پاکستان کی خودمختاری پر حملہ قبول نہیں
ڈرون حملے پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کے منافی ہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون کی بھی مکمل نفی ہیں
خطے میں امن کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔ اگر امن عمل مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے تو امریکا کو ڈرون حملوں سے گریز کرنا ہوگا۔ فوٹو؛ آئی این پی
امریکی ڈرون حملے میں افغان طالبان کے سربراہ ملااختر منصور کی ہلاکت کے بعد پاکستان کی خودمختاری اور جغرافیائی سرحدوں کی خلاف ورزی پر ملک بھر میں عوام و خواص سراپا احتجاج ہیں، نیز امریکی صدر بارک اوباما کے ڈرون حملے جاری رہنے کی دھمکی سے متعلق بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ امریکا کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ کوئی بھی قوم اپنی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرتی۔
وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا بالکل صائب ہے کہ ڈرون حملے کا امریکی جواز غیر قانونی، بلاجواز اور ناقابل قبول ہے، ڈرون حملے کا نشانہ کوئی بھی ہو اس کی شدید مذمت کرتے ہیں، امریکا فیصلہ کرلے کہ اس خطے میں کون سی پالیسی موثر اور روا رکھنی ہے۔پاکستان عرصے سے خطے میں امن و امان کی بحالی اور افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں میں سرگرداں ہے، جس کے بہتر نتائج سامنے آرہے تھے، لیکن مذکورہ واقعے کے بعد لگتا ہے جیسے امن عمل کی کوششوں کو دانستہ سبوتاژ کیا جارہا ہے۔
اگر امریکا کو فوجی آپشن کے ذریعے طالبان کو فتح کرنا تھا تو مذاکرات کرنے اور قطر میں طالبان کا دفتر کھولنے کا کوئی جواز نہیں، نیز ملامنصور امن میں رکاوٹ ہوتا تو مری مذاکرات کس طرح ہوتے۔ امریکی حکومت کا یہ کہنا کہ جو کوئی امریکا کے لیے خطرہ ہے، وہ جہاں بھی ہوگا اسے نشانہ بنائیں گے، یہ بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے، ہر ملک یہی قانون بنا لے تو یہ جنگل کا قانون ہوگا۔
ڈرون حملے پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کے منافی ہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون کی بھی مکمل نفی ہیں۔ پنجاب اسمبلی نے امریکا کی طرف سے پاکستان میں ڈرون حملے جاری رکھنے کے اعلان پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مذمتی قرارداد منظور کرلی ہے جب کہ مذہبی و سیاسی جماعتوں نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈرون حملوں اور امریکی صدر کے بیان کو پاکستان کی سالمیت و خودمختاری پر حملہ اور کھلا اعلان جنگ قرار دیا ہے۔ امریکا کا یہ کہنا کہ ڈرون حملے سے متعلق پاکستان کو پہلے ہی آگاہ کردیا تھا، بھی غلط ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ملا اختر منصور کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایران سے واپس آرہے تھے۔
یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایران نے افغان طالبان سے خفیہ تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔ برطانوی اخبار دی گارڈین نے پچھلے برس خبر دی تھی کہ طالبان وفد نے ایران کا خفیہ دورہ کیا، وہ گزشتہ برس بھی 2 مرتبہ ایران کا دورہ کرچکے تھے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے لکھا ہے کہ ایرانی حکام افغان طالبان کو تنخواہیں اور ہتھیار دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملا اخترمنصور علاج کے لیے ایران گئے اور انھوں نے قانونی طریقے سے باقاعدہ ویزا حاصل کیا اور اس کے لیے پاکستانی پاسپورٹ استعمال کیا۔
