روہنگیا مسلمانوں کو قومی دھارے میں شامل کیا جائےاوباما
روہنگیا مسلمانوں اور بودھ مذہب کے ماننے والوں کے درمیان نسلی تشدد کا کوئی جواز نہیں
ینگون: امریکی صدر اوباما میانمار کی اپوزیشن لیڈر آنگ سانگ سوچی سے ملاقات کررہے ہیں۔ فوٹو : اے ایف پی
امریکا کے صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ میانمار میں سیاسی اصلاحات کو یقینی بنانے کے لیے امریکا اپنی حمایت جاری رکھے گا۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ینگون میں خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ مغربی برما میں روہنگیا مسلمانوں اور بودھ مذہب کے ماننے والوں کے درمیان نسلی تشدد کا کوئی جواز نہیں ہے۔ صدر اوباما نے برما کی عوام سے اپیل کی کہ روہنگیا مسلمانوں کو ملک کے قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔ صدراوباما دوسری مدت کے لیے امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد پیر کو ایک تاریخی دورے پر میانمار پہنچے ہیں۔
یہ کسی بھی امریکی صدر کا دورِ اقتدار میں رہتے ہوئے میانمار کا پہلا دورہ ہے۔ اس دورے کا مقصد نومبر 2010 میں فوجی اقتدار کے خاتمے کے بعد میانمار کے صدر تھان سین کی طرف سے شروع کردہ اصلاحات کے عمل کی حمایت کا اظہار ہے۔ قبل ازیں میانمار کے صدر تھان سین سے ملاقات کے بعد صدراوباما کا کہنا تھا کہ میانمار میں کی گئی اصلاحات ایک طویل سفر کا نقطہ آغاز ہیں اور انھیں امید ہے کہ صدر تھان سین جمہوریت کی جانب سفر جاری رکھیں گے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ینگون میں خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ مغربی برما میں روہنگیا مسلمانوں اور بودھ مذہب کے ماننے والوں کے درمیان نسلی تشدد کا کوئی جواز نہیں ہے۔ صدر اوباما نے برما کی عوام سے اپیل کی کہ روہنگیا مسلمانوں کو ملک کے قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔ صدراوباما دوسری مدت کے لیے امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد پیر کو ایک تاریخی دورے پر میانمار پہنچے ہیں۔
یہ کسی بھی امریکی صدر کا دورِ اقتدار میں رہتے ہوئے میانمار کا پہلا دورہ ہے۔ اس دورے کا مقصد نومبر 2010 میں فوجی اقتدار کے خاتمے کے بعد میانمار کے صدر تھان سین کی طرف سے شروع کردہ اصلاحات کے عمل کی حمایت کا اظہار ہے۔ قبل ازیں میانمار کے صدر تھان سین سے ملاقات کے بعد صدراوباما کا کہنا تھا کہ میانمار میں کی گئی اصلاحات ایک طویل سفر کا نقطہ آغاز ہیں اور انھیں امید ہے کہ صدر تھان سین جمہوریت کی جانب سفر جاری رکھیں گے۔