ایوان کا وقار اور احترام ہے کہاں

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کی مشترکہ تعداد حکمران جماعت سے بہت زیادہ کم نہیں

KARACHI:
ملک کی پارلیمانی جمہوریت میں اپوزیشن اور خاص طور پر حکمران پارٹی کے رہنما پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی اہمیت کا ذکر کرتے نہیں تھکتے اور حکومت کو سیاسی بحران کے موقعے پر تو پارلیمنٹ کی اہمیت خصوصی طور پر یاد آتی ہے۔ حکومت سے ناراضگی یا مسائل کے حل نہ ہونے پر اپوزیشن کے پاس پارلیمنٹ کے اجلاسوں سے احتجاجاً واک آؤٹ یا بائیکاٹ کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ کسی وجہ سے اپوزیشن ایوان سے واک آؤٹ کر جاتی ہے تو اسپیکر اور چیئرمین ناراض ارکان کو منانے کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے وزرا کو یا سینیٹ کے ایوان سے قائد ایوان کو بھیجتے ہیں تو کبھی ناراض ارکان واپس آجاتے ہیں یا گھر چلے جاتے ہیں۔

حکومت کے ایوان میں جب حکومتی ارکان زیادہ تعداد میں ہوں اور حکومت کو اپنی مرضی کے فیصلے ایوان سے لینے ہوں تو حکومت اپوزیشن کی بھی پروا نہیں کرتی اور ناراض ارکان کو منانے کی کوشش نہیں کی جاتی اور حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ اپوزیشن کی غیر حاضری میں اپنی اکثریت کے زور پر من مانے فیصلے کرا لیے جائیں تاکہ انھیں حکومت کی من مانیوں کو تسلیم کرانے میں کوئی دشواری نہ ہو۔

یہ بھی اکثر ہوتا آرہا ہے کہ ایوان میں حکومتی ارکان اپوزیشن سے کم ہوں تب بھی اپنے اسپیکر کی ملی بھگت سے بل منظور کرانے کے لیے فیصلہ لے لیا جاتا ہے خواہ اپوزیشن مخالفت میں شور مچاتی رہے کہ اپوزیشن ممبران کی تعداد زیادہ اور حکومتی ارکان کی تعداد کم ہے مگر اسپیکر اپوزیشن کا موقف تسلیم کرتے ہیں نہ اپوزیشن کے مطالبے پر ایوان میں ووٹنگ کراتے ہیں اور حکومتی بل منظور ہوجانے کا فیصلہ صادر کردیتے ہیں ۔جس پر شورو غل کرکے اپوزیشن ارکان واک آوٹ کرجاتے ہیں جس سے حکومت کو اور فائدہ مل جاتا ہے۔

ایسا معاملہ سندھ اسمبلی میں متعدد بار ہوچکا ہے۔ حکومت کو اپنی مرضی کا فیصلہ لینا ہو تو اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر سے کرائی جاتی ہے جو کسٹوڈین کی بجائے پارٹی بن جاتی ہیں۔ خاص طور پر متحدہ کے ارکان اور فنکشنل لیگ کی ایک خاتون رکن کی تو اکثر ایسے موقعے پر ڈپٹی اسپیکر سے تکرار ہوجاتی ہے جس کے بعد معاملہ ٹھنڈا کرنے کے لیے اسپیکر خود آکر نشست سنبھال لیتے ہیں اور اپوزیشن صرف احتجاج کرتے رہ جاتی ہے۔ ایسا قومی اسمبلی سمیت دیگر اسمبلیوں میں ہوتا رہتا ہے اور اس کو جمہوریت کا حسن کہا جاتا ہے۔

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کی مشترکہ تعداد حکمران جماعت سے بہت زیادہ کم نہیں، جیسے کہ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں ہے جہاں مسلم لیگ (ن) کی واضح اکثریت ہے مگر بعض دفعہ اکثریت پارٹی کورم بھی پورا نہیں کر پاتی۔ بلوچستان اور کے پی کے میں مخلوط حکومتیں ہیں، جہاں اپوزیشن بھی کمزور نہیں مگر اسپیکر حکمران پارٹی کے ہیں جو ہر حال میں حکمران جماعت کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہ بھی ہوچکا ہے کہ اسمبلیوں میں حکومت کو مرضی کے فیصلے کرانے کے لیے مطلوبہ تعداد نہ ملے اور اسے شکست ہوجائے ایسا اگرچہ کم ہوتا ہے مگر اسپیکر اجلاس ملتوی کرکے یا حکومتی ارکان کی تعداد زیادہ ظاہرکرکے اپنی حکومت کو شکست سے بچا لیتے ہیں۔

اسمبلیوں میں ارکان کی اکثریت غیر حاضر ہوتی ہے جو کہ ہر ایوان کا مسئلہ ہے حالانکہ ارکان ایوان کے باہر یا دارالحکومت میں موجود ہوتے ہوئے بھی ایوان میں نہیں آتے۔ گھنٹیاں بجتی رہتی ہیں اور اجلاس ملتوی کردیے جاتے ہیں جب کہ ارکان ایوان میں آکر حاضری لگا کر چلے جاتے ہیں اور اپنی تنخواہ اور الاؤنس پکے کر جاتے ہیں۔


قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے یہ وہ ایوان ہیں جہاں آنے کے لیے پارٹیاں اور اصول تبدیل اور سیاسی وفاداریاں تبدیل کی جاتی ہیں۔ منتخب ہونے کے لیے کروڑوں روپے تک خرچ کیے جاتے ہیں۔ پارٹی کے ٹکٹ لینے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا جاتا۔ دھاندلیاں کرائی جاتی ہیں الیکشن میں ہنگامے اور خونریزی کرائی جاتی ہے تب کہیں آکر ایوان میں آنا ان کا مقدر بنتا ہے۔

حلف برداری کے موقعے پر نو منتخب ارکان فخریہ طور پر ایوان میں آتے۔ ایوان کے احترام اور وقار برقرار رکھنے کا عہد کرتے ہیں مگر جلد ہی یہ عہد بھلا دیے جاتے ہیں اور کابینہ میں آنے کی کوششیں شروع ہوجاتی ہیں اور ہر اسمبلی بلوچستان اسمبلی تو ہوتی نہیں کہ ہر رکن کو کوئی عہدہ مل جائے۔

وزارتیں اور پارلیمانی عہدے کم اور امیدوار زیادہ ہوتے ہیں اور عہدوں کے حصول میں ناکام ہوکر مایوس ہونے والے اسمبلی رکنیت کو عہدہ نہیں سمجھتے حالانکہ اسمبلی کا رکن ہونا ہی اعزاز ہوتا ہے اور اسی ایوان کے لیے وہ منتخب ہوتے ہیں تاکہ وہاں آکر قانون سازی کریں مگر انھیں قانون سازی سے زیادہ مفادات عزیز ہوجاتے ہیں اور وہ سرکاری اخراجات پر آتے تو اسمبلیوں کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے ہیں مگر آنے کے بعد ان کا زیادہ وقت حاضری لگانے کے بعد سرکاری دفاتر میں وزیروں اور اعلیٰ سرکاری افسروں سے ملنے ملانے، درخواستوں پر دستخط کرانے میں گزرتا رہتا ہے اور ایوانوں میں ان کا انتظار ہوتا رہتا ہے اور بعض دفعہ ارکان کی حاضری شرمناک حد تک کم ہونے سے کورم تک پورا نہیں ہوتا جو اصولی طور پر ایوان کی تعداد کا نصف تو ہونا چاہیے جو دس فیصد بھی نہیں ہوتا اور کورم کے بغیر کارروائی جاری رکھ کر اقلیتی فیصلے عوام پر مسلط کردیے جاتے ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے ممبران کی تعداد 341 ہے اور پنجاب اسمبلی کے ایک اجلاس میں صرف 20 ممبر موجود اور 94 فیصد غیر حاضر تھے اور اجلاس میں زرعی معاملات پر بحث ہونا تھی۔ سندھ اسمبلی کے اسپیکر متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ارکان کبھی وقت پر نہیں آتے تو اجلاس کیسے ہوسکتا ہے کئی بار رولنگ دے چکا ہوں کبھی اجلاس وقت پر شروع نہیں ہوتا اگر کبھی اجلاس وقت پر شروع ہوا تو بکرا صدقہ کروں گا۔

ملک کی ہر اسمبلی کا حال خراب ہے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والی قومی اسمبلی کا تو یہ حال ہے کہ (ن) لیگ کی حکومت نے پہلی بار تین سال مکمل کرلیے ہیں مگر گزشتہ دنوں ارکان اسمبلی کی اجلاس میں شرکت کے جو اعداد وشمار میڈیا پر آئے ہیں اس کے بعد کیا یہ ثابت نہیں ہوجاتا کہ یہ ممبران سے خالی اسمبلیاں ملک و قوم پر بوجھ اور وقت اور قومی دولت کا ضیاع ہیں جہاں ارکان تو کیا وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزرا آنا پسند نہیں کرتے۔ یہ تعداد کس قدر حیرت انگیز ہے کہ تین سالوں میں 306 اجلاسوں میں وزیراعظم صرف 55 بار ایوان میں آئے اور جمہوریت اور انصاف کے دعویدار عمران خان صرف 16 بار ایوان میں آئے ہیں۔

جس ایوان کے تقدس اور احترام کی باتیں کی جاتی ہیں وہ صرف سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ہیں اور اس سلسلے میں وزیر اعظم کی پارلیمنٹ سے طویل عرصے تک غیر حاضری اور صرف خاص موقع پر ایوان میں آنا ، ان کے وزیروں اور ممبران نے بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ کو نظرانداز کر رکھا ہے اور مطلب کے بغیر ایوان میں آنا انھیں گوارا نہیں اور اگر تنخواہ اور مراعات بڑھوانی ہوں تو حکومتی اور اپوزیشن ارکان سب ایک آواز ہوجاتے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے درست کہا ہے کہ سیاستدان اپنے اختلافات پارلیمنٹ میں طے کریں اور احتساب کے لیے ایسا ادارہ بنانا چاہیے جو اسی پارلیمنٹ کی منظوری سے وجود میں آئے اور تمام سیاسی جماعتوں کوکسی تھرڈ امپائر کی طرف دیکھنا نہیں چاہیے کیونکہ پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ تو کہی جاتی ہے مگر ارکان پارلیمنٹ اس کو نظرانداز کرتے ہیں اور پارلیمنٹ سے غیر حاضر رہنا اور اس کے تقدس کا خیال نہ رکھنا ارکان کی اکثریت نے اپنا وتیرہ بنا رکھا ہے جو نہایت ہی افسوسناک ہے۔
Load Next Story