بجٹ کی وڈیو لنک سے منظوری
وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد بجٹ پارلیمنٹ اور پھر سینیٹ میں آئے گا
کوشش یہ ہونی چاہیے کہ آیندہ بجٹ کشکول بدست پاکستان کی فرسودہ روایات سے ہٹ کر حقیقی عوامی امنگوں سے ہم آہنگ بجٹ نظر آئے فوٹو: پی آئی ڈی
وزیراعظم نوازشریف نے لندن سے بذریعہ ویڈیو لنک قومی اقتصادی کونسل اور وفاقی کابینہ کے اجلاسوں کی صدارت کی جس میں آیندہ مالی سال 2016-17کے لیے مجموعی طور پر 4.5 ٹریلین روپے کے وفاقی بجٹ کی منظوری دیدی گئی ، وزیراعظم نوازشریف کی طرف سے بجٹ دستاویزات پر دستخط کیے جانے کے بعد انھیں سربمہر کردیا گیا اور 3جون 2016 کے بجٹ اجلاس سے قبل کھولا جائے گا۔
بعض سیاسی حلقوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے بجٹ کی منظوری پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے ویڈیو لنک پرقومی اقتصادی کونسل اور وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کا فیصلہ انتہائی تشویشناک ہے ، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق وڈیو لنک کے ذریعے کابینہ کی صدارت درست ہے، پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ بجٹ پہلے وفاقی کابینہ میں پیش ہوتا ہے جس کی صدارت وزیر اعظم کو کرنی ہوتی ہے، چاہے وہ لندن سے وڈیو لنک کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد بجٹ پارلیمنٹ اور پھر سینیٹ میں آئے گا، اگر وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کی وڈیو لنک کے ذریعے صدارت کر کے بجٹ منظور کیا تو درست ہوگا ورنہ آئینی اور قانونی بحران پیدا ہوگا ۔
بادی النظر میں وزیراعظم نے ایک آئینی و قانونی ضرورت پوری کی ہے، میمو گیٹ کے موقعے پر بھی عدالتی کمیشن نے وڈیو لنک کا آئینی اختیار استعمال کیا تھا۔ بہرحال وزیراعظم نے جمہوری طریقہ کار کے تحت اپنی اوپن ہارٹ سرجری سے پہلے یہ اقدام کیا ، اسے اسی جمہوری اسپرٹ کے ساتھ قبول کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔بتایاجاتاہے کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار رواںمالی سال 2015-16کی اقتصادی سروے رپورٹ دو جون کو جاری کریں گے۔ تاہم وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے اس بات پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا کہ بجٹ میں800 ارب روپے میں سے صرف 12.05ارب روپے سندھ کے لیے مختص کرنا وزیراعظم کے وعدے اور اعلانات کے برعکس ہیں اور یہ صوبہ سندھ کے لوگوں کے ساتھ نا انصافی ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے اگلے مالی سال کے لیے تجویز کردہ 3620 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے کے لیے 250 ارب روپے مالیت کے نئے ٹیکس عائد کرنےکی تجویز دی گئی۔ البتہ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ آیندہ بجٹ کشکول بدست پاکستان کی فرسودہ روایات سے ہٹ کر حقیقی عوامی امنگوں سے ہم آہنگ بجٹ نظر آئے اور ہر سال کی طرح پارلیمنٹ اور سینیٹ سے روایتی منظوری میں بھی جمہوری روایات کی پاسداری کرتے ہوئے بجٹ ہر قیمت پر عوامی ریلیف اور معاشی غلامی سے آزادی کی نوید دے ۔
بعض سیاسی حلقوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے بجٹ کی منظوری پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے ویڈیو لنک پرقومی اقتصادی کونسل اور وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کا فیصلہ انتہائی تشویشناک ہے ، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق وڈیو لنک کے ذریعے کابینہ کی صدارت درست ہے، پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ بجٹ پہلے وفاقی کابینہ میں پیش ہوتا ہے جس کی صدارت وزیر اعظم کو کرنی ہوتی ہے، چاہے وہ لندن سے وڈیو لنک کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد بجٹ پارلیمنٹ اور پھر سینیٹ میں آئے گا، اگر وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کی وڈیو لنک کے ذریعے صدارت کر کے بجٹ منظور کیا تو درست ہوگا ورنہ آئینی اور قانونی بحران پیدا ہوگا ۔
بادی النظر میں وزیراعظم نے ایک آئینی و قانونی ضرورت پوری کی ہے، میمو گیٹ کے موقعے پر بھی عدالتی کمیشن نے وڈیو لنک کا آئینی اختیار استعمال کیا تھا۔ بہرحال وزیراعظم نے جمہوری طریقہ کار کے تحت اپنی اوپن ہارٹ سرجری سے پہلے یہ اقدام کیا ، اسے اسی جمہوری اسپرٹ کے ساتھ قبول کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔بتایاجاتاہے کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار رواںمالی سال 2015-16کی اقتصادی سروے رپورٹ دو جون کو جاری کریں گے۔ تاہم وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے اس بات پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا کہ بجٹ میں800 ارب روپے میں سے صرف 12.05ارب روپے سندھ کے لیے مختص کرنا وزیراعظم کے وعدے اور اعلانات کے برعکس ہیں اور یہ صوبہ سندھ کے لوگوں کے ساتھ نا انصافی ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے اگلے مالی سال کے لیے تجویز کردہ 3620 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے کے لیے 250 ارب روپے مالیت کے نئے ٹیکس عائد کرنےکی تجویز دی گئی۔ البتہ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ آیندہ بجٹ کشکول بدست پاکستان کی فرسودہ روایات سے ہٹ کر حقیقی عوامی امنگوں سے ہم آہنگ بجٹ نظر آئے اور ہر سال کی طرح پارلیمنٹ اور سینیٹ سے روایتی منظوری میں بھی جمہوری روایات کی پاسداری کرتے ہوئے بجٹ ہر قیمت پر عوامی ریلیف اور معاشی غلامی سے آزادی کی نوید دے ۔