ملا منصور کی ہلاکت کے بعد تبدیل ہوتی صورتحال
سرتاج عزیز کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ افغان مہاجرین کی پاکستان میں موجودگی پاکستانی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے
امریکا اور افغان حکومت اگر حقیقی معنوں میں افغانستان میں امن چاہتے ہیں تو انھیں طاقت کے استعمال سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے فوٹو : فائل
وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ملا منصور کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورت حال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ڈرون حملے میں ملا منصور کی ہلاکت کے بعد یہ یقین دہانی نہیں کرائی جا سکتی کہ افغان امن عمل کے لیے مذاکرات دوبارہ کب شروع ہوں گے، طاقت کے استعمال سے افغانستان مزید عدم استحکام کا شکار ہو گا اور خصوصاً ایسے حالات میں جب افغانستان میں ایک بڑی تعداد میں شدت پسند گروپ موجود ہیں۔
مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ڈرون حملے پر امریکا سے احتجاج کیا ہے اور اس معاملے کو اقوام متحدہ میں بھی اٹھایا جائے گا۔علاوہ ازیں آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل سے ملاقات کے موقع پر واضح کر دیا کہ ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کے خلاف ہیں جس سے پاک امریکا تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
پاکستانی علاقے میں ملا منصور کی ہلاکت کے بعد نہ صرف داخلی بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے لیے نئی مشکلات اور پیچیدگیاں پیدا ہونا شروع ہوئی ہیں۔ ایک عرصے سے مختلف حلقوں کی جانب سے پاکستان کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حوالے سے سوالات اٹھائے جارہے تھے کہ بہت سے غیرملکیوں خصوصاً افغانیوں نے پاکستان کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوا رکھے ہیں۔
جس سے عالمی سطح پر پاکستان کی سبکی ہو رہی ہے۔ ملا منصور سے بھی پاکستانی شناختی کارڈ برآمد ہونے کے انکشاف کے بعد پاکستان کے قومی شناختی کارڈ کی حیثیت عالمی سطح پر مشکوک ہو سکتی ہے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے نادرا کو تمام پاکستانیوں کے قومی شناختی کارڈ کی دوبارہ تصدیق کرنے کا حکم دیتے ہوئے 48گھنٹوں میں لائحہ عمل تیار کرنیکی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیرملکیوں کے زیر استعمال شناختی کارڈ فوری طور پر بلاک کیے جائیں۔ دوسری جانب افغان طالبان نے ملا اختر منصور کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے ان کے نائب مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کو اپنا نیا امیر مقرر کر دیا ہے جب کہ سراج الدین حقانی اور ملا عمر کے بڑے بیٹے مولوی یعقوب ان کے نائبین ہوں گے۔
ملا منصور کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں قیام امن کے لیے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے یا نہیں اور حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں ابھی اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ ملا منصور کی ہلاکت کے بعد امریکا کے بارے میں طالبان کے اندر شکوک و شبہات کو مزید تقویت ملی اور انھوں نے محسوس کیا ہے کہ امریکا ان سے مذاکرات کرنے کے بجائے طاقت کے زور پر انھیں صفحہ ہستی سے مٹانے کی پالیسی پر گامزن ہے، وہ اب تک متعدد طالبان رہنماؤں کو ہلاک کر چکا ہے ملا اختر منصور جیسی شخصیت جو امن عمل کے لیے مذاکرات کی حامی رہی ہے اور افغانستان میں مصالحت کے لیے چار ممالک کے گروپ کے اجلاس میں بھی ان کے حمایتی شریک رہے ہیں جب ایسی شخصیت کو امریکا نشانہ بنا سکتا ہے تو پھر کسی اور بھی طالبان شخصیت کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرے گا۔
امریکی صدر اوباما نے جاپان کے شہر شیما میں جی سیون سمٹ سے خطاب میں اپنی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ طالبان افغانستان پر دوبارہ قابض نہیں ہو سکیں گے ان کے پاس اب ایک ہی راستہ بچا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے افغانستان کے جمہوری نظام کا حصہ بن جائیں۔ ملا منصور کی ہلاکت کے بعد پاکستان کو داخلی استحکام کے لیے اب اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے کے ساتھ ساتھ ایران اور افغانستان کے ساتھ ملحق سرحد کی نگرانی کے عمل کو بھی پہلے سے زیادہ موثر بنانا ہو گا۔
اب یہ بات منظرعام پر آ گئی ہے کہ نہ صرف افغان طالبان بلکہ دیگر بہت سے گروہ باآسانی اور بلاروک ٹوک پاکستان سے ایران اور افغانستان آتے جاتے رہتے ہیں' یہ صورت حال پاکستان کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے لہٰذا یہاں پر سرحدوں کی نگرانی کا نظام بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی بلا روک ٹوک آمدورفت کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی آنا چاہیے۔ سرتاج عزیز کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ افغان مہاجرین کی پاکستان میں موجودگی پاکستانی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے کیونکہ شدت پسند مہاجرین کے کیمپوں کو اپنی پناہ گاہیں بنا لیتے ہیں لہٰذا اس صورت حال کے تدارک کے لیے افغان مہاجرین کی وطن واپسی اشد ضروری ہے۔
امریکا اور افغان حکومت اگر حقیقی معنوں میں افغانستان میں امن چاہتے ہیں تو انھیں طاقت کے استعمال سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے کیونکہ یہ واضح ہوچکا ہے کہ طاقت کے استعمال کے باوجود ابھی تک افغانستان میں استحکام پیدا نہیں ہو سکا۔
مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ڈرون حملے پر امریکا سے احتجاج کیا ہے اور اس معاملے کو اقوام متحدہ میں بھی اٹھایا جائے گا۔علاوہ ازیں آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل سے ملاقات کے موقع پر واضح کر دیا کہ ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کے خلاف ہیں جس سے پاک امریکا تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
پاکستانی علاقے میں ملا منصور کی ہلاکت کے بعد نہ صرف داخلی بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے لیے نئی مشکلات اور پیچیدگیاں پیدا ہونا شروع ہوئی ہیں۔ ایک عرصے سے مختلف حلقوں کی جانب سے پاکستان کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حوالے سے سوالات اٹھائے جارہے تھے کہ بہت سے غیرملکیوں خصوصاً افغانیوں نے پاکستان کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوا رکھے ہیں۔
جس سے عالمی سطح پر پاکستان کی سبکی ہو رہی ہے۔ ملا منصور سے بھی پاکستانی شناختی کارڈ برآمد ہونے کے انکشاف کے بعد پاکستان کے قومی شناختی کارڈ کی حیثیت عالمی سطح پر مشکوک ہو سکتی ہے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے نادرا کو تمام پاکستانیوں کے قومی شناختی کارڈ کی دوبارہ تصدیق کرنے کا حکم دیتے ہوئے 48گھنٹوں میں لائحہ عمل تیار کرنیکی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیرملکیوں کے زیر استعمال شناختی کارڈ فوری طور پر بلاک کیے جائیں۔ دوسری جانب افغان طالبان نے ملا اختر منصور کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے ان کے نائب مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کو اپنا نیا امیر مقرر کر دیا ہے جب کہ سراج الدین حقانی اور ملا عمر کے بڑے بیٹے مولوی یعقوب ان کے نائبین ہوں گے۔
ملا منصور کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں قیام امن کے لیے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے یا نہیں اور حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں ابھی اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ ملا منصور کی ہلاکت کے بعد امریکا کے بارے میں طالبان کے اندر شکوک و شبہات کو مزید تقویت ملی اور انھوں نے محسوس کیا ہے کہ امریکا ان سے مذاکرات کرنے کے بجائے طاقت کے زور پر انھیں صفحہ ہستی سے مٹانے کی پالیسی پر گامزن ہے، وہ اب تک متعدد طالبان رہنماؤں کو ہلاک کر چکا ہے ملا اختر منصور جیسی شخصیت جو امن عمل کے لیے مذاکرات کی حامی رہی ہے اور افغانستان میں مصالحت کے لیے چار ممالک کے گروپ کے اجلاس میں بھی ان کے حمایتی شریک رہے ہیں جب ایسی شخصیت کو امریکا نشانہ بنا سکتا ہے تو پھر کسی اور بھی طالبان شخصیت کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرے گا۔
امریکی صدر اوباما نے جاپان کے شہر شیما میں جی سیون سمٹ سے خطاب میں اپنی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ طالبان افغانستان پر دوبارہ قابض نہیں ہو سکیں گے ان کے پاس اب ایک ہی راستہ بچا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے افغانستان کے جمہوری نظام کا حصہ بن جائیں۔ ملا منصور کی ہلاکت کے بعد پاکستان کو داخلی استحکام کے لیے اب اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے کے ساتھ ساتھ ایران اور افغانستان کے ساتھ ملحق سرحد کی نگرانی کے عمل کو بھی پہلے سے زیادہ موثر بنانا ہو گا۔
اب یہ بات منظرعام پر آ گئی ہے کہ نہ صرف افغان طالبان بلکہ دیگر بہت سے گروہ باآسانی اور بلاروک ٹوک پاکستان سے ایران اور افغانستان آتے جاتے رہتے ہیں' یہ صورت حال پاکستان کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے لہٰذا یہاں پر سرحدوں کی نگرانی کا نظام بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی بلا روک ٹوک آمدورفت کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی آنا چاہیے۔ سرتاج عزیز کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ افغان مہاجرین کی پاکستان میں موجودگی پاکستانی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے کیونکہ شدت پسند مہاجرین کے کیمپوں کو اپنی پناہ گاہیں بنا لیتے ہیں لہٰذا اس صورت حال کے تدارک کے لیے افغان مہاجرین کی وطن واپسی اشد ضروری ہے۔
امریکا اور افغان حکومت اگر حقیقی معنوں میں افغانستان میں امن چاہتے ہیں تو انھیں طاقت کے استعمال سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے کیونکہ یہ واضح ہوچکا ہے کہ طاقت کے استعمال کے باوجود ابھی تک افغانستان میں استحکام پیدا نہیں ہو سکا۔