دہشت گردوں نے وکلا کے قتل کی منصوبہ بندی کر لی گرفتار ملزم کا انکشاف
پہلے مرحلے پر سرکاری وکلاکو نشانہ بنایا جائے گا، ایک وکیل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی،گولی چیمبر میں پھنس گئی،ملزم.
پہلے مرحلے پر سرکاری وکلاکو نشانہ بنایا جائے گا، ایک وکیل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی،گولی چیمبر میں پھنس گئی،ملزم. فوٹو: فائل
دہشت گردوں نے وکلا کے قتل کی منصوبہ بندی کرلی ، پہلے مرحلے پر انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوںمیں تعینات سرکاری وکلا کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ایک پراسیکیوٹر پر پہلے بھی حملہ کیا گیا لیکن رائفل کے چیمبر میں گولی پھنس جانے سے کامیابی نہیں ہوئی، یہ انکشاف 31 اکتوبر کو گرفتار ہونیوالے کالعدم لشکر جھنگوی کے رکن قاسم رشید نے سی آئی ڈی کو دوران تفتیش کیا، قاسم رشید نے دوران تفتیش بتایا کہ ٹاپ لسٹ میں جس وکیل کو رکھا گیا ہے وہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں تعینات ہے اور تنظیم کے گرفتار کیے گئے کارکنوں کی رہائی میں بڑی رکاوٹ ہے، یہ وکیل مقدمات باقاعدگی سے چلاتا ہے اور طویل التواکی مخالفت کرتا ہے، اس کے علاوہ دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث ملزم منتظر مہدی کے وکیل کا نام بھی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہے، واضح رہے کہ قاسم رشید متحدہ قومی موومنٹ کے رکن صوبائی اسمبلی ذوالفقار حیدر، ڈی ایس پی عبدالرزاق عباسی ، اے ایس پی مسعود اور وکلا سمیت 34افراد کے قتل کا اعتراف کرچکا ہے۔
سی آئی ڈی کے مطابق مذکورہ دہشت گردوں کی لسٹ میں سر فہرست وکیل حساس اور ہائی پروفائل مقدمات کی پیروی کررہا ہے اس لیے اس کے حفاظتی انتظامات میں اضافہ کیا جائے، ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم نے اس ضمن میں ایڈیشنل سیکریٹری ہوم، پراسیکیوٹر جنرل سندھ،آئی جی سندھ ، وزارت قانون اوردیگر کو مراسلے روانہ کردیے ہیں، واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے مطابق ان خصوصی عدالتوں میں فرائض انجام دینے والے ججوں اور سرکاری وکلا کو حفاظت کے لیے پولیس موبائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے لیکن وکلا کو یہ سہولت فراہم نہیں کی گئی۔
ایک پراسیکیوٹر پر پہلے بھی حملہ کیا گیا لیکن رائفل کے چیمبر میں گولی پھنس جانے سے کامیابی نہیں ہوئی، یہ انکشاف 31 اکتوبر کو گرفتار ہونیوالے کالعدم لشکر جھنگوی کے رکن قاسم رشید نے سی آئی ڈی کو دوران تفتیش کیا، قاسم رشید نے دوران تفتیش بتایا کہ ٹاپ لسٹ میں جس وکیل کو رکھا گیا ہے وہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں تعینات ہے اور تنظیم کے گرفتار کیے گئے کارکنوں کی رہائی میں بڑی رکاوٹ ہے، یہ وکیل مقدمات باقاعدگی سے چلاتا ہے اور طویل التواکی مخالفت کرتا ہے، اس کے علاوہ دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث ملزم منتظر مہدی کے وکیل کا نام بھی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہے، واضح رہے کہ قاسم رشید متحدہ قومی موومنٹ کے رکن صوبائی اسمبلی ذوالفقار حیدر، ڈی ایس پی عبدالرزاق عباسی ، اے ایس پی مسعود اور وکلا سمیت 34افراد کے قتل کا اعتراف کرچکا ہے۔
سی آئی ڈی کے مطابق مذکورہ دہشت گردوں کی لسٹ میں سر فہرست وکیل حساس اور ہائی پروفائل مقدمات کی پیروی کررہا ہے اس لیے اس کے حفاظتی انتظامات میں اضافہ کیا جائے، ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم نے اس ضمن میں ایڈیشنل سیکریٹری ہوم، پراسیکیوٹر جنرل سندھ،آئی جی سندھ ، وزارت قانون اوردیگر کو مراسلے روانہ کردیے ہیں، واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے مطابق ان خصوصی عدالتوں میں فرائض انجام دینے والے ججوں اور سرکاری وکلا کو حفاظت کے لیے پولیس موبائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے لیکن وکلا کو یہ سہولت فراہم نہیں کی گئی۔