نئی پالیسی کی ضرورت

بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے میں ملا اختر منصور کی ہلاکت کو پاکستان کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے

tauceeph@gmail.com

بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے میں طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کی ہلاکت کو پاکستان کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ طالبان کے ایک اور رہنما کی ہلاکت پر نیا تنازعہ دوبارہ پیدا ہو گیا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے، جو گزشتہ ہفتے رنگون کے دورے پر تھے، صحافیوں کو بتایا تھا کہ انھوں نے وزیر اعظم نواز شریف کو اور نیٹو کے فوجی کمانڈر نے جنرل راحیل شریف کو ڈرون حملے میں ملا اختر منصور کی ہلاکت کی اطلاع قبل از وقت دی تھی۔ اب وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان کہتے ہیں کہ یہ ڈرون حملہ نہیں تھا بلکہ پڑوسی ملک سے میزائل پھینکا گیا تھا۔ یہ حملہ افغانستان سے ہوا مگر وزیرداخلہ اس کی تصدیق نہیں کرتے۔ بہرحال القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد، طالبان کے رہنما ملا عمر کی کراچی کے کسی اسپتال میں ہلاکت اور اب ملا اختر منصور کے بلوچستان میں مارے جانے کے بارے میں اطلاعات سے پاکستان کے امریکا اور افغانستان سے تعلقات کے بارے میں کئی سوالات پیدا ہو گئے۔

نائن الیون کی دہشت گردی کے بعد طالبان اور القاعدہ کے عسکری دستوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے مختلف نوعیت کے نظریات جنم لے چکے ہیں۔ جب نائن الیون کی دہشت گردی ہوئی اور امریکا ایک اندرونی دشمن سے جنگ کے حوالے سے نئی صورتحال کا شکار ہوا تو امریکی وزیر خارجہ نے صدر مشرف کو رات گئے ٹیلی فون کیا اور ان سے پوچھا کہ وہ اس جنگ میں امریکا اور اتحادی ممالک کے ساتھ ہیں یا ملا عمر اور اسامہ بن لادن کو تحفظ فراہم کریں گے تو صدر مشرف نے واضح طور پر امریکی وزیر خارجہ کو یقین دلایا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا اتحادی ہو گا اور پاکستان نے فوراً امریکی فوجی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کو کھو ل دیا۔

یہی وجہ تھی کہ پاکستان کی حمایت کی بناء پر حامد کرزئی کو افغانستان کا صدر بنانے پر اتفاق ہوا اور طالبان حکومت ختم ہوئی۔ پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے مختلف شہروں میں آپریشن کر کے القاعدہ اور طالبان کے کئی رہنماؤں کو امریکی حکومت کے حوالے کیا۔ کراچی کے ذریعے نیٹو افواج کی رسد کی فراہمی کے لیے ایک لائحہ عمل پر اتفاق ہوا اور حامد کرزئی پورے افغانستان پر اپنی حکومت کی اطاعت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے مگر پھر سرحدی علاقوں سے فرار ہونے والے القاعدہ اور طالبان کے سیکڑوں افراد کو پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے وزیرستان میں پناہ مل گئی اور ان لوگوں نے قبائلی علاقوں اور وزیرستان کے دونوں حصوں میں اپنی کمین گاہیں قائم کر لیں اور اب طالبان اور حکمت یار کے ساتھ حقانی نیٹ ورک کا بھی ذکر ہونے لگا۔ ان انتہاپسندوں نے پہلے کوئٹہ، پشاور اور سوات کو نشانہ بنانا شروع کر دیا اور پھر یہ لڑائی کراچی تک پہنچ گئی۔

کراچی کے مضافاتی علاقے پر طالبان نے عملی طور پر قبضہ کر لیا۔ کراچی میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے لگی۔ اس دوران نیٹو کے کمانڈر نے الزام لگایا کہ اسامہ بن لادن افغانستان کے بجائے پاکستان میں روپوش ہیں۔ یوں امریکا نے اسامہ کی تلاش کے لیے ایک علیحدہ فورس قائم کر لی۔ ریمنڈ ڈیوس نامی کمانڈو بھی اس فورس کا حصہ تھا۔ ریمنڈ ڈیوس کی لاہور میں فائرنگ سے دو پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے تھے۔ ریمنڈ کی مدد کے لیے آنے والی امریکی قونصل خانے کی گاڑی کی لپیٹ میں آنے سے ایک اور شہری جاں بحق ہوا تھا، جس کے باعث ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے حوالے سے ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوا۔


