سینیٹ کراچی کو اسلحے سے پاک کرنیکی قرارداد منظور متحدہ

اعتزاز،ضیا نے اسلحہ پھیلایا،زاہد،نصیر بابر کے دور میں ماورائے عدالت قتل ہوئے،مصطفی کمال

22ویں ترمیم پرکمیٹی میںاتفاق نہیں ہوا،اتنی کیاجلدی ہے،ظفرعلیشاہ،اے این پی کے بھی تحفظات، اجلاس کے آغاز پرصرف7ارکان حاضرتھے فوٹو: فائل

سینیٹ میں پیر کے روزکراچی کو اسلحے سے پاک کرنے کیلیے موثر اقدامات کے بارے میں اے این پی کی قرارداد کثرت رائے سے منظورکرلی گئی،ایم کیو ایم نے قراردادکی مخالفت کی،دہری شہریت سے متعلق 22ویںآئینی ترمیمی بل پر قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف کی رپورٹ بھی ایوان میں پیش کردی گئی۔

مسلم لیگ (ن)اس پرشدیداحتجاج کرتے ہوئے واک آئوٹ کیا۔ اے این پی کے سینیٹر شاہی سیدکی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہاگیاکہ حکومت امن و امان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر کراچی کو اسلحے سے پاک کر نے کیلیے موثر اقدامات کرے، ایوان نے قرارداد کی کثرت رائے سے منظوری دی جبکہ ایم کیوایم کے ارکان نے مخالفت کی اور نو، نو کے نعرے لگائے۔ اے این پی کے پارلیمانی لیڈر حاجی عدیل نے قرارداد پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور رینجرز کراچی میں امن قائم کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں، نصیر اللہ بابر کے دور میں کامیاب آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس افسران کو چن چن کر قتل کیا گیا ہے،اس وقت کراچی میں لگی آگ بجھانے کی اشد ضرورت ہے،شہر کو اسلحہ سے پاک کرنے کیلئے آپریشن کیا جائے۔


سینیٹر کلثوم پروین نے کہاکہ پورے ملک میں اسلحہ کی اجازت نہیں ہونے چاہیے، صرف ارکان پارلیمنٹ اور ان کے خاندانوں کو تحفظ کے لیے لائسنس جاری کرنے چاہئیں۔ ن لیگ کے سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا کہ ڈی جی رینجرز نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو واضح طور پر بتایا ہے کہ کراچی میں 8 ہزار سے زائد لوگ اسلحہ رکھنے پر پکڑے گئے ہیں جنہیں سیاسی اثر و رسوخ پر چھڑا لیا گیا، اے این پی کے سینیٹر اعظم ہوتی نے کہا کہ کراچی کا مسئلہ تقریروں سے حل ہونیوالا مسئلہ نہیں،1992 کا آپریشن ایم کیو ایم کو ٹارگٹ کرنے کیلیے نہیں تھا، سینیٹر حاصل بزنجو نے کہا کہ کراچی میں 80 کی دہائی میں بندوقیں تب بھی چل رہی تھیں جب ایم کیو ایم نہیں تھی، تعلیمی اداروں میں جنرل ضیا نے جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے ذریعے بندوقیں متعارف کرائیں، پیپلزپارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ ہر قسم کے اسلحہ کی نمائش کو روکا جانا چاہیے۔

اے این پی کے سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ ضیاء الحق نے صرف کراچی نہیں پورے ملک میں اسلحہ پھیلایا۔ ایم کیوایم کے سینیٹر بابر غوری نے کہاکہ ہم گزشتہ3 سال سے ہم کہہ رہے ہیں کہ کراچی میں دہشتگرد آرہے ہیں مگر ہماری بات پر توجہ نہیں دی گئی ،اب طالبان بھی آگئے ہیں، صرف کراچی نہیں پورے ملک کو اسلحہ سے پاک کرنیکی قرارداد پیش کی جائے، متحدہ کے سینیٹر مصطفی کمال نے کہا کہ نصیر اللہ بابر کے دور میں کراچی میں ماورائے عدالت قتل کیے گئے، صرف کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنا مسئلے کا حل نہیں۔

قبل ازیں سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف کے چیئرمین سینیٹر کاظم نے دہری شہریت سے متعلق 22 ویں آئینی ترمیم پر کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کرنا چاہی جس پر ن لیگ کے سینیٹر ظفر علی شاہ نے کہا کہ 22 ویں آئینی ترمیم کیلیے بل پر کمیٹی میں اتفاق رائے نہیں ہوا، رپورٹ کمیٹی کی کارروائی کے برعکس ہے، دستور میں ترامیم اہم معاملہ ہے، نجی کارروائی کے دن معاملہ مکمل کرنے کی کیا جلدی ہے، قائد ایوان جہانگیربدر نے کہاکہ رپورٹ اب پیش ہوچکی ہے، اسے واپس نہیں لیا جاسکتا ، چیئرمین کی اجازت سے سینیٹر کاظم خان نے رپورٹ ایوان میں پیش کی تو ن لیگ کے ارکان ایوان سے واک آئوٹ کرگئے۔ مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق اجلاس شروع ہوا تو صرف 7 ارکان حاضر تھے۔

Recommended Stories

Load Next Story