وفاقی بجٹ 201617 توقعات و خدشات

داخلی سلامتی اور ملک کے دفاع کو مضبوط تر بنانے کے لیے دفاعی بجٹ میں خطیر رقم مختص کرنا تقاضائے وقت ہے

اب لازم ہے کہ قرضوں پر پلنے والی جمہوریت خود کفالت اور کشکول توڑ معیشت کی سمت قدم بڑھائے، فوٹو : پی آئی ڈی

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے جمعہ کی شام قومی اسمبلی میں آیندہ مالی سال 2016-17ء کے لیے 43 کھرب 95 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا ہے جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں دس فیصد اضافہ اور مزدور کی 14000تنخواہ کرنے، زرعی ادویات، کھاد، زرعی آلات، مشینری اور ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی، پلاسٹک کے کھلونے، برتن، شاپنگ بیگ سستے کرنیکا اعلان کیا گیا ہے، صنعتی برآمدات کے5 بڑے شعبوں ٹیکسٹائل، چمڑے، قالین بافی، کھیلوں کی مصنوعات اور سرجری کے آلات کو زیرو ریٹڈ سیلز ٹیکس کے نظام کے تحت کر دیا جائے گا، ایل ای ڈی لائٹس پر درآمدی ڈیوٹی 20 سے کم کر کے 5 فیصد کر دی گئی ہے، سولر پینل کے حصول کی درآمد پر ڈیوٹی کی چھوٹ پر ایک سال کی توسیع برقرار رکھی گئی ہے۔

زیر نظر بجٹ اپنی ساخت، اعداد وشمار کے الٹ پھیر، ٹیکسوں کے نئے اہداف اور معیشت و سماج کے ارتقا و بقا کے حوالہ سے تجویز کردہ اہداف و اقدامات کے تناظر میں کسی طور انقلاب آفریں نہیں، اس لیے کہ ملک کی اساس زرعی معیشت پر استوار ہے جس میں جاگیرداری پر براہ راست ضرب پڑے بغیر کسانوں اور ہاریوں کے دن کیسے پھریں گے اس لیے حکومت نے زراعت کے شعبے کے لیے جن رقومات اور اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے ان بجٹ تجاویز پر ان کی روح کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔ بظاہر ماضی میں جو بجٹ آتے رہے ہیں یہ بجٹ بھی ان سے مختلف نہیں۔

تاہم اقتصادی ماہرین نے اسے متوازن بجٹ کہا ہے اور زراعت کے لیے اقدامات کو انقلابی قراردیا ہے مگر ٹیکس اسکیموں کی ناکامی پر تشویش ظاہر کی ہے جب کہ اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے پیش کیے گئے وفاقی بجٹ 2016-17ء کو مسترد کرتے ہوئے اسے ماضی کی طرح عوام دشمن اور آئی ایم ایف کا بجٹ قراردیا ہے، ادھر ملک بھر کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور تاجروں نے بجٹ پر ملے جلے ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا محور زرعی شعبہ اور ٹیکس وصولیاں قرار دے دیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ غریب عوام پر ڈرون حملہ کیا گیا، اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ سے خود کشیوں میں اضافہ ہوگا، غیرملکی قرضوں سے نجات کا کوئی ٹھوس پلان شامل نہیں۔

ایک ممتاز ماہر اقتصادیات کے مطابق بجٹ میں بڑے اور بنیادی مسائل پر کوئی بات نہیں کی گئی، پیٹرولیم مصنوعات پر زیادہ ٹیکس لگا کر بجٹ خسارہ پورا کرنے اور سارا بوجھ غریبوں پر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ واضح رہے بجٹ خسارہ 1615 ارب روپے بتایا گیا ہے۔ اسی طرح کرپشن کی روک تھام اور شفاف انتظامی ڈھانچہ کی اصلاح کی طرف بے توجہی برتی گئی جب کہ پانامہ لیکس پیپرز کی شکل میں منظر عام پر آنے والے انکشافات نے پورے سیاسی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے ، ایک تھنک ٹینک نے نشاندہی کی ہے کہ طرز حکمرانی کا کہیں ذکر نہیں، تاہم بجٹ میں بیرون ملک جائیداد کی خریداری پر 15 فی صد ٹیکس اور ڈیکلیریشن فارم جمع کرانا لازم قراردیا گیا ہے۔

اسی طرح حکومت کی ناقص ٹیکس اسکیم کی ناکامی بھی محل نظر ہے، سرکاری ملازمین کی نمایندہ ملک گیر تنظیم آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ملک بھر کے 35لاکھ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں10 فی صد اضافہ سنگین مذاق ہے ، جب کہ مزدور و کسان تنظیموں نے بجٹ میں تنخواہوں پر عدم اطمینان ظاہر کیا ہے، جو بے جا نہیں ہے، مزدور کی تنخواہ 13 ہزار سے بڑھا کر 14 ہزار کی گئی ہے، جب کہ شدید مہنگائی کے باعث محنت کش طبقہ خط افلاس سے نیچے گر رہا ہے، مہنگائی اور بیروزگاری کم ہونے کی نوید حقیقت سے ہم آہنگ نہیں، پورے ملک میں اشیائے خور ونوش مہنگے ہیں، کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں، عجیب لوٹ مار مچی ہوئی ہے۔


غریب مہنگا تعمیراتی میٹیریل خریدنے کی سکت ہی نہیں رکھتے، جب کہ سیمنٹ مزید مہنگا کر دیا گیا، سریا ، ریتی بجری ، سیمنٹ کے بلاکس سمیت لکڑی کے سامان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، عوام بجٹ سے مہنگائی کے نئے طوفان کی آمد سے خوفزدہ ہیں۔ بجٹ کے خوش آیند پہلو بھی ہیں۔ داخلی سلامتی اور ملک کے دفاع کو مضبوط تر بنانے کے لیے دفاعی بجٹ میں خطیر رقم مختص کرنا تقاضائے وقت ہے ۔ تعلیم ، آئی ٹی پارکس کی تعمیر ، صحت، توانائی، ایٹمی توانائی کمیشن کے منصوبوں، مواصلات اور اقتصادی راہداری منصوبہ کے حوالہ سے رقوم مختص کرنے کی اپنی ایک اہمیت ہے، اسکول فیس ادائیگی پر 5 فی صد ، بیواؤں، معمر افراد کی جائیداد کے کرائے میں ٹیکس کی سہولت، پراویڈنٹ فنڈ میں آجر کا حصہ ڈیڑھ لاکھ کرنے کا فیصلہ، سبسڈی کے لیے مختص ایک کھرب 40 ارب60 کروڑ روپے مناسب اقدامات ہیں