آرمی چیف کی ترک صدر سے ملاقات
پاکستان اورترکی نے3 سال کےدوران 52 مشترکہ مشقوں کاانعقادکیا ہےان مشقوں کے انعقاد سے دو طرفہ دفاعی تعاون میں اضافہ ہوگا
ترک چیف آف جنرل اسٹاف ہلوسی اکار نے مشقوں کے معائنہ کے لیے آمد پر آرمی چیف کا خیر مقدم کیا فوٹو: آئی ایس پی آر
پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے ترکی کے دورے کے دوران ترک صدر رجب طیب اردگان اور ترکی کے چیف آف جنرل اسٹاف ہلوسی اکار سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور ان سے دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وطن واپسی کے بعد انھوں نے بدھ کو صدر ممنون حسین سے ملاقات کی اور انھیں دورہ ترکی کے بارے میں آگاہ کیا ۔ترکی ہمارا برادر اسلامی ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ مضبوط تعلقات قائم ہیں۔ حالیہ دور میں پاکستان کو جن عالمی شورشوں کا سامنا ہے اس تناظر میں اپنے پرانے دوستوں اور پڑوسی ممالک سے بہتر تعلقات اس کے حق میں ہیں، جن کی سمت پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ واضح رہی ہے۔
پاکستانی آرمی چیف کا دورۂ ترکی کئی مثبت پہلو رکھتا ہے۔ منگل کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ترکی میں پیر کی شام اور منگل کی صبح ہونے والی کثیر الملکی فوجی مشقوں کا معائنہ کیا، مشقوں میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی، امریکا، برطانیہ، بیلجیئم، قطر، آذر بائیجان اور دیگر ملکوں کے دستوں نے شرکت کی۔
آرمی چیف نے بڑے پیمانے پر جنگی مشقوں کے انعقاد کو سراہا۔ واضح رہے پاکستان اور ترکی نے 3 سال کے دوران 52 مشترکہ مشقوں کا انعقاد کیا ہے، ان مشقوں کے انعقاد سے دو طرفہ دفاعی تعاون میں اضافہ ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان جو اہم کردار ادا کررہا ہے اس کی ایک دنیا معترف ہے یہی وجہ ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ترک صدر کو آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں اور خطہ میں امن و استحکام کے حوالے سے آگاہ کیا تو ترک صدر رجب طیب اردگان نے آپریشن ضرب عضب میں پاک فوج کی کامیابیوں کو بھی سراہا۔ ترک صدر نے فوجی مشقوں میں آرمی چیف اور پاکستانی فوجی دستوں کی شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کے فوجی مشقوں میں موجود ہونے سے پاکستان اور ترکی کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
ترک چیف آف جنرل اسٹاف ہلوسی اکار نے مشقوں کے معائنہ کے لیے آمد پر آرمی چیف کا خیر مقدم کیا۔ وقت کی ضرورت ہے کہ بہتر خارجہ تعلقات کے احیا کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں۔ پاکستان نے ہمیشہ مثبت افکار کا پرچار اور خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے اپنی پرخلوص کاوشوں کا ثبوت دیا ہے۔ دیگر ممالک کو بھی پاکستان کی تقلید کرنی چاہیے۔
پاکستانی آرمی چیف کا دورۂ ترکی کئی مثبت پہلو رکھتا ہے۔ منگل کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ترکی میں پیر کی شام اور منگل کی صبح ہونے والی کثیر الملکی فوجی مشقوں کا معائنہ کیا، مشقوں میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی، امریکا، برطانیہ، بیلجیئم، قطر، آذر بائیجان اور دیگر ملکوں کے دستوں نے شرکت کی۔
آرمی چیف نے بڑے پیمانے پر جنگی مشقوں کے انعقاد کو سراہا۔ واضح رہے پاکستان اور ترکی نے 3 سال کے دوران 52 مشترکہ مشقوں کا انعقاد کیا ہے، ان مشقوں کے انعقاد سے دو طرفہ دفاعی تعاون میں اضافہ ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان جو اہم کردار ادا کررہا ہے اس کی ایک دنیا معترف ہے یہی وجہ ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ترک صدر کو آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں اور خطہ میں امن و استحکام کے حوالے سے آگاہ کیا تو ترک صدر رجب طیب اردگان نے آپریشن ضرب عضب میں پاک فوج کی کامیابیوں کو بھی سراہا۔ ترک صدر نے فوجی مشقوں میں آرمی چیف اور پاکستانی فوجی دستوں کی شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کے فوجی مشقوں میں موجود ہونے سے پاکستان اور ترکی کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
ترک چیف آف جنرل اسٹاف ہلوسی اکار نے مشقوں کے معائنہ کے لیے آمد پر آرمی چیف کا خیر مقدم کیا۔ وقت کی ضرورت ہے کہ بہتر خارجہ تعلقات کے احیا کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں۔ پاکستان نے ہمیشہ مثبت افکار کا پرچار اور خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے اپنی پرخلوص کاوشوں کا ثبوت دیا ہے۔ دیگر ممالک کو بھی پاکستان کی تقلید کرنی چاہیے۔