سیاسی مفادات کی تحریکیں
1983 کی ایم آر ڈی کی تحریک اگرچہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکی،
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں تین تحریکیں بہت مشہور ہوئیں۔ ایک 1968 میں ایوب خان کے خلاف چلائی جانے والی تحریک، دوسری 1977 میں بھٹو کے خلاف چلائی جانے والی تحریک، تیسری 1983 میں ضیا الحق کے خلاف ایم آر ڈی کی تحریک۔ 1968 کی تحریک کو اس لیے کامیاب تحریک کہا جاتا ہے کہ اس تحریک کے ذریعے عوام نے ایک فوجی ڈکٹیٹر کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا اور اسی تحریک کا دباؤ تھا کہ یحییٰ خان کو 1970 میں انتخابات کرانے پڑے اور مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کامیاب ہوئی اور مغربی پاکستان میں پیپلزپارٹی کوعوامی حمایت حاصل ہوئی لیکن 1977 کی 9 ستاروں کی تحریک اگرچہ اس حوالے سے کامیاب ہوئی کہ بھٹوکو اقتدار سے الگ کیا گیا، لیکن 1977 کی تحریک اس حوالے سے ناکام ترین تحریک تھی کہ ایک منتخب حکمران کو ہٹا کر ایک پسماندہ ذہنیت کے فوجی جنرل نے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور جمہوریت کے 9 پروانے فوجی آمریت پر نثار ہوگئے۔
1983 کی ایم آر ڈی کی تحریک اگرچہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکی، لیکن اس تحریک کو کامیاب اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ایک بدترین فوجی ڈکٹیٹر کے خلاف عوامی اور سیاسی کارکنوں نے بہت قربانیاں دیں اورفوجی ڈکٹیٹر کو یہ احساس دلایا کہ عوام فوجی ڈکٹیٹروں کے ظلم کے خلاف سینہ سپر ہوسکتے ہیں۔ اس سے قبل کہ ہم ان تحریکوں کی خوبیوں اورخرابیوں کا جائزہ لیں۔
ایک نظر 2014 کی دھرنا تحریک پر ڈالتے ہیں۔ 2014ء کی تحریک دراصل دو ایسے سیاستدانوں کی تحریک تھی جو نعرے تو انقلاب کے لگا رہے تھے لیکن ان کا واحد ہدف وزیراعظم نواز شریف تھے۔ انقلابی نعروں سے شروع ہونے والی یہ تحریک ''گو نوازگو'' کے اسٹاپ پر اس لیے دم توڑ گئی کہ یہ تحریک منصوبہ بندی اور واضح مقاصد سے عاری تھی اور اسلام آباد کے ڈی چوک تک محدود تھی۔ اس تحریک میں سیاسی کارکن اور ایک مخصوص جنٹری تو شریک تھی لیکن عوام اس تحریک میں شامل نہ تھے اگر طاہر القادری کے نظریاتی کارکن اس تحریک میں شامل نہ ہوتے تو یہ تحریک چند دن ہی میں تتر بتر ہوجاتی۔
تحریک انصاف نے اسلام آباد کی دھرنا تحریک میں موثرکردار تو ادا کیا لیکن تحریک انصاف کا واحد مقصد نواز شریف کو اقتدار سے ہٹانا تھا، یوں یہ تحریک ایک نان ایشوکی تحریک بن گئی اب پانامہ لیکس کے ایشو پر تحریک انصاف سڑکوں پر آنے کے لیے پر تول رہی ہے لیکن یوں محسوس ہو رہا ہے کہ اس کا ہدف بھی محض نواز شریف کی ذات ہی ہوگی۔
اس لیے عوام کی اس ممکنہ تحریک میں شرکت ممکن نظر نہیں آتی ، پانامہ لیکس کے حوالے سے پیپلز پارٹی بھی بڑی تیز آواز میں بول رہی ہے لیکن پیپلز پارٹی کی نوجوان قیادت کو اس لیے سخت لہجے کے ساتھ آگے لایا گیا کہ 2013 کی شکست کا ازالہ کیا جائے ورنہ مسلم لیگ (ن) تو پیپلز پارٹی کی نظریاتی ساتھی ہے اور یہ مسلم لیگ (ن) کی مہربانی ہی تھی کہ پی پی پی اپنی پانچ سالہ مدت اپنے خراب ترین ریکارڈ کے ساتھ پوری کرسکی ۔ پیپلز پارٹی کے منصوبہ ساز سمجھتے ہیں کہ اگر آف شورکمپنیوں کے خلاف زیادہ سخت لہجے میں بات کی جائے تو عوام اس کی پچھلی غلطیاں معاف کردیں گے، لیکن عوام اب اس حد تک تو باشعور ہوگئے ہیں کہ وہ اصلی نقلی کو پہچان سکتے ہیں انھیں اس حقیقت کا پوری طرح ادراک ہے کہ محض چہروں کی تبدیلی سے ان کے دیرینہ مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ ان کے 69 سالہ مسائل کو حل کرنے کے لیے اس اسٹیٹس کو کو توڑنا پڑے گا جس میں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی سرفہرست ہیں۔
