قانون کی حکمرانی کی طرف درست قدم

عجیب تضاد ہے کہ سماج میں جو ناانصافی پھیلی ہوئی ہے اس کی ذمے داری کوئی حکومت تسلیم نہیں کرتی۔

عجیب تضاد ہے کہ سماج میں جو ناانصافی پھیلی ہوئی ہے اس کی ذمے داری کوئی حکومت تسلیم نہیں کرتی۔ فوٹو؛ فائل

KARACHI:
چیف جسٹس انورظہیرجمالی نے سندھ میں غیر قانونی ترقیوں اور تبادلوں کے بارے میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر دائر مقدمہ میں چشم کشا ریمارکس دیے ہیں اور قراردیا ہے کہ سندھ میں ایک آدمی کو نوازنے کے لیے15لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا اور حق تلفی کی جاتی ہے۔ چیف جسٹس نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ میں آئے سات سال ہوگئے ہیں لیکن سندھ حکومت کا یہی رویہ ہے، کیا وہاں جمہوریت نہیں بادشاہت ہے، ہر سماعت پر عدالت کو ٹالنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ادھر سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے نہ صرف قومی اقتصادی کونسل کی کارروائی مسترد کی بلکہ کہا ہے کہ سندھ سے ناانصافی کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔

لیکن عجیب تضاد ہے کہ سماج میں جو ناانصافی پھیلی ہوئی ہے اس کی ذمے داری کوئی حکومت تسلیم نہیں کرتی۔ سندھ حکومت کا موقف ہے کہ عجلت میں منظور کیے گئے بجٹ سے تین صوبے مطمئن نہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کی خواہش اور تلقین کا بنیادی مقصد سندھ حکومت سے گڈ گورننس کی جائز توقع عوام کی فلاح و بہبود اور میرٹ کے استعمال کی یقین دہانی سے مشروط ہے، عدلیہ ریاستی ستونوں میں سے ایک اہم ستون ہے جس کا اضطراب، اس کی موجودہ نظام میں عدم شفافیت اور میرٹ کے قتل پر تشویش حکمرانوں کو قانون کی حکمرانی کی طرف لے جانے کا فصیح اشارہ ہے ۔


اس یاد دہانی اور مسلسل انتباہ سے سندھ حکومت نہ ڈرے، بلکہ اسے انصاف اور میرٹ کی ضرورت کا ادراک کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے، جب کہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ بدانتظامی ، اقربا پروری اور عدالتی احکامات کی تعمیل میں حاکمانہ سرد مہری اور بے نیازی کے طرز عمل نے عوام کے مسائل میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔

دریں اثنا سپریم کورٹ نے کم آمدنی اور غریب افراد کے رہائشی منصوبوں کے بارے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایک دوسرے مقدمہ میں کہا ہے کہ حکومت کم آمدنی اور غریب عوام کو چھت کی فراہمی کی ذمے داری ادا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ بادی النظر میں ان ریمارکس کا تسلسل صرف اس پیغام کو ایوان اقتدار تک پہنچانا نہیں بلکہ اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانا بھی ہے، عدالت عظمیٰ نے اگر استفسار کیا ہے کہ آخرکیا وجہ ہے سندھ حکومت نہیں چاہتی کہ میرٹ پرکام ہو اور سندھ حکومت بھرتیوں میں قواعد و ضوابط پر عملدرآمدکیوں نہیں کرتی ، تو ان سوالوں کے جواب کا بہترین طریقہ وہ عملی اقدامات اور میرٹ کی پاسداری کا شفاف مظاہرہ ہے جو حکومت سندھ کو بدانتظامی اور لیت ولعل کے بھنور سے نکلنے میں مدد دے سکتا ہے ۔

اس لیے امید کی جانی چاہیے کہ قانون کی حکمرانی اور گڈ گورننس کو یقینی بنانے کے لیے چاروں صوبائی حکومتیں عدالتی احکامات پر عمل کریں گی کیونکہ یہی گڈ گورننس اور عوام کو کچھ ڈیلیور کرنے کی طرف درست قدم ہوگا۔
Load Next Story