فوجی ٹریننگ نے کرکٹرز کو سخت جان بنا دیا فٹنس میں نمایاں بہتری

کندھے اور کلائیاں مضبوط بنانےکیلیےبھاری شہتیراٹھاکرکسرت، بیس بال طرز کی فیلڈنگ پریکٹس سے جسمانی لچک میں اضافے پرکام

کندھے اور کلائیاں مضبوط بنانےکیلیےبھاری شہتیراٹھاکرکسرت، بیس بال طرز کی فیلڈنگ پریکٹس سے جسمانی لچک میں اضافے پرکام۔ فوٹو: پی سی بی

فوجی ٹریننگ نے کرکٹرز کو سخت جان بنا دیا، فٹنس میں نمایاں بہتری آ گئی، کاکول اکیڈمی میں روڈ اسپرنٹ میں ہمت آزمائی کے بعد ہر پلیئر کا وقت نوٹ کیا گیا، کندھے اور کلائیاں مضبوط بنانے کیلیے بھاری شہتیر اٹھواکر کسرت کرائی گئی۔

تفصیلات کے مطابق فٹنس مسائل سے پریشان پی سی بی نے اس کیخلاف فوجی آپریشن کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے قومی کرکٹرز کوکاکول میں پاکستان ملٹری اکیڈمی بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا، دورئہ انگلینڈ کیلیے منتخب ممکنہ کھلاڑیوں کا بوٹ کیمپ پاکستان آرمی کے ٹرینرز کی زیر نگرانی جاری ہے،وقت گزرنے کیساتھ اب مشقوں میں تیزی آ چکی، پہلے مرحلے میں اسٹیمنا بڑھانے کے بعد پیر کو روڈ اسپرنٹ میں ہمت کی آزمائش ہوئی، ایونٹ میں ہر کرکٹر کا وقت نوٹ کرتے ہوئے اندازہ کیا گیا کہ فٹنس میں کس حد تک بہتری آئی ہے۔


ایک بھاری شہتیر قطار کے اندر کھڑے کھلاڑیوں کو اٹھوا کر کندھے اور کلائیاں مضبوط بنانے کیلیے طویل کسرت کرائی گئی، بیس بال طرز پر فیلڈرز کو ایک دائرے میں کھڑے کرکے جسمانی لچک اور مستعدی میں اضافے کیلیے کام کیا گیا، کرکٹرز کو کیمپ کے بعد بھی فٹنس بہتر رکھنے کے طریقوں پر لیکچر دیا گیا۔ دریں اثنا اپنے ویڈیو پیغام میں یونس نے کہاکہ کاکول اکیڈمی آئے تو کرکٹرز کسی حد تک پریشان اور ان کے ذہنوں میں کئی سوالات موجود تھے کہ کیمپ کس طرح ہوگا، کتنی سخت ٹریننگ سے تمام کرکٹرز کو گزارا جائیگا؟ میں پہلے بھی 2بار کاکول کیمپ میں شریک ہوچکا لیکن اس بار کیا پلان ہوگا مجھے بھی اندازہ نہیں تھا۔

اس میں شک نہیں کہ فٹنس کیلیے کھلاڑیوں کو پہلے روز سے ہی سخت محنت کرنا پڑی لیکن اس سے بے پناہ فائدہ ہوا اور مسائل میں خاصی بہتری آئی ہے،انھوں نے کہا کہ آرمی کی مدد سے اس ٹریننگ کے مثبت نتائج حاصل ہوئے، ہمیں ٹرینرزکی طرف سے بڑی عزت بھی دی گئی، سینئر بیٹسمین نے کہا کہ آرمی کے فٹنس کیمپ کا دل سے قائل ہوگیا، یہاں جس انداز میں ٹرینرز نے کھلاڑیوں کی فٹنس میں بہتری کیلیے کام کیا اس کے بعد سوچتا ہوں کہ کاش نوجوانی میں یہاں آکر اس طرح کے کیمپس اور ٹریننگ میں شریک ہوتا تو آج سے کہیں زیادہ فٹ ہوتا، انھوں نے کہا کہ ہمیں کیمپ سے بہت کچھ حاصل ہوا،اب میدان میں اپنی بہترین کوشش کرتے ہوئے آرمی اور ٹرینرز کا وقار مجروح نہیں ہونے دینگے۔

ایک کھلاڑی اور ٹیم کے طور پر پرستاروں کی توقعات پر پورا اترنے کیلیے جان لڑائینگے۔ قومی ٹی20 کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ کیمپ کے پہلے چند روز سخت ضرور تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بہتری آ گئی اور اب کھلاڑی مشقوں سے لطف اندوز ہورہے ہیں، تمام کرکٹرز نے اس ٹریننگ سے بھرپور فائدہ اٹھایا، نتیجے میں فٹنس میں نمایاں فرق محسوس ہوگا، پاکستان آرمی کے ٹرینرز نے تمام کھلاڑیوں پر بہت زیادہ توجہ دی اور بنیادی باتیں سکھائی ہیں، اگر انھیں کام میں لاتے ہوئے محنت کو معمول بنایا تو مستقبل کیلیے بڑی سود مند ثابت ہوں گی۔
Load Next Story