حادثے میں مکمل طور پر تباہ شدہ کار اور مسخ لاشوں کے پاس صحیح حالت میں پاسپورٹ کا ملنا بھی کئی سوال پیدا کر رہا ہے۔ اس جانب سے پہلوتہی نہیں برتنی چاہیے۔ عوام کا یہ سوال بھی اپنی جگہ برقرار ہے کہ ڈرون حملے صرف پاکستان ہی میں کیوں ہورہے ہیں؟ امریکا کو زمینی حقائق کا ادراک کرنا چاہیے، پاکستان کی خودمختاری پر حملہ کرکے وہ عوامی رائے کو اپنے خلاف کر رہا ہے۔ نیز خطے میں امن کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔ اگر امن عمل مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے تو امریکا کو ڈرون حملوں سے گریز کرنا ہوگا۔
وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا بالکل صائب ہے کہ ڈرون حملے کا امریکی جواز غیر قانونی، بلاجواز اور ناقابل قبول ہے، ڈرون حملے کا نشانہ کوئی بھی ہو اس کی شدید مذمت کرتے ہیں، امریکا فیصلہ کرلے کہ اس خطے میں کون سی پالیسی موثر اور روا رکھنی ہے۔پاکستان عرصے سے خطے میں امن و امان کی بحالی اور افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں میں سرگرداں ہے، جس کے بہتر نتائج سامنے آرہے تھے، لیکن مذکورہ واقعے کے بعد لگتا ہے جیسے امن عمل کی کوششوں کو دانستہ سبوتاژ کیا جارہا ہے۔
اگر امریکا کو فوجی آپشن کے ذریعے طالبان کو فتح کرنا تھا تو مذاکرات کرنے اور قطر میں طالبان کا دفتر کھولنے کا کوئی جواز نہیں، نیز ملامنصور امن میں رکاوٹ ہوتا تو مری مذاکرات کس طرح ہوتے۔ امریکی حکومت کا یہ کہنا کہ جو کوئی امریکا کے لیے خطرہ ہے، وہ جہاں بھی ہوگا اسے نشانہ بنائیں گے، یہ بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے، ہر ملک یہی قانون بنا لے تو یہ جنگل کا قانون ہوگا۔
ڈرون حملے پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کے منافی ہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون کی بھی مکمل نفی ہیں۔ پنجاب اسمبلی نے امریکا کی طرف سے پاکستان میں ڈرون حملے جاری رکھنے کے اعلان پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مذمتی قرارداد منظور کرلی ہے جب کہ مذہبی و سیاسی جماعتوں نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈرون حملوں اور امریکی صدر کے بیان کو پاکستان کی سالمیت و خودمختاری پر حملہ اور کھلا اعلان جنگ قرار دیا ہے۔ امریکا کا یہ کہنا کہ ڈرون حملے سے متعلق پاکستان کو پہلے ہی آگاہ کردیا تھا، بھی غلط ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ملا اختر منصور کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایران سے واپس آرہے تھے۔
یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایران نے افغان طالبان سے خفیہ تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔ برطانوی اخبار دی گارڈین نے پچھلے برس خبر دی تھی کہ طالبان وفد نے ایران کا خفیہ دورہ کیا، وہ گزشتہ برس بھی 2 مرتبہ ایران کا دورہ کرچکے تھے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے لکھا ہے کہ ایرانی حکام افغان طالبان کو تنخواہیں اور ہتھیار دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملا اخترمنصور علاج کے لیے ایران گئے اور انھوں نے قانونی طریقے سے باقاعدہ ویزا حاصل کیا اور اس کے لیے پاکستانی پاسپورٹ استعمال کیا۔
حادثے میں مکمل طور پر تباہ شدہ کار اور مسخ لاشوں کے پاس صحیح حالت میں پاسپورٹ کا ملنا بھی کئی سوال پیدا کر رہا ہے۔ اس جانب سے پہلوتہی نہیں برتنی چاہیے۔ عوام کا یہ سوال بھی اپنی جگہ برقرار ہے کہ ڈرون حملے صرف پاکستان ہی میں کیوں ہورہے ہیں؟ امریکا کو زمینی حقائق کا ادراک کرنا چاہیے، پاکستان کی خودمختاری پر حملہ کرکے وہ عوامی رائے کو اپنے خلاف کر رہا ہے۔ نیز خطے میں امن کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔ اگر امن عمل مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے تو امریکا کو ڈرون حملوں سے گریز کرنا ہوگا۔