معاشی حقائق کی شفافیت

وفاقی حکومت کی سخت مالیاتی کنٹرول کے باعث افراط زر پر قابو پانے کی کوشش حوصلہ افزا رہی

اسحٰق ڈار نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث برآمدات متاثر ہوئی ہیں، فوٹو : پی آئی ڈی

وفاقی حکومت نے رواں مالی سال 2015-16 کا اقتصادی جائزہ پیش کردیا ہے جس کے مطابق حکومت بیشتر اقتصادی اہداف حاصل نہیں کرسکی، برآمدات میں کمی جب کہ زرمبادلہ کے ذخائر اور ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ، زرعی شعبے کی شرح نمو منفی 0.19 رہی۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحٰق ڈار نے پریس کانفرنس میں اقتصادی جائزہ پیش کیا۔اس موقعے پر وفاقی سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔

اقتصادی سروے پر سیاسی حلقوں سمیت معاشی تجزیہ کاروں اور اقتصادی مبصرین کا ملا جلا رد عمل بھی سامنے آیا ہے تاہم حکومت کے اہم شعبوں میں بنیادی اہداف تک عدم رسائی پر نقطہ نظر میں گہرا فرق دیکھا گیا ہے، بعض معترضین کا کہنا ہے کہ اقتصادی سروے کی اہمیت اس اعتبار سے نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اس میں حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ آیندہ مالی سال کے لیے پیش ہونے والے بجٹ سے قبل ترقی و استحکام اور ملکی معیشت کی ایک اطمینان بخش تصویر قوم کے سامنے پیش کی جائے مگر میڈیا کے دباؤ اور ذرایع ابلاغ کی آزادی کے حالیہ عشروں میں کسی حکومت کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ ملکی معیشت کے غلط اعداد و شمار کے ذریعے عوام یا عالمی مالیاتی اداروں سے کوئی ڈبل گیم کھیل سکے،اس لیے وزیر خزانہ نے معاشی حقائق اور حکومتی اقتصادی اور مالیاتی پیش رفت اور اقدامات و پالیسیوں پر عملدرآمد پر مبنی جو سروے پیش کیا ہے۔

اس کے مثبت پہلوؤں کا اقتصادی ماہرین بھی جائزہ لیں گے اور اس کی روشنی میں آیندہ مالی سال 2016-17 کے بجٹ سے وابستہ کی جانے والی توقعات اور خدشات کو پیش نظر رکھ سکیں گے ۔اقتصادی سروے سے اس امر کا اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کی توجہ زیادہ تر صنعتی اور سروسز کے سیکٹر پر مرکوز رہی اور یہ احساس زیاں بھی سامنے آیا کہ ملکی زراعت کو نظر انداز کرنے اور کسانوں اور ہاریوں کی زندگی میں کوئی خوشگوار تبدیلی لانے کا کوئی وعدہ گرین انقلاب جیسی چیز کی نوید نہیں دے سکا۔ ارباب اختیار اپنے معاشی اقدامات اور پالیسیوں کے آئینہ میں خلق خدا کے دکھوں اور عذابوں کا بھی جائزہ لیں اور تسلیم کریں کہ عوام بنیادی ریلیف سے آج بھی محروم ہیں۔ یہ خوش آیند بات ہے کہ حکومت نئے بجٹ میں زراعت کی تنظیم و تشکیل نو اور زرعی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑے کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کا اعلان کرنے کے موڈ میں ہے۔


وفاقی حکومت کی سخت مالیاتی کنٹرول کے باعث افراط زر پر قابو پانے کی کوشش حوصلہ افزا رہی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں جی ڈی پی کی شرح نمو مقرر کردہ ہدف 5.5 کے مقابلے میں 4.71 فیصد رہی اور اگر کپاس کی فصل خراب نہ ہوئی ہوتی تو یہ شرح اپنے ہدف کے مزید قریب ہوتی، کپاس کی فصل میں28 فیصد کمی ہوئی جس سے جی ڈی پی میں 0.5 فیصد کمی ہوئی جب کہ مجموعی صنعتی شرح نمو میں اضافہ ہوا ہے اور صنعتی ترقی 6.8 فیصد رہی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی کارکردگی میں کمی ہوئی جس کی شرح نمو منفی 0.19 فیصد رہی جب کہ اس کا ہدف 3.9فیصد رکھا گیا تھا۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث برآمدات متاثر ہوئی ہیں ۔ایف بی آر نے گزشتہ سال کے 10ماہ کی ٹیکس وصولیوں 1973.6ارب روپے کے مقابلے میں رواں سال2346.1 ارب روپے وصولیاں کی ہیں، گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں مالی سال ٹیکس محصولات میں جی ڈی پی کی شرح کے تناسب سے 10.1 فیصد کا اضافہ ہوا اور اس سال ہدف حاصل کرلیا جائے گا، وزیر خزانہ نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ کی وجہ سے قومی معیشت کو مجموعی طور پر اب تک 118.32 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے ۔انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف توسیع فنڈ سہولت پروگرام کے تحت گیارہ معاشی جائزے مکمل ہو چکے ہیں، اگلا جائزہ ستمبر میں مکمل ہوگا، حکومت آئی ایم ایف کا نیا پروگرام لینے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئی ایم ایف پروگرام کامیابی کے ساتھ مکمل ہونے جا رہا ہے، یہ پروگرام ہمارے اپنے ایجنڈے کے مطابق ہے۔

تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز نے اقتصادی جائزہ رپورٹ پر اپنا تبصرہ جاری کیا ہے جس کے مطابق حکومت کی پوری کوشش کے باوجود اس کی مقرر کردہ جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔ تھنک ٹینک کے مطابق ملک کے اندر صنعتی اور زرعی شعبہ زوال کا شکار ہیں، بجلی کی کمی بھی تسلسل سے جاری ہے، ان حالات میں یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ جی ڈی پی کی گروتھ پچھلے سال کی نسبت زیادہ ہے۔

تاہم اقتصادی ماہرین کا یہ استدلال رد نہیں کیا جانا چاہیے کہ حکومت گروتھ اور ڈیولپمنٹ کے درمیان تسلسل اور تعلق کے ضمن میں واضح نہیں رہی، اسی لیے حکومتی ذرایع سے یہ مثبت تاثر ابھارا جارہا ہے کہ اب گروتھ اورینٹڈ بجٹ کی اہم چیز زراعت کی نشاۃ ثانیہ ہوگی۔ مسلم لیگ ن کی حکومت اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھے کہ ماضی میں ایسا وقت بھی آیا تھا جب عالمی مالیاتی ادارے پاکستانی ارباب اختیار کے دیے گئے سرکاری اعداد و شمار پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہوتے تھے، اس لیے معاشی حقائق کی شفافیت ناقابل تردید ہونی شرط ہے۔
Load Next Story