سانحہ بلدیہ فیکٹری مالکان کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

پولیس زبردستی ملوث کررہی ہے،گواہوں پر دبائو ڈالا گیا،عدالت عالیہ میں درخواست.

پولیس زبردستی ملوث کررہی ہے،گواہوں پر دبائو ڈالا گیا،عدالت عالیہ میں درخواست. فوٹو : اے ایف پی/ فائل

ISLAMABAD:
سندھ ہائیکورٹ نے بلدیہ ٹائون میں سانحے کا شکار ہونیوالی گارمنٹس فیکٹری علی انٹرپرائزز کے مالکان شاہد بھائیلہ اور ارشد بھائیلہ کی درخواست ضمانت پر 22 نومبر کے لیے پراسیکیوٹر جنرل اور متاثرین کے وکلا کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔


جبکہ دوسرے بینچ نے فیکٹری مالکان کواثاثہ جات کی تفصیلات جمع کرانے کیلیے 4 دن کی مہلت دیتے ہوئے سماعت 26 نومبرتک ملتوی کردی ہے، دائر درخواست ضمانت میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ شاہد بھائیلہ اور ارشد بھائیلہ دونوں بے قصور ہیں،گارمنٹس فیکٹری ایک اثاثہ تھی اسے جلانے اور اس کے نتیجے میں ہونیوالے نقصانات کا مالکان تصور بھی نہیں کرسکتے ، یہ توخود سانحہ کا شکار ہوئے ہیں لیکن پولیس انھیں زبردستی اس جر م میں ملوث کررہی ہے،گواہوں پر دبائو ڈالاگیا،اور ان سے بیانات لیے گئے جبکہ عدالت میں انھوںنے اصل صورتحال سے بھی آگاہ کیا لیکن ماتحت عدالت نے اس پہلو پر توجہ نہیں دی،حفیظہ سمیت تینوں ملزمان نے ماتحت عدالت کو بتایا تھا کہ ان سے دھوکے سے دستخط حاصل کیے گئے،وہ فیکٹری مالکان کو سانحہ کا ذمے دار نہیں سمجھتے،ماتحت عدالت نے گواہوں کے بیانات پر انحصار کیا لیکن تضاد کو نظرانداز کردیا۔

جسٹس حسن اظہر رضوی پر مشتمل سنگل بینچ نے وکیل کے دلائل کے بعد نوٹس جاری کردیے،دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے فیکٹری مالکان کے اثاثوں کی تفصیلات طلب کرنے سے متعلق پائلر کی درخواست پر فیکٹری مالکان کو 4 یوم کی مہلت دیتے ہوئے سماعت 26 نومبر کیلیے ملتوی کردی۔
Load Next Story