ایم آر آئی آر ایم آئی اور ایم آئی آر

علاج کرانے جاتا ہے مریض، اور افاقہ ہو جاتا ہے اس کے ’’وارثوں‘‘ کو … دل دکھانے جاؤ تو وہ جیب کا علاج کرنے لگ جاتے ہیں

barq@email.com

شبہ تو ہمیں اپنے اوپر بہت پہلے سے تھا کہ ہمارے سیکنڈ فلور یا دوسرے خانے یعنی بالاخانے میں کچھ گڑ بڑ چل رہی ہے بلکہ یہ گڑ بڑ تقریباً جدی پشتی اور پیدائشی لگتی تھی ورنہ سارے جہاں کے اچھے اچھے ''پیشے'' چھوڑ کر ہم اس قلم گھسانے کے بے فیض بے ثمر اور بے فضول قسم کے پیشے میں کیوں آتے کہ جہاں یاران تیز گام نے منزل کو جا لیا اور وہاں محونالہ جرس کارواں ہے۔

ہمارے وہ تمام ساتھی جو بروقت اسکول چھوڑ کر چائلڈ لیبر جوائن کر گئے ان میں آج بڑے بڑے ٹھیکیدار، ٹرانسپورٹر، تاجر، صنعت کار بن گئے حتیٰ کہ ایک دو تو سیاست جوائن کر کے وزیر تک بن گئے اور ہم پڑھ پڑھ کر لکھ لکھ کر یاد کر کر کے ''کسان'' بن گئے اور کسان بھی وہ نہیں جو زمین کے سینے سے ہیرے موتی نکالتا ہے بلکہ وہ کسان جو کاغذ کے کھیت میں قلم کا ہل چلا کر پھول بوتا ہے اور کانٹے سمیٹ کر لے جاتا ہے اور پھر ان ہی کانٹوں پر لیٹ کر اپنے کیے کی بلکہ ''نہ کیے'' کی سزا پاتا ہے، لیکن اپنے اوپر کے بالاخانے میں گڑ بڑ کا احساس اس وقت یقین میں بدل گیا جب ایک ڈاکٹر نے ہمیں تین انگریزی حروف دے مارے، یہ تین حروف ایم آر آئی (MRI) تھے۔

فرمایا کہ آپ کو ایم آر آئی کرنا پڑے گا، پوچھا کیا بولے، آر ایم آئی میں ... یہ سن کر ہماری کیفیت ''آئی ایم آر'' ہو گئی یعنی وہاں گویا تھے ہی نہیں، ہم وہاں ''آئی ایم آر'' تو تھے لیکن حقیقت میں آئی ایم آر ناٹ تھے کیوں کہ ان دونوں یعنی ایم آر آئی اور آر ایم آئی کے بارے میں ہماری معلومات اچھی خاصی ڈرا دینے والی تھیں جہاں تک ان تین حروف کا پہلا کمبی نیشن یعنی ایم آر آئی کا تعلق ہے تو اسے سادہ زبان میں سر کا ایکسرے کہتے ہیں اور سر کا ایکسرے کروانے کا مطلب ہی یہی تھا کہ ہمارے اوپر کے خانے میں کچھ نہ کچھ خرابی ہے اور یہ اچانک اس لیے تھا کہ ہم وہاں گئے تھے صرف آنکھوں کے لیے چشمہ بنوانے کو ... کیوں کہ اکثر لوگوں کو ہم پر اعتراض تھا کہ ہم پاکستانی سیاست کے چشم دید گواہ ہیں اور یہ غلط بات تھی کیوں کہ پاکستانی سیاست کے لیے چشم دید نہیں بلکہ چشمہ دید ہونا ضروری تھا یعنی کسی بھی چیز کو ننگی آنکھ سے مت دیکھو ورنہ وہ ننگی نظر آئے گی اس لیے کوئی نہ کوئی چشمہ پہن کر دیکھنا چاہیے۔ہم نے یہ بھی سنا تھا کہ آج کل اسپتالوں ڈاکٹر اور کلینکوں میں ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ کا سلسلہ چل رہا ہے۔


علاج کرانے جاتا ہے مریض، اور افاقہ ہو جاتا ہے اس کے ''وارثوں'' کو ... دل دکھانے جاؤ تو وہ جیب کا علاج کرنے لگ جاتے ہیں، ہم بھی علاج بلکہ علاج بھی نہیں صرف آنکھ کا نمبر بنوانے گئے تھے یہاں بات گھٹنے... خیر اتنا تو ماننا پڑے گا کہ اپنے اس دوست ڈاکٹر نے ہم پر یہ شک تو نہیں کیا کہ گھٹنے کا ایکسرے کروانے کو کہتا، کیوں کہ ہماری تمام سرگرمیاں اور حرکات و سکنات سے یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ ہماری عقل ہمارے گھٹنے ہی میں ہو گی اس کا سب سے بڑا ثبوت ''ڈاکٹر یا اسپتال'' جانے کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے، دماغ کی نقل مکانی ہی کی وجہ سے تو یہ علاج معالجے کا سارا دھندہ آج کل رواں دواں ہے بلکہ دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے اور اس سے انسان کی ترقی کا اندازہ بھی ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر امرود سے تو آپ واقف ہیں کیوں کہ ان کالموں میں اس کا تاریخ و جغرافیہ بیان کیا چکا ہے، مختصر یوں کہ وہ بڑے آرام سے ایک سرکاری اسپتال کے گیٹ پر امرود فروخت کرتا رہا لیکن جب اس نے دیکھا کہ اپنے ''دو پیروں'' پر آنے والوں کو چار کاندھوں بارہ ٹانگوں (چارپائی سمیت) واپس بھیجنا کوئی مشکل کام نہیں ہے اتنی بڑی بڑی بلڈنگوں، تنخواہوں اور اخراجات کے بغیر بھی وہ یہ کام کر سکتا ہے بلکہ اس نے کچھ غور کے بعد اس میں ایک اور پرکشش پیش کش کا اضافہ کیا کہ ہر مریض کو چھ فٹ کا ایک پلاٹ بھی دیا جائے، اپنے گاؤں میں اپنے کلینک کو بیس سال تک کامیابی سے چلانے، گاؤں کی نوجوان نسل کو اپنی پرانی نسل کا ''کامیاب'' علاج کرانے کے بعد اس نے چار بار حج بھی کیا اور چھ بار عمرے کی سعادت حاصل کی۔

اپنے اغل بغل میں دو بھائیوں کو بھی باروزگار کیا جن میں ایک فروٹ کی دکان چلاتا ہے جو ڈاکٹر صاحب مریضوں کو تجویز کرتے ہیں دوسری طرف تیار قبروں اور تجہیز و تکفین کے سامان کی دکان دوسرے بھائی کو ڈلوائی، اپنے پلے سے رقم خرچ کر کے اس نے گاؤں کی ایک جانب سو کنال زمین پر ایک کالونی بھی بسائی ہے جہاں وہ اپنے ہر مریض کو 3x6 کا پلاٹ مفت الاٹ کرتا بلکہ مریض کے کلینک میں آتے ہی نسخے سے پہلے ھوالشافی کے فوراً بعد پلاٹ کی ملکیت رجسٹر ہو جاتی ہے، ڈاکٹر امرود نے علاوہ علاج معالجے کے اپنا ایک باقاعدہ فلسفہ بھی ایجاد کیا ہوا ہے جس کی بنیاد پر ایک لطیفے بلکہ مکالمے پر ہے کہ ایک شخص نے دوسرے سے کہا تم نکمے نکھٹو کچھ کام نہیں کرتے دن بھر اینڈتے رہتے ہو، کچھ کرو کچھ کماؤ میری طرح ۔ دوسرے نے کہا کاہے کو۔ پہلے نے کہا مجھے دیکھو کام کر کے کر کے پیسے جمع کر لوں گا پھر تجارت کروں گا زمین جائیدادیں خرید لوں گا بنگلے ہوں گے بینک بیلنس ہو گا۔ دوسرے نے کہا پھر ؟

پہلا بولا پھر میں آرام سے زندگی گزاروں گا ۔ دوسرے نے کہا وہ تو میں اب بھی گزار رہا ہوں اس مقام پر پہنچنے کے لیے اتنے پاپڑ بیلنے کی کیا ضرورت۔ ڈاکٹر امرود نے اس لطیفے کے شکم سے یہ فلسفہ نکالا ہے کہ ایک دن جب انسان کو مرنا ہی ہے تو علاج معالجے کی تکالیف پریشانیوں اور خرچے سے پہلے پہلے ہی کیوں نہ یہ مقام حاصل کیا جائے، لیکن یہ سارا چکر ہم نے ڈاکٹر امرود کے اصل اور بنیادی فلسفے کو بیان کرنا شروع کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ آج کل انسان کی مشینری بالکل بدل گئی ہے گھٹنوں کی بیماریاں اس لیے بڑھ گئی ہے کہ لوگ اپنی عقل گھٹنوں میں رکھنے لگے ہیں اور چونکہ عقل گھٹنوں میں ہے اس لیے باقی کے سارے کام اس خالی مکان سے لینے لگے ہیں جہاں جالوں اور مچھر مکھیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور غالباً ہمارے ساتھ ایسا ہی کچھ ہوا کہ ماروں آنکھ پھوٹے گھٹنا ... ایم آر آئی، آر ایم آئی اور آئی ایم آر یا ناٹ آر میں ایسے پھنس چکے ہیں کہ آر آئی ایم ؟
Load Next Story