ریکوڈک کیس ملکی قوانین کیخلاف عالمی معاہدے کو تحفظ حاصل نہیں سپریم کورٹ
کمپنی کادعویٰ مان لیںتوحکومت کے پاس صرف مچھلیاںپکڑنے کالائسنس رہ جائیگا،جسٹس عظمت،معاملہ اسمبلی میںجاناچاہیے تھا
صوبائی کابینہ یہ تودیکھ لیتی کہ صوبے کی دولت پرکیا معاہدہ ہورہاہے،ریمارکس،کینیڈین سفارتخانہ کے مطابق حکومت کوجرمانہ ہوگا،رضاکاظم فوٹو: فائل
سپریم کورٹ نے ریکوڈک معاہدے کے بارے میں شدیدتحفظات کا اظہارکیا ہے اورآبزرویشن دی ہے کہ بلوچستان حکومت کو معاملہ اسمبلی میں لے جانا چاہیے تھا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بلوچستان میں حکومت اورکابینہ موجودتھی وہ کم ازکم اس کو تو دیکھ لیتی کہ آخر صوبے کی دولت کے بارے میںکیامعاہدہ ہونے جا رہا ہے۔چیف جسٹس نے کہا حکومتیں آتی جاتی ہیں لیکن پالیسیاں باقی رہتی ہیں،پالیسیوں میںتسلسل ہونا چاہیے اور قومی مفاد ہر پالیسی کا محورہوناچاہیے۔ گزشتہ روز معاہدے کے خلاف درخواست گذارکے وکیل رضاکاظم نے عدالت کو بتایا کہ کینیڈین ہائی کمیشن کے مطابق ثالثی کی عالمی تاریخ کاسب سے بڑاجر مانہ حکومت پاکستان پر عائد ہونے والا ہے،انھوں نے بتایاکہ ثالثی ٹریبونل کافیصلہ 24نومبرکو متوقع ہے تاہم ٹریبونل میں حکومت کے وکیل احمر بلال صوفی نے کہا کہ فیصلہ آنے میں دو تین ہفتے لگیںگے۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کیا بلوچستان میںاس وقت کوئی حکومت یا کابینہ تھی جو دیکھ لیتی کہ اس کی دولت کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے۔
بلوچستان حکومت کو اپنے رویے پر غورکرنا چاہیے، سب کچھ اپنے ہاتھ سے دیا جا رہا ہے۔چیف جسٹس نے کہا تنازعات کے حل کیلیے ثالثی ٹریبونل کے مینڈیٹ اور معاہدے کی قانونی حیثیت کو دیکھا جائے گا۔عدالت نے سوال اٹھایا کہ جب حکومت اورکا بینہ موجود تھی تو معاہدے پر دستخط بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین نے کیسے کیے جس پر بتایا گیا کہ انہیں اختیارگورنر نے دیا تھا ۔چیف جسٹس نے کہا گورنرکو اختیارکیسے حاصل ہوا وہ ایسا نہیںکر سکتے تھے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت ملک کے اقتدار اعلیٰ کو دیکھ کر فیصلہ کرے گی۔جسٹس عظمت سعید نے سوال اٹھایا کہ جب ٹی تھیان نے دعویٰ دائرکیا توکیا جواب دیا گیا؟ عدالت کو بتایا گیا چونکہ معاملہ عدالت میں ہے اس لیے جواب نہیں دیا گیا۔ فاضل جج نے کہا کہ اگر ٹی تھیان کا دعویٰ مان لیا جائے تو پھر بلوچستان حکومت کے پاس صرف مچھلیاں پکڑنے کا لائسنس رہ جائے گا۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا اگرکوئی بین الاقوامی معاہدہ ملک کے قوانین کیخلاف ہے تو اسے تحفظ حاصل نہیں ہوتا،پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور اس کے ساتھ عالمی معاہدوں میں ملک کے قوانین کا پورا پورا خیال رکھنا چاہیے، این این آئی کے مطابق عدالت نے ریکوڈک کیس میں ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر سخت برہمی کا اظہارکیا۔ ٹی تھیان کے وکیل خالد انور نے کہا کہ ریکوڈک کان کی عمر 56سال ہے۔ اس سے 2.2ارب ٹن کاپرنکلے گا۔ معاہدہ 56ارب ڈالرکا تھا۔ بلوچستان حکومت کو13 ارب ڈالر جبکہ ٹی تھیان کمپنی کو11ارب ڈالر ملنے تھے۔مقدمے کی سماعت آج پھر ہوگی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بلوچستان میں حکومت اورکابینہ موجودتھی وہ کم ازکم اس کو تو دیکھ لیتی کہ آخر صوبے کی دولت کے بارے میںکیامعاہدہ ہونے جا رہا ہے۔چیف جسٹس نے کہا حکومتیں آتی جاتی ہیں لیکن پالیسیاں باقی رہتی ہیں،پالیسیوں میںتسلسل ہونا چاہیے اور قومی مفاد ہر پالیسی کا محورہوناچاہیے۔ گزشتہ روز معاہدے کے خلاف درخواست گذارکے وکیل رضاکاظم نے عدالت کو بتایا کہ کینیڈین ہائی کمیشن کے مطابق ثالثی کی عالمی تاریخ کاسب سے بڑاجر مانہ حکومت پاکستان پر عائد ہونے والا ہے،انھوں نے بتایاکہ ثالثی ٹریبونل کافیصلہ 24نومبرکو متوقع ہے تاہم ٹریبونل میں حکومت کے وکیل احمر بلال صوفی نے کہا کہ فیصلہ آنے میں دو تین ہفتے لگیںگے۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کیا بلوچستان میںاس وقت کوئی حکومت یا کابینہ تھی جو دیکھ لیتی کہ اس کی دولت کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے۔
بلوچستان حکومت کو اپنے رویے پر غورکرنا چاہیے، سب کچھ اپنے ہاتھ سے دیا جا رہا ہے۔چیف جسٹس نے کہا تنازعات کے حل کیلیے ثالثی ٹریبونل کے مینڈیٹ اور معاہدے کی قانونی حیثیت کو دیکھا جائے گا۔عدالت نے سوال اٹھایا کہ جب حکومت اورکا بینہ موجود تھی تو معاہدے پر دستخط بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین نے کیسے کیے جس پر بتایا گیا کہ انہیں اختیارگورنر نے دیا تھا ۔چیف جسٹس نے کہا گورنرکو اختیارکیسے حاصل ہوا وہ ایسا نہیںکر سکتے تھے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت ملک کے اقتدار اعلیٰ کو دیکھ کر فیصلہ کرے گی۔جسٹس عظمت سعید نے سوال اٹھایا کہ جب ٹی تھیان نے دعویٰ دائرکیا توکیا جواب دیا گیا؟ عدالت کو بتایا گیا چونکہ معاملہ عدالت میں ہے اس لیے جواب نہیں دیا گیا۔ فاضل جج نے کہا کہ اگر ٹی تھیان کا دعویٰ مان لیا جائے تو پھر بلوچستان حکومت کے پاس صرف مچھلیاں پکڑنے کا لائسنس رہ جائے گا۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا اگرکوئی بین الاقوامی معاہدہ ملک کے قوانین کیخلاف ہے تو اسے تحفظ حاصل نہیں ہوتا،پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور اس کے ساتھ عالمی معاہدوں میں ملک کے قوانین کا پورا پورا خیال رکھنا چاہیے، این این آئی کے مطابق عدالت نے ریکوڈک کیس میں ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر سخت برہمی کا اظہارکیا۔ ٹی تھیان کے وکیل خالد انور نے کہا کہ ریکوڈک کان کی عمر 56سال ہے۔ اس سے 2.2ارب ٹن کاپرنکلے گا۔ معاہدہ 56ارب ڈالرکا تھا۔ بلوچستان حکومت کو13 ارب ڈالر جبکہ ٹی تھیان کمپنی کو11ارب ڈالر ملنے تھے۔مقدمے کی سماعت آج پھر ہوگی۔