پیپلز پارٹی کی حکومت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے صدر زرداری سے اختلافات سامنے آئے اور وہ مستعفی ہو کر تحریکِ انصاف کا حصہ بن گئے۔ 2 مئی 2012ء کو امریکی میرین کے کمانڈوز نے ایبٹ آباد میں آپریشن کر کے اسامہ بن لادن اور اس کے دو محافظوں کو ہلاک کیا اور اسامہ کی چار بیویوں اور بچوں کو ایبٹ آباد کے مکان میں چھوڑ گئے۔ امریکی میرین کے دستوں نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور خودمختاری کو نقصان پہنچایا مگر پوری دنیا میں پاکستان کی امیج متاثر ہوا اور عالمی سطح پر یہ سمجھا جانے لگا کہ پاکستان القاعدہ اور طالبان رہنماؤں کے لیے اب بھی محفوظ جنت ہے۔

گزشتہ سال طالبان کے رہنما ملا عمر کی ہلاکت کی خبروں کے ساتھ ہی پاکستان پر نئے الزامات کی بوچھاڑ ہو گئی۔ امریکی اخبارات میں یہ خبریں شایع ہوئیں کہ ملا عمر کا انتقال کراچی کے ایک نجی اسپتال میں ہوا۔ حکومت پاکستان نے اس الزام کی تردید کی۔ طالبان نے بھی اپنی ای میل میں اقرار کیا کہ ملا عمر کا انتقال افغانستان میں ہوا مگر اس دوران سابق صدر پرویز مشر ف نے ایک غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے نمایندے کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ پاکستان نے افغانستان میں بھارتی اثر و رسوخ کم کرنے کے لیے طالبان کی حمایت کی تھی۔

مگر گزشتہ ہفتے طالبان کے نئے رہنما ملا اختر منصور کی بلوچستان میں ہلاکت، اس کے پاس سے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی برآمدگی سے پاکستان ایک بار پھر الزامات کی لپیٹ میں آ گیا ہے اور پاکستان کی پوزیشن پر فرق پڑا ہے۔ اس کے ساتھ ہی خبریں آئی ہیں کہ ملا اختر منصور نے کراچی میں ایک فلیٹ لیا ہوا تھا جس کا کرایہ وصول کرنے وہ سال میں کئی دفعہ آتا تھا اور اس کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے فارم کی تصدیق بلوچستان کے بعض ضلع افسران نے کی تھی۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اپنی پریس کانفرنس میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ملا اختر منصور کا پاسپورٹ کیوں بلاک نہیں ہوا تھا۔

چوہدری نثار کی اس بات پر حیرت ہے کہ میزائل کے حملے میں ملا منصور کی ٹیکسی مکمل طور پر جل گئی مگر شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کیسے محفوظ رہا؟ پھر ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملا منصور نے مری مذاکرات میں شرکت کی تھی۔ اس کی ہلاکت سے افغانستان میں امن کا معاملہ التواء کا شکار ہو جائے گا۔ ادھر افغان حکومت اور سب سے قدیم مجاہد حکمت یار کے درمیان ایک معاہدہ ہو گیا۔ افغانستان کے سفیر نے اس معاہدے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اس بات چیت میں شامل نہیں تھا۔ ادھر بھارتی وزیر اعظم کے ایران کے دورے اور چا بہار کی بندرگاہ کی ترقی کے لیے معاہدے کیے اور اس معاملے میں افغانستان کی دلچسپی کے بعد کئی چھپے حقائق سامنے نظر آ رہے ہیں۔

اس صورتحال میں حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی پالیسی تیار ہونی چاہیے۔ پاکستان کے عوام نے طالبان کے انتہاپسند نظریات کے خلاف منظم قربانیاں دی ہیں۔ بے نظیر بھٹو اور سلمان تاثیر سمیت ہزاروں سویلین اور کئی ہزار فوجی سول و ملٹری فورس کے اہلکار اس دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں۔ عوام کسی صورت مذہبی دہشت گردی کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں، یوں دنیا کو عوام کے حقیقی خیالات سے آگاہ ہونا چاہیے۔
Load Next Story