کراچی کیسآئی جی اورچیف سیکریٹری کیخلاف توہین عدالت کی درخواست
سپریم کورٹ کے حکم پرتاحال عمل درآمد نہ ہوسکا،کارروائی کی جائے،حاجی عدیل کی استدعا
سپریم کورٹ کے حکم پرتاحال عمل درآمد نہ ہوسکا،کارروائی کی جائے،حاجی عدیل کی استدعا
کراچی بد امنی کیس میں سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پرسندھ پولیس کے سربراہ،چیف سیکریٹری اورہوم سیکریٹری سندھ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکردی گئی۔درخواست اے این پی کے سینیٹرحاجی عدیل نے سپریم کورٹ میں جمع کی ہے۔
جس میں موقف اپنایاگیا ہے کہ کراچی بدامنی کیس میںعدالت کے حکم پرتاحال عمل درآمد نہیں ہوسکا جس پرچیف سیکریٹری راجہ محمد عباس،ہوم سیکریٹری وسیم احمد اورآئی جی فیاض لغاری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی استدعاکی گئی ہے۔ درخواست میں کہاگیا ہے کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں مختلف آبزرویشنزدی تھیں، پولیس کوسیاسی مداخلت سے پاک کر نے غیرقانونی اسلحہ ضبط کرنے اور لائسنس یافتہ اسلحے کے لائسنس نادرا کے ذریعے رجسٹرڈکیے جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔اس کے علاوہ عدالت نے قبضہ مافیاکی کاروائیاں روکنے کے لیے قانون سازی کر نے،مرنے والوں کے ورثاکومعاوضہ کی ادائیگی کے لیے کمیشن قائم کرنے اورتمام معاملات کی تفتیش کے لیے غیرجانبدار اورغیرسیاسی افسران مقرر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
جبکہ گواہوں کو تحفظ فراہم کر نے کی بھی ہدایت کی گئی تھی اور آئی جی سندھ کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ 1992ئاور 96ئکے آپریشن کے دوران مرنے والے پولیس افسران اورگواہوں کا ریکارڈ اکٹھا کریں، مگر ان تمام عدالتی ہدایات پر کوئی عمل نہیں کیاگیا جوسپریم کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
جس میں موقف اپنایاگیا ہے کہ کراچی بدامنی کیس میںعدالت کے حکم پرتاحال عمل درآمد نہیں ہوسکا جس پرچیف سیکریٹری راجہ محمد عباس،ہوم سیکریٹری وسیم احمد اورآئی جی فیاض لغاری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی استدعاکی گئی ہے۔ درخواست میں کہاگیا ہے کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں مختلف آبزرویشنزدی تھیں، پولیس کوسیاسی مداخلت سے پاک کر نے غیرقانونی اسلحہ ضبط کرنے اور لائسنس یافتہ اسلحے کے لائسنس نادرا کے ذریعے رجسٹرڈکیے جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔اس کے علاوہ عدالت نے قبضہ مافیاکی کاروائیاں روکنے کے لیے قانون سازی کر نے،مرنے والوں کے ورثاکومعاوضہ کی ادائیگی کے لیے کمیشن قائم کرنے اورتمام معاملات کی تفتیش کے لیے غیرجانبدار اورغیرسیاسی افسران مقرر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
جبکہ گواہوں کو تحفظ فراہم کر نے کی بھی ہدایت کی گئی تھی اور آئی جی سندھ کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ 1992ئاور 96ئکے آپریشن کے دوران مرنے والے پولیس افسران اورگواہوں کا ریکارڈ اکٹھا کریں، مگر ان تمام عدالتی ہدایات پر کوئی عمل نہیں کیاگیا جوسپریم کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