درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس میں بے قاعدگیاں
پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کراچی نے امپورٹرزکو2 کروڑ روپے کے ریکوری نوٹسز جاری کردیے
پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کراچی نے امپورٹرزکو2 کروڑ روپے کے ریکوری نوٹسز جاری کردیے فوٹو: فائل
پاکستان کسٹمز کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کسٹمزکراچی نے ایس آراوکے غلط استعمال اورمس ڈیکلریشن کے حامل درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس کو بے نقاب کرتے ہوئے متعلقہ درآمدکنندگان کوتقریباً 2 کروڑ روپے مالیت کے ریکوری نوٹسز جاری کردیے ہیں۔
ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ نیایس آراوکا غلط استعمال کرکے پلین پولیسٹرفلم کے کنسائمنٹس پرکم ادائیگی کرنے پرمتعلقہ درآمدکنندہ کوریکوری نوٹس دیا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کسٹمزکراچی نے اس درآمدکنندہ کی امپورٹ ڈیٹاکا آڈٹ کیا تو انکشاف ہوا کہ میسرز پیکیجز لمیٹڈکی جانب سے سال 2012تا 2015 کے دوران پلین پولیسٹرفلم 12 مائیکروکروناکے 6 کنسائمنٹس کی کلیئرنس کے لیے پاکستان کسٹمزٹیرف (پی سی ٹی)نمبر 3920.6310 ظاہر کرکے ایس آر او 659کا فائدہ اٹھایا گیا اورغیرقانونی طور پرصرف 5 فیصد کسٹمز ڈیوٹی اداکی گئی جبکہ اس کنسائمنٹس کی کلیئرنس پی سی ٹی 3920.6200کے تحت 20فیصدکسٹمزڈیوٹی پر ہوتی ہے اوراس پر ایس آراو659 کی سہولت کا فائدہ نہیں اٹھایاجاسکتا جس پر محکمے نے مذکورہ درآمدکنندہ کو 1 کروڑ 78 لاکھ 26 ہزار روپے ادا کرنے کانوٹس دیا لیکن پیکیجزلمیٹڈسے کوئی موثرجواب نہ آنے پر پوسٹ کلیئرنس آڈٹ نے مزیدکارروائی کے لیے کنٹراونشن رپورٹ متعلقہ ایڈجیوڈیکشن کلکٹریٹ کو ارسال کردی۔
دریں اثناء ڈائریکٹوریٹ نے ایک اورکیس میں بھی مس ڈیکلریشن کے ذریعے کیلشیم کاربونیٹ کے کنسائمنٹس کی غلط کلیئرنس بے نقاب کرتے ہوئے درآمدکنندگان کو ریکوری نوٹس جاری کردیے۔ ذرائع نے بتایا کہ میسرزپولی ٹیک اور میسرز روئیل پولی ٹیکس انڈسٹریزکی جانب سے کنسائمنٹس کی کلیئرنس کیلیے پی سی ٹی 3824.9094 ظاہرکرکے صرف 5فیصد کسٹمزڈیوٹی اداکی گئی جبکہ اس کنسائمنٹ کی کلیئرنس پی سی ٹی 3824.9099کے تحت 10فیصدکسٹمزڈیوٹی پر ہوتی ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ مذکورہ درآمدکنندگان نے مجموعی طورپر 9لاکھ 72ہزارروپے کم ادائیگی کی، ڈائریکٹوریٹ نے پی سی ٹی کے غلط استعمال اورڈیوٹی وٹیکسزکی کم ادائیگی پر درآمدکنندہ کو آڈٹ آبزویشن کا اجرا کردیا جس پر درآمدکنندگان نے ادائیگیاں شروع کر دیں۔
ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ نیایس آراوکا غلط استعمال کرکے پلین پولیسٹرفلم کے کنسائمنٹس پرکم ادائیگی کرنے پرمتعلقہ درآمدکنندہ کوریکوری نوٹس دیا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کسٹمزکراچی نے اس درآمدکنندہ کی امپورٹ ڈیٹاکا آڈٹ کیا تو انکشاف ہوا کہ میسرز پیکیجز لمیٹڈکی جانب سے سال 2012تا 2015 کے دوران پلین پولیسٹرفلم 12 مائیکروکروناکے 6 کنسائمنٹس کی کلیئرنس کے لیے پاکستان کسٹمزٹیرف (پی سی ٹی)نمبر 3920.6310 ظاہر کرکے ایس آر او 659کا فائدہ اٹھایا گیا اورغیرقانونی طور پرصرف 5 فیصد کسٹمز ڈیوٹی اداکی گئی جبکہ اس کنسائمنٹس کی کلیئرنس پی سی ٹی 3920.6200کے تحت 20فیصدکسٹمزڈیوٹی پر ہوتی ہے اوراس پر ایس آراو659 کی سہولت کا فائدہ نہیں اٹھایاجاسکتا جس پر محکمے نے مذکورہ درآمدکنندہ کو 1 کروڑ 78 لاکھ 26 ہزار روپے ادا کرنے کانوٹس دیا لیکن پیکیجزلمیٹڈسے کوئی موثرجواب نہ آنے پر پوسٹ کلیئرنس آڈٹ نے مزیدکارروائی کے لیے کنٹراونشن رپورٹ متعلقہ ایڈجیوڈیکشن کلکٹریٹ کو ارسال کردی۔
دریں اثناء ڈائریکٹوریٹ نے ایک اورکیس میں بھی مس ڈیکلریشن کے ذریعے کیلشیم کاربونیٹ کے کنسائمنٹس کی غلط کلیئرنس بے نقاب کرتے ہوئے درآمدکنندگان کو ریکوری نوٹس جاری کردیے۔ ذرائع نے بتایا کہ میسرزپولی ٹیک اور میسرز روئیل پولی ٹیکس انڈسٹریزکی جانب سے کنسائمنٹس کی کلیئرنس کیلیے پی سی ٹی 3824.9094 ظاہرکرکے صرف 5فیصد کسٹمزڈیوٹی اداکی گئی جبکہ اس کنسائمنٹ کی کلیئرنس پی سی ٹی 3824.9099کے تحت 10فیصدکسٹمزڈیوٹی پر ہوتی ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ مذکورہ درآمدکنندگان نے مجموعی طورپر 9لاکھ 72ہزارروپے کم ادائیگی کی، ڈائریکٹوریٹ نے پی سی ٹی کے غلط استعمال اورڈیوٹی وٹیکسزکی کم ادائیگی پر درآمدکنندہ کو آڈٹ آبزویشن کا اجرا کردیا جس پر درآمدکنندگان نے ادائیگیاں شروع کر دیں۔