چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر

بھارت ، ایران اور افغانستان کے درمیان چاہ بہار کی اسٹریجک بندرگاہ کی تعمیر کے معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں

پاک چین اقتصادی راہداری کا بھی کسی گریٹ گیم سے کوئی تعلق نہیں، یہ پاکستان کی ترقی میں بحری گیٹ وے ثابت ہوگا۔ فوٹو : فائل

بھارت ، ایران اور افغانستان کے درمیان چاہ بہار کی اسٹریجک بندرگاہ کی تعمیر کے معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں، اس کے علاوہ انڈیا اور ایران میں ثقافتی تعاون ، سائنس اور ٹیکنالوجی، چاہ بہار اور زہدان کے درمیان ریلوے لائن بچھانے جیسے منصوبے سمیت بارہ معاہدے ہوئے ہیں۔

اس سہ فریقی ڈیل میں اگرچہ تجارتی اور صنعتی ترقی کو بنیاد بنایا گیا ہے لیکن تاریخی حقائق خطے میں ایک غیرمعمولی تجارتی پیراڈائم شفٹ کی عکاسی کرتے ہیں اور اس ضمن میں کسی اور کا حوالہ اتنا معتبر نہیں خود بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ چاہ بہار معاہدہ سے پاکستان کو ''بائی پاس'' کرتے ہوئے بھارت کو افغانستان اور یورپ تک تجارتی رسائی حاصل ہو جائے گی۔


یوں بھی چین کا راستہ روکنے اور اسے گوادر پورٹ کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتے دیکھتے ہوئے بھارت و افغانستان کے چاہ بہار بندرگاہ کی ترقی و توسیع میں دلچسپی کا ایک اور سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تینوں ملک گوادر پورٹ کے متبادل یا مقابل چاہ بہار کو ایک اسٹرٹیجک بندرگاہ کی حیثیت دینے پر متفق ہوگئے ہیں، تینوں ممالک کے درمیان دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے، منشیات کی اسمگلنگ اور انٹیلی جنس اطلاعات کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

معاہدے پر دستخط کے بعد تینوں سربراہان کی جانب سے مشترکہ پریس کانفرنس کی گئی جس میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی، افغان صدر اشرف غنی اور ایرانی صدر حسن روحانی نے خطاب کیا ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ان دنوں ایران کے دورے پر ہیں جہاں تہران میں ایرانی صدر حسن روحانی کی موجودگی میں دونوں ممالک کے درمیان متعدد معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جس میں چاہ بہار کی بندر گاہ کی تعمیر بھی شامل ہے۔ معاہدے کی رو سے بھارت اس منصوبے کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا اور اس کی تعمیر کے لیے فنی مہارت بھی فراہم کرے گا۔

بندرگاہ کی تعمیر کے ساتھ افغانستان کے راستے بھارتی اشیا اور تجارتی سامان چاہ بہار پہنچے گا اور وہاں سے باقی دنیا میں برآمد کیا جاسکے گا۔ دوسری جانب دہلی وسط ایشیا کی گیس اپنے ملک میں لانے کا خواہاں ہے اور اس کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جاریہ صدی اقتصادی استحکام کا ہے، تاہم بلوچستان سے متصل چاہ بہار پر بھارت و افغان حکومت کی دلچسپی اور اقتصادی معاہدے اگر پاکستان کو بائی پاس کرنے کی حکمت عملی ہے تو اسے خطے میں امن و مفاہمت اور اقتصادی اشتراک عمل کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ گوادر پورٹ پاکستان کی معاشی ضرورت اور گیم چینجر ہے، اسی طرح پاک چین اقتصادی راہداری کا بھی کسی گریٹ گیم سے کوئی تعلق نہیں، یہ پاکستان کی ترقی میں بحری گیٹ وے ثابت ہوگا۔
Load Next Story