پانی و بجلی کی عدم فراہمی شہری سراپا احتجاج
سوال یہ ہے کہ جب پورے شہر کو پانی میسر نہیں تو واٹر ٹینکر مافیا کہاں سے پانی حاصل کر رہی ہے
موسم کی شدت کا خیال رکھتے ہوئے محکمہ بجلی اور واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو شہریوں کو بلاتعطل پانی و بجلی کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے۔ فوٹو : فائل
WASHINGTON:
ملک بھر میں شدید گرمی کے باوجود پانی و بجلی کی عدم فراہمی پر مختلف شہروں میں مظاہرے اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جب کہ پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور ہوائی فائرنگ پر اتر آئی جس سے کراچی میں مظاہرہ کرتے ہوئے 3 افراد گولی لگنے سے زخمی ہو گئے۔ شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پانی اور بجلی کی عدم فراہمی پر مشتعل افراد نے ٹائروں کو نذر آتش کیا، ہنگامہ آرائی کے باعث متاثرہ علاقوں میں ٹریفک جام ہو گیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔
مشتعل افراد کا کہنا تھا کہ علاقہ مکین پانی کو ترس گئے ہیں، کئی بار شکایات درج کرانے کے باوجود کہیں بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی جب کہ واٹر ٹینکر مافیا مہنگے داموں پانی بھی فروخت کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب پورے شہر کو پانی میسر نہیں تو واٹر ٹینکر مافیا کہاں سے پانی حاصل کر رہی ہے۔ اسلام آباد میں بھی پانی کی قلت کے خلاف پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ علاوہ ازیں آگ برساتے سورج کی موجودگی میں غیر علانیہ طویل تر لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
سبی میں گزشتہ روز طویل لوڈشیڈنگ پر شہریوں نے احتجاج کیا جب کہ ملک کے دیگر شہروں میں 10 تا 12 گھنٹے اور گاؤں دیہات میں کہیں کہیں 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں بجلی کی طویل اور غیر علانیہ لوڈشیڈنگ سے عاجز آ کر مشتعل افراد نے احتجاج کرتے ہوئے کے الیکٹرک کے خلاف نعرے لگائے، مظاہرین کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کی جانب سے علانیہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ کئی کئی گھنٹوں تک بجلی کی فراہمی معطل ہونے کی وجہ سے مکینوں کو انتہائی دقت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور کئی بار شکایات کے باوجود محکمہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔
لوڈشیڈنگ کے باوجود بجلی کے بل ہوشربا حد تک بڑھ کر آ رہے ہیں۔ دوسری جانب نیپرا نے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اپریل کے لیے بجلی کی قیمت میں 3 روپے 94 پیسے فی یونٹ کمی کرنے کی منظوری دیدی ہے، بجلی کی قیمت میں کمی کا فائدہ صارفین کو جولائی کے بلوں میں منتقل کیا جائے گا تاہم اس کا اطلاق 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالوں اور کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہو گا۔ موسم کی شدت کا خیال رکھتے ہوئے محکمہ بجلی اور واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو شہریوں کو بلاتعطل پانی و بجلی کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے۔
ملک بھر میں شدید گرمی کے باوجود پانی و بجلی کی عدم فراہمی پر مختلف شہروں میں مظاہرے اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جب کہ پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور ہوائی فائرنگ پر اتر آئی جس سے کراچی میں مظاہرہ کرتے ہوئے 3 افراد گولی لگنے سے زخمی ہو گئے۔ شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پانی اور بجلی کی عدم فراہمی پر مشتعل افراد نے ٹائروں کو نذر آتش کیا، ہنگامہ آرائی کے باعث متاثرہ علاقوں میں ٹریفک جام ہو گیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔
مشتعل افراد کا کہنا تھا کہ علاقہ مکین پانی کو ترس گئے ہیں، کئی بار شکایات درج کرانے کے باوجود کہیں بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی جب کہ واٹر ٹینکر مافیا مہنگے داموں پانی بھی فروخت کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب پورے شہر کو پانی میسر نہیں تو واٹر ٹینکر مافیا کہاں سے پانی حاصل کر رہی ہے۔ اسلام آباد میں بھی پانی کی قلت کے خلاف پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ علاوہ ازیں آگ برساتے سورج کی موجودگی میں غیر علانیہ طویل تر لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
سبی میں گزشتہ روز طویل لوڈشیڈنگ پر شہریوں نے احتجاج کیا جب کہ ملک کے دیگر شہروں میں 10 تا 12 گھنٹے اور گاؤں دیہات میں کہیں کہیں 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں بجلی کی طویل اور غیر علانیہ لوڈشیڈنگ سے عاجز آ کر مشتعل افراد نے احتجاج کرتے ہوئے کے الیکٹرک کے خلاف نعرے لگائے، مظاہرین کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کی جانب سے علانیہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ کئی کئی گھنٹوں تک بجلی کی فراہمی معطل ہونے کی وجہ سے مکینوں کو انتہائی دقت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور کئی بار شکایات کے باوجود محکمہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔
لوڈشیڈنگ کے باوجود بجلی کے بل ہوشربا حد تک بڑھ کر آ رہے ہیں۔ دوسری جانب نیپرا نے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اپریل کے لیے بجلی کی قیمت میں 3 روپے 94 پیسے فی یونٹ کمی کرنے کی منظوری دیدی ہے، بجلی کی قیمت میں کمی کا فائدہ صارفین کو جولائی کے بلوں میں منتقل کیا جائے گا تاہم اس کا اطلاق 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالوں اور کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہو گا۔ موسم کی شدت کا خیال رکھتے ہوئے محکمہ بجلی اور واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو شہریوں کو بلاتعطل پانی و بجلی کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے۔