کے ماہر ڈاکٹروں کی اعانت مانگی گئی تھی لیکن چونکہ اپنی مصروفیات کی وجہ سے ترکی کے ڈاکٹر پاکستان نہیں آسکتے تھے لہٰذا ڈاؤ کی انتظامیہ نے بھارت سے اس شعبے کے ماہرین کا تعاون طلب کیا اور ڈاکٹر گپتا کی ٹیم اس آپریشن میں شرکت کے لیے پاکستان آئی اور 14 مئی کو یہ آپریشن ڈاؤ یونیورسٹی میں کیا گیا۔ اس حوالے سے دوسرا آپریشن 15 مئی کو ڈاؤ یونیورسٹی میں کیا گیا اور تیسرا آپریشن 16 مئی کو ہوا۔

جگر انسانی جسم کا ایک اہم ترین اور فعال ترین عضو ہے جگر کی بیماری ہمارے ملک میں عام ہے اور اس بیماری میں لاکھوں لوگ مبتلا ہیں چونکہ اس سے قبل جگر کی تبدیلی کی سہولتیں نہیں تھیں۔ اس لیے جگر کے مریض عموماً اپنے علاج کے لیے بھارت کا رخ کرتے تھے، یہ علاج چونکہ بہت مہنگا ہے اس لیے غریب آدمی اس کا متحمل نہیں ہوسکتا اور امیر آدمی بھارت ہی نہیں کسی بھی مغربی ملک میں اپنا علاج آسانی سے کرا لیتے ہیں۔

اس حوالے سے صورتحال یہ ہے کہ ہماری ایلیٹ نزلہ زکام اور دل کی دھڑکن میں کمی بیشی کے علاج کے لیے امریکا اور یورپ کے ملکوں میں جاتی ہے اور ہمارا حکمران طبقہ چھوٹی چھوٹی بیماریوں کے علاج اور تشخیص کے لیے عوام کا لاکھوں روپیہ برباد کرکے اپنے ذہن کو مطمئن کرلیتا ہے جب کہ اس بہت ساری بیماریوں کا علاج ہمارے ملک میں موجود ہے لیکن ہماری ایلیٹ کو نہ یہاں کے علاج پر بھروسہ ہوتا ہے نہ ماہر ڈاکٹروں کی صلاحیتوں پر اعتماد جب کہ غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لاکھوں مریض اس ملکی علاج سے بھی اس لیے محروم رہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں اسپتالوں اور ماہر ڈاکٹروں کی تعداد ہماری ضرورت سے بہت کم ہے۔

مغربی میڈیا میں شایع ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق ہر سال لاکھوں پاکستانی طبی سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے موت کا شکار ہوتے ہیں اور اس طبقاتی ناانصافی کو خدا کی مرضی کا نام دے کر خود کو مطمئن کرلیتے ہیں۔ جگر انسانی جسم کو خون فراہم کرنے والا ایک ایسا اہم عضو ہے جس کی دیکھ بھال جس کا خیال رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے لیکن جس ملک میں 53 فیصد آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہی ہو اس ملک کے عوام اپنی صحت کا خیال کیسے رکھ سکتے ہیں؟


جگر، دل، گردوں کی تبدیلی ہمارے میڈیکل شعبے کی ایسی کامیابیاں ہیں جس کا ماضی میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا لیکن اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ ان بیماریوں کا علاج اس قدر مہنگا ہے کہ عام آدمی 30-20 لاکھ کے خرچے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ مغربی ملکوں بلکہ اکثر پسماندہ ملکوں میں بھی مریضوں کا علاج مفت کیا جاتا ہے خواہ اس پر کتنا ہی خرچ کیوں نہ آئے لیکن پاکستان پسماندہ ملکوں کا غالباً واحد ملک ہے جہاں علاج اور تعلیم جیسی بنیادی اور لازمی ضرورتوں پر بجٹ کا بھی 2.3 فیصد حصہ رکھا جاتا ہے۔ ڈاؤ یونیورسٹی میں جگر کی تبدیلی ایک اچھا اقدام ہے لیکن کیا یہ سہولت عام غریب آدمی کو بھی حاصل ہوسکتی ہے یا اس کا حق صرف امرا کو ہی حاصل ہے۔ جب تک اس قسم کے علاج کی سہولت عام آدمی کو حاصل نہ ہو اس علاج کی حیثیت پروپیگنڈ اور فریب کے علاوہ کچھ نہیں۔

اس حوالے سے دوسری اہم خبر یہ ہے کہ 200 ملین لاگت سے جناح اسپتال میں ایک سائیکلوٹرون یونٹ قائم کیا جا رہا ہے جس سے کینسر کے مرض کی آسانی سے تشخیص ہوجائے گی ۔کینسر وہ موذی مرض ہے جس کے نام ہی سے انسان خوفزدہ ہوجاتا ہے کیونکہ میڈیکل سائنس کی ناقابل یقین ترقی کے باوجود اب تک کینسر کا حتمی علاج دریافت نہیں کیا جاسکا البتہ یہ امید رہتی ہے کہ اس بیماری کی ابتدا ہی میں تشخیص ہوجائے تو اس کا علاج ممکن ہوسکتا ہے۔

جناح اسپتال میں 200 ملین کی لاگت سے جو سائیکلوٹرون یونٹ لگایا جا رہا ہے، اس کی افادیت سے انکار ممکن نہیں کیونکہ اس کے ذریعے کینسر کی تشخیص آسانی سے ہوسکتی ہے خواہ کینسر جسم کے کسی حصے میں ہو لیکن اس حوالے سے اصل مسئلہ یہ ہے کہ لاکھوں لوگ اس موذی مرض میں مبتلا ہیں جن میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو اس مرض کا علاج کرانے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ اسی تناظر میں کیا جناح اسپتال میں لگایا جانے والا یہ یونٹ ہماری ضرورتوں کو پورا کرسکتا ہے۔

کراچی کی آبادی دو کروڑ ہے اور امکان ہے کہ یہاں لاکھوں نہ سہی ہزاروں لوگ اس موذی مرض میں مبتلا ہوں گے۔ گورنر سندھ عشرت العباد نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی کے صرف دو پرائیویٹ اسپتالوں میں یہ مشین موجود ہے اور یقینا ان اسپتالوں میں اس مشین سے تشخیص کے اخراجات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوں گے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر بڑے شہر میں سائیکلوٹرون لگائے جائیں اور تشخیص کے بعد عوام کو علاج کی مفت سہولیات بھی فراہم کی جائیں ورنہ ایک سائیکلوٹرون صرف محدود لوگوں ہی کی ضرورت پوری کرسکے گا اور کراچی سے دور رہنے والوں کے لیے یہاں آنے اور اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے مواقعے محدود ہوجائیں گے۔ عشرت العباد فلاحی کاموں میں ہمیشہ دلچسپی لیتے ہیں اگر سندھ کے بڑے شہروں میں یہ سہولت ممکن ہے تو اس کا اہتمام ہونا چاہیے۔
Load Next Story