رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ نہ کی جائے

عوام کا اصرار بجا ہے کہ رمضان کے مہینے میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے گریز کیا جائے۔

عوام کا اصرار بجا ہے کہ رمضان کے مہینے میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے گریز کیا جائے۔ فوٹو؛ فائل

رمضان المبارک کے مہینے میں کے الیکٹرک کی جانب سے شہر میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ برقرار رکھنے کے فیصلے نے شہریوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے، جس پر عوام سراپا احتجاج ہیں جب کہ دیگر صوبوں میں بظاہر دوران رمضان لوڈشیڈنگ کے اوقات کار میں کمی کا عندیہ دیا گیا ہے لیکن حالیہ دنوں علانیہ و غیر علانیہ لوڈشیڈنگ کی جو صورتحال ہے اس پر عوام متوشش ہیں۔ حقائق یہ ہیں کہ شہری علاقوںمیں 8 سے12 گھنٹے جب کہ دیہی علاقوں میں 16 گھنٹوں تک بجلی کی علانیہ و غیر علانیہ لوڈشیڈنگ جاری ہے۔


عوام کا اصرار بجا ہے کہ رمضان کے مہینے میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے گریز کیا جائے نیز سحر و افطار کے اوقات میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ سال گزشتہ بھی رمضان المبارک کے روزے سخت گرمی میں آئے تھے، جہاں ہیٹ اسٹروک کے باعث کئی قیمتی جانیں محض اس لیے ضایع ہوگئیں کہ بجلی فراہم کرنے والے ادارے نے موسم کی سختی کے باوجود شہریوں کو شدید لوڈشیڈنگ میں مبتلا رکھا۔اطلاعات کے مطابق کے الیکٹرک نے رمضان المبارک کے دوران شہر میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ صنعتی صارفین کو حاصل استثنیٰ بھی رمضان المبارک کے دوران ختم کردیا گیا ہے۔ شہریوں نے کے الیکٹرک کے مذکورہ اعلان کو مجرمانہ دیدہ دلیری قرار دیا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بجلی و پانی کے چیئرمین سینیٹر سردار محمد یعقوب ناصر نے کہا ہے کہ رمضان کے دوران سحر و افطار کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے متعلق جامع حکمت عملی مرتب کرلی گئی ہے۔ لیکن گزشتہ برسوں کی روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پیشگی اعلانات کے باوجود ادارے بجلی کی مستقل فراہمی میں ناکام رہے ہیں۔ واضح رہے رمضان میں صنعتی شعبے کے لیے لوڈشیڈنگ سے پیداواری سرگرمیاں متاثر ہوں گی، جب کہ برآمدات میں بھی مزید کمی ہوگی کیونکہ بجلی کے بغیر آرڈرز پورے کرنا مشکل ہوجائے گا۔ راست ہوگا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں رمضان میں شہریوں کو بجلی کی مستقل فراہمی کے لیے الیکٹرک اداروں کو پابند کریں۔
Load Next Story