کمرشل سڑکوں پر رہائشی عمارتوں میں تجارتی سرگرمیوں کا نوٹس

ایسی عمارتوں کو سیل کردیا جائیگا،اراضی کی لیز منسوخ کرنے کیلیے متعلقہ محکموں کو خط ارسال کیے جائیں گے، ذرائع.

بلدیہ عظمیٰ کے محکمہ ماسٹر پلان نے پہلے مرحلے میں43 عمارتوں کی فہرست تیار کرلی، فائنل نوٹس بھی جاری کردیے گئے

بلدیہ عظمیٰ کے ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ نے کمرشل قرار دی گئی شاہراہوں پر رہائشی عمارتوں کی حیثیت تبدیل کیے بغیر تجارتی بنیادوں پر استعمال کا نوٹس لیتے ہوئے ایسی عمارتوں کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جبکہ اس اراضی کی لیز منسوخ کرنے کیلیے متعلقہ محکموں کو خط بھی ارسال کیے جائیں گے، باخبر ذرائع نے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ کے محکمہ ماسٹر پلان نے ایسی عمارتوں کے خلاف آپریشن کی حکمت عملی تیار کرلی ہے جو عمارتیں بلدیہ عظمیٰ کی طرف سے کمرشل قرار دی گئی شاہراہوں پر قائم ہیں تاہم ان عمارتوں کی قوائد کے تحت حیثیت تبدیل کرائے بغیر رہائشی ہونے کے باوجود کمرشل بنیادوں پر استعمال جاری ہیں اور ان عمارتوں میں شادی ہال ، اسپتال ، تعلیمی ادارے ، بینک ، ریسٹورنٹس سمیت دیگر تجارتی دفاتر قائم ہیں۔


ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں بلدیہ عظمیٰ کے محکمہ ماسٹر پلان نے 43 عمارتوں کی فہرست پہلے مرحلے میں تیار کی ہے جن کو فائنل نوٹس جاری کردیے گئے ہیں کہ فوری طور پر وہ بلدیہ عظمیٰ سے رابطہ کرکے اپنی عمارتوں کی حیثیت کو قانون کے دائرے میں لے آئیں تاہم اگر اس کے باوجود ان عمارتوں کے مالکان بلدیہ عظمیٰ کے نوٹس کو کسی خاطر میں نہیں لائے تو ان کے خلاف باضابطہ کارروائی کا آغاز کردیا جائے گا زرائع نے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ نے اپنی تقریباً 22سڑکوں کو کمرشل قرار دیدیا ہے اور ان شاہراہوں پر تجارتی سرگرمیوں کی مکمل آزادی ہے.

تاہم اس سلسلے میں عمارتوں کا اسٹیٹس تبدیل کرانا ضروری ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ ان شاہراہوں پر سیکڑوں کی تعداد میں عمارتیں جنکی حیثیت تبدیل نہیں ہوئی تاہم پہلے مرحلے میں 43عمارتوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے، ذرائع نے بتایا کہ ماسٹر پلان کی طرف سے جاری کردہ حتمی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ نہ صرف عمارتوں کو سیل کردیا جائے گا بلکہ اس علاقے میں جس محکمے کا لینڈ کنٹرول ہوگا اس محکمے کو ان عمارتوں کی لیز منسوخ کرنے کے خطوط بھی ارسال کیے جائیں گے، ذرائع نے بتایا کہ عمارتوں کے خلاف کارروائی پولیس اور رینجرز کے تعاون سے کی جائے گی ۔
Load Next Story