تھر کا دردناک منظر نامہ

رواں سال تھر میں مرنے والے بچوں کی تعداد 456 تک پہنچ چکی ہے

تیزہواؤں، اڑتی دھول نے تھری لوگوں کی زندگی میں مشکلات کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ مختلف دیہاتوں میں کنویں خشک ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ فوٹو: فائل

تھرپارکر میں مزید سات بچے جاں بحق ہوگئے، افسوسناک خبروں کا تسلسل جو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ صوبائی اوروفاقی حکومتوں نے چپ کر روزہ رکھ لیا ہے۔ تھرپارکر میں قحط سالی وغذائی قلت کے باعث مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوکر بچے موت کے منہ میں جا رہے ہیں ، جواضلاع زیادہ متاثر ہیں ،ان میں مٹھی، تحصیل نگرپارکر،اسلام کوٹ اور ڈیپلو شامل ہیں، رواں سال تھر میں مرنے والے بچوں کی تعداد 456 تک پہنچ چکی ہے جب کہ دو سو چالیس بچے نجی وسرکاری اسپتالوں میں موت وزیست کی کشمکش میں مبتلا ہیں ۔

تسلسل سے بچوں کے جاں بحق ہونے کے واقعات بعد تھرکمیشن بھی تشکیل دیا گیا تھا جس نے چارسو سے زائد صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ مرتب کی تھی، لیکن یہ رپورٹ ابھی تک سندھ کی صوبائی حکومت کی توجہ حاصل نہیں کرسکی ہے۔ صورتحال کا ایک اور نازک پہلو بھی ہے کہ خشک سالی کے باعث جانوروں کی بہت بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہرکیا جارہا ہے، حقیقی مسئلہ یہ ہے کہ تھرکے دیہی علاقوں میں صحت کی سہولتوں کا شدید فقدان ہے اور صوبائی حکومت نے تمام تراعلانات اور وعدوں کے باوجود صحت کی سہولتوں میں بہتری کے لیے اقدامات نہیں کیے ہیں جس کی بنیادی سسٹم کی خرابی اورکرپشن ہے ، جو ہمارے نظام کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے ۔


ان سطور کے ذریعے ہم سندھ حکومت کے اعلیٰ حکام اور کرتا دھرتا افراد سے یہی مطالبہ کرسکتے ہیں کہ حکومت تھرکے مسائل کو سنجیدگی کے ساتھ لے اور بچوں کی قیمتی جانیں بچانے کے لیے نہ صرف عملی اقدامات اٹھائے بلکہ تھرکمیشن کی رپورٹ کو بھی اہمیت دے اوراس میں موجود تجاویزکو عملی جامہ پہنائے ۔تھرکے صحرائی علاقے بھی موسمی تبدیلیوں کی زد میں ہے۔

تیزہواؤں، اڑتی دھول نے تھری لوگوں کی زندگی میں مشکلات کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ مختلف دیہاتوں میں کنویں خشک ہونا شروع ہوگئے ہیں۔صوبائی ووفاقی حکومتوں کے ساتھ سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں، انسانیت سے پیار ہمارے دین کا نصب العین ہے جیسے ہمیں ہرسطح پر اپنانا چاہیے ۔
Load Next Story