کراچی میں ٹارگٹ کلنگ دوبارہ شروع

شہر قائد میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ایک بار پھر شدت سے سامنے آ رہے ہیں جس کے باعث عوام میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

شہر قائد میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ایک بار پھر شدت سے سامنے آ رہے ہیں جس کے باعث عوام میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ فوٹو؛ فائل

KARACHI:
شہر قائد میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ایک بار پھر شدت سے سامنے آ رہے ہیں جس کے باعث عوام میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ جمعرات کو فائرنگ کے واقعات اور ٹارگٹ کلنگ میں 6 افراد کے قتل کے بعد یوں لگتا ہے جیسے بدامنی کے وہ پرانے دن لوٹ آئے ہوں جب روزانہ 10 سے 12 لاشوں کا گرنا معمول تھا۔ واضح رہے کہ رینجرز کی جانب سے شرپسندوں و دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے کراچی آپریشن شروع کیے جانے سے قبل شہر میں بدامنی کی لہر کئی قیمتی جانوں کو روزانہ کی بنیاد پر نگل رہی تھی لیکن بعد از آپریشن نہ صرف امن بحال ہوا بلکہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی روک تھام بھی شہریوں کے لیے سکون کا باعث بنی۔ ایسے میں ایک ہی دن 6 افراد کے قتل کے بعد شہریوں کا خوف میں مبتلا ہونا قدرتی ہے۔

گزشتہ روز فائرنگ کے واقعات میں جاں بحق ہونے والوں میں متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن بھی شامل ہیں ۔فرقہ وارانہ دہشت گردی کا پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جس کی آگ میں نہ صرف عروس البلاد بلکہ پورا ملک جلتا آ رہا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ملیر جعفر طیار سوسائٹی ناد علی اسٹاپ پر موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے 2 افراد ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے ترجمان کے مطابق مقتول عاصم متحدہ قومی موومنٹ ملیر سیکٹر یونٹ 95 کا کارکن اور امیر حیدر ہمدرد تھا۔


دوسرے واقعے میں اورنگی ٹائون مجاہد کالونی میں 23سالہ عمر خان جب کہ لانڈھی آدم جی روڈ کے قریب 22 سالہ عقیل احمد کو موٹر سائیکل سواروں نے ٹارگٹ کر کے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ جب کہ ناظم آباد اور ناگن چورنگی سے سب انسپکٹر اور ایک شخص کی تشدد زدہ لاشیں ملی ہیں۔ صوبائی وزیر داخلہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب اور تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

راست ہو گا کہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی سرکوبی کے لیے پوری شدت سے سرگرم عمل ہوا جائے۔ عروس البلاد کی روشنیاں ایک عرصے کے بعد بحال ہونا شروع ہوئی تھیں اور شہریوں نے سکون کا سانس لیا تھا، یہ دن پھرنے نہیں چاہئیں۔ شہر قائد سکون کا متلاشی ہے، ملک کے معاشی ہب کو ترقی کا پہیہ رواں رکھنے کے لیے امن کی اشد ضرورت ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر میں رونما ہونے والے واقعات کا اثر مجموعی طور پر پورے ملک پر پڑتا ہے، کراچی میں امن قائم ہو گا تو ملک بھی پرسکون ہو گا اور ترقی کی راہیں عبور ہوں گی۔ کراچی میں امن کا قیام ناگزیر ہے۔
Load Next Story