جینوئین سیاسی تحریکیں فرد یا افراد کے خلاف نہیں چلائی جاتیں بلکہ عوامی مسائل اور عوامی مسائل کو جنم دینے والا نظام ان کا ہدف ہوتا ہے اور بدقسمتی سے پاکستان میں کوئی ایک بھی ایسی سیاسی پارٹی موجود نہیں جس کا ہدف یہ گلا سڑا ظالمانہ اشرافیائی نظام ہو۔ آف شور کمپنیوں کے مسئلے پر بھی سیاسی جماعتوں میں اختلاف رائے موجود ہے خود پیپلز پارٹی کے بعض سینئر رہنما بلاول کے ہدف سے کھلم کھلا اختلاف کر رہے ہیں اور بہانہ یہ بنا رہے ہیں کہ تحریک چلی تو جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔
عمران خان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بات تو نئے پاکستان کی کرتے ہیں لیکن نئے پاکستان کو بنانے کے لیے ایسی جماعتوں سے اتحاد کرتے ہیں جو لفظ ''نئے'' سے ہی الرجک ہیں اور جو مستقبل کی طرف سفر کرنے کے بجائے عوام کو ماضی کی طرف دھکیلنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں ۔ عمران خان یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اقتدار کا راستہ عوام کی منزل سے ہوکر جاتا ہے اور عوام کسی ایسے رہنما کے پیچھے چلنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہوسکتے جس کی نظریں اقتدار پر لگی ہوئی ہوں۔
اس تناظر میں اگر ہم 1968 اور 1977 کی تحریکوں کا جائزہ لیں تو یہی مایوس کن حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان تحریکوں کے اہداف بھی افراد تھے نظام کی تبدیلی نہ تھا بلکہ بھٹو کے خلاف 9 ستاروں کی تحریک کا اسپانسر امریکا تھا اور اس تحریک کو چلانے کے لیے تحریک کے معززین کی راہ میں ڈالر بچھا دیے گئے تھے۔ 1977 کی تحریک میں بعض مذہبی جماعتوں کے کارکنوں نے بڑے منظم اور منصوبہ بند طریقوں سے حصہ لیا۔
ہم ایک دن اپنے دوستوں کے ساتھ صدر کے ایک میڈیکل اسٹور پر دوائیں خرید رہے تھے کہ مسافروں سے بھری ایک بس میڈیکل اسٹور کے اسٹاپ پر آکر رکی۔ ایک مذہبی جماعت کے دو باریش کارکن ہاتھوں میں پٹرول کے ڈبے اٹھائے چیختے چلاتے بس میں چڑھ گئے اور مسافر ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہوئے بس سے باہر نکلنے لگے جب بس خالی ہوئی تو محترم کارکنوں نے بس میں پٹرول چھڑک دیا اور باہر نکل کر جلتی دیا سلائی بس میں پھینک دی بس دھڑا دھڑ جلنے لگی اور ایسی بھگدڑ مچی کہ چند منٹوں میں صدر کی ساری دکانیں بند ہوگئیں اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ تحریکیں اس طرح بھی چلائی جاتی ہیں۔
1983 کی ایم آر ڈی کی تحریک اگرچہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکی، لیکن اس تحریک کو کامیاب اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ایک بدترین فوجی ڈکٹیٹر کے خلاف عوامی اور سیاسی کارکنوں نے بہت قربانیاں دیں اورفوجی ڈکٹیٹر کو یہ احساس دلایا کہ عوام فوجی ڈکٹیٹروں کے ظلم کے خلاف سینہ سپر ہوسکتے ہیں۔ اس سے قبل کہ ہم ان تحریکوں کی خوبیوں اورخرابیوں کا جائزہ لیں۔
ایک نظر 2014 کی دھرنا تحریک پر ڈالتے ہیں۔ 2014ء کی تحریک دراصل دو ایسے سیاستدانوں کی تحریک تھی جو نعرے تو انقلاب کے لگا رہے تھے لیکن ان کا واحد ہدف وزیراعظم نواز شریف تھے۔ انقلابی نعروں سے شروع ہونے والی یہ تحریک ''گو نوازگو'' کے اسٹاپ پر اس لیے دم توڑ گئی کہ یہ تحریک منصوبہ بندی اور واضح مقاصد سے عاری تھی اور اسلام آباد کے ڈی چوک تک محدود تھی۔ اس تحریک میں سیاسی کارکن اور ایک مخصوص جنٹری تو شریک تھی لیکن عوام اس تحریک میں شامل نہ تھے اگر طاہر القادری کے نظریاتی کارکن اس تحریک میں شامل نہ ہوتے تو یہ تحریک چند دن ہی میں تتر بتر ہوجاتی۔
تحریک انصاف نے اسلام آباد کی دھرنا تحریک میں موثرکردار تو ادا کیا لیکن تحریک انصاف کا واحد مقصد نواز شریف کو اقتدار سے ہٹانا تھا، یوں یہ تحریک ایک نان ایشوکی تحریک بن گئی اب پانامہ لیکس کے ایشو پر تحریک انصاف سڑکوں پر آنے کے لیے پر تول رہی ہے لیکن یوں محسوس ہو رہا ہے کہ اس کا ہدف بھی محض نواز شریف کی ذات ہی ہوگی۔
اس لیے عوام کی اس ممکنہ تحریک میں شرکت ممکن نظر نہیں آتی ، پانامہ لیکس کے حوالے سے پیپلز پارٹی بھی بڑی تیز آواز میں بول رہی ہے لیکن پیپلز پارٹی کی نوجوان قیادت کو اس لیے سخت لہجے کے ساتھ آگے لایا گیا کہ 2013 کی شکست کا ازالہ کیا جائے ورنہ مسلم لیگ (ن) تو پیپلز پارٹی کی نظریاتی ساتھی ہے اور یہ مسلم لیگ (ن) کی مہربانی ہی تھی کہ پی پی پی اپنی پانچ سالہ مدت اپنے خراب ترین ریکارڈ کے ساتھ پوری کرسکی ۔ پیپلز پارٹی کے منصوبہ ساز سمجھتے ہیں کہ اگر آف شورکمپنیوں کے خلاف زیادہ سخت لہجے میں بات کی جائے تو عوام اس کی پچھلی غلطیاں معاف کردیں گے، لیکن عوام اب اس حد تک تو باشعور ہوگئے ہیں کہ وہ اصلی نقلی کو پہچان سکتے ہیں انھیں اس حقیقت کا پوری طرح ادراک ہے کہ محض چہروں کی تبدیلی سے ان کے دیرینہ مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ ان کے 69 سالہ مسائل کو حل کرنے کے لیے اس اسٹیٹس کو کو توڑنا پڑے گا جس میں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی سرفہرست ہیں۔
جینوئین سیاسی تحریکیں فرد یا افراد کے خلاف نہیں چلائی جاتیں بلکہ عوامی مسائل اور عوامی مسائل کو جنم دینے والا نظام ان کا ہدف ہوتا ہے اور بدقسمتی سے پاکستان میں کوئی ایک بھی ایسی سیاسی پارٹی موجود نہیں جس کا ہدف یہ گلا سڑا ظالمانہ اشرافیائی نظام ہو۔ آف شور کمپنیوں کے مسئلے پر بھی سیاسی جماعتوں میں اختلاف رائے موجود ہے خود پیپلز پارٹی کے بعض سینئر رہنما بلاول کے ہدف سے کھلم کھلا اختلاف کر رہے ہیں اور بہانہ یہ بنا رہے ہیں کہ تحریک چلی تو جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔
عمران خان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بات تو نئے پاکستان کی کرتے ہیں لیکن نئے پاکستان کو بنانے کے لیے ایسی جماعتوں سے اتحاد کرتے ہیں جو لفظ ''نئے'' سے ہی الرجک ہیں اور جو مستقبل کی طرف سفر کرنے کے بجائے عوام کو ماضی کی طرف دھکیلنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں ۔ عمران خان یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اقتدار کا راستہ عوام کی منزل سے ہوکر جاتا ہے اور عوام کسی ایسے رہنما کے پیچھے چلنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہوسکتے جس کی نظریں اقتدار پر لگی ہوئی ہوں۔
اس تناظر میں اگر ہم 1968 اور 1977 کی تحریکوں کا جائزہ لیں تو یہی مایوس کن حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان تحریکوں کے اہداف بھی افراد تھے نظام کی تبدیلی نہ تھا بلکہ بھٹو کے خلاف 9 ستاروں کی تحریک کا اسپانسر امریکا تھا اور اس تحریک کو چلانے کے لیے تحریک کے معززین کی راہ میں ڈالر بچھا دیے گئے تھے۔ 1977 کی تحریک میں بعض مذہبی جماعتوں کے کارکنوں نے بڑے منظم اور منصوبہ بند طریقوں سے حصہ لیا۔
ہم ایک دن اپنے دوستوں کے ساتھ صدر کے ایک میڈیکل اسٹور پر دوائیں خرید رہے تھے کہ مسافروں سے بھری ایک بس میڈیکل اسٹور کے اسٹاپ پر آکر رکی۔ ایک مذہبی جماعت کے دو باریش کارکن ہاتھوں میں پٹرول کے ڈبے اٹھائے چیختے چلاتے بس میں چڑھ گئے اور مسافر ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہوئے بس سے باہر نکلنے لگے جب بس خالی ہوئی تو محترم کارکنوں نے بس میں پٹرول چھڑک دیا اور باہر نکل کر جلتی دیا سلائی بس میں پھینک دی بس دھڑا دھڑ جلنے لگی اور ایسی بھگدڑ مچی کہ چند منٹوں میں صدر کی ساری دکانیں بند ہوگئیں اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ تحریکیں اس طرح بھی چلائی جاتی ہیں۔