قراردادلانیوالے پہلے اپنے عسکری ونگ ختم کریںفضل الرحمن
کراچی میںہر جماعت کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں، قائداعظمؒ کانام استعمال نہ کیا جائے
فرقہ واریت،دہشتگردی سمیت کئی مسائل ہیں،ان سے نمٹنے کیلیے جامع پالیسیاں بناناہونگی۔ فوٹو: فائل
جے یوآئی(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ کراچی میںہرسیاسی جماعت کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔
ملک کواسلحہ سے پاک کرنیکی بات کرنیوالے پہلے خود اسلحہ جمع کرائیں قائد کے پاکستان کا حلیہ جس طرح ہمارے حکمرانوں نے بگاڑا ہے ان لوگوں کوقائداعظم کا نام استعمال کرنے پرشرم کرنی چاہیے۔ منگل کوپارلیمنٹ ہائوس کے باہرصحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ملک میں انصاف نہیں ہورہا دہشتگرد طبقے کوجڑسے اکھاڑنے کیلئے موثر اقدامات کرنا ہونگے۔ انہوں نے کہاکہ جب عام آدمی غیرمحفوظ ہوگا تووہ اسلحہ ہی اٹھائے گا اس بات کاتعین کرنا ہوگاکہ اسلحہ زدہ پاکستان کا ذمہ دارکون ہے ملک کواسلحہ سے پاک کرنیکی قرارداد پیش کرنے سے پہلے یہ لوگ اپنے عسکری ونگ ختم کریں۔
طالبان کے پاس اسلحہ کی بات جرم ہے تواسی طرح یہ جرم سیاسی جماعتوںکے عسکری ونگ پرلاگو ہوتاہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جس سے لوگوں میں اعتماد پیدا ہو، ملک میں بہت سے جھگڑے ہیں جن میں فرقہ واریت انتہا پسندی اوردہشتگردی ہے۔ اے پی پی کے مطابق انہوں نے کہاکہ اسرائیل کی فلسطین کیخلاف دہشتگردی کی ایک طویل داستان ہے ہزاروں فلسطینیوں کا خون بہاکربھی اسکی پیاس نہیں بجھ رہی جب بھی امریکہ اور مغربی ممالک میں انتخابات کاوقت آتاہے تووہ مسلمانوں کا قتل عام کرکے انتخابات جیتتے ہیںامت مسلمہ سراپا احتجاج ہے تاہم انکی نمائندہ حکومتیں عوام کی صحیح ترجمانی نہیں کررہیں۔
ملک کواسلحہ سے پاک کرنیکی بات کرنیوالے پہلے خود اسلحہ جمع کرائیں قائد کے پاکستان کا حلیہ جس طرح ہمارے حکمرانوں نے بگاڑا ہے ان لوگوں کوقائداعظم کا نام استعمال کرنے پرشرم کرنی چاہیے۔ منگل کوپارلیمنٹ ہائوس کے باہرصحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ملک میں انصاف نہیں ہورہا دہشتگرد طبقے کوجڑسے اکھاڑنے کیلئے موثر اقدامات کرنا ہونگے۔ انہوں نے کہاکہ جب عام آدمی غیرمحفوظ ہوگا تووہ اسلحہ ہی اٹھائے گا اس بات کاتعین کرنا ہوگاکہ اسلحہ زدہ پاکستان کا ذمہ دارکون ہے ملک کواسلحہ سے پاک کرنیکی قرارداد پیش کرنے سے پہلے یہ لوگ اپنے عسکری ونگ ختم کریں۔
طالبان کے پاس اسلحہ کی بات جرم ہے تواسی طرح یہ جرم سیاسی جماعتوںکے عسکری ونگ پرلاگو ہوتاہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جس سے لوگوں میں اعتماد پیدا ہو، ملک میں بہت سے جھگڑے ہیں جن میں فرقہ واریت انتہا پسندی اوردہشتگردی ہے۔ اے پی پی کے مطابق انہوں نے کہاکہ اسرائیل کی فلسطین کیخلاف دہشتگردی کی ایک طویل داستان ہے ہزاروں فلسطینیوں کا خون بہاکربھی اسکی پیاس نہیں بجھ رہی جب بھی امریکہ اور مغربی ممالک میں انتخابات کاوقت آتاہے تووہ مسلمانوں کا قتل عام کرکے انتخابات جیتتے ہیںامت مسلمہ سراپا احتجاج ہے تاہم انکی نمائندہ حکومتیں عوام کی صحیح ترجمانی نہیں کررہیں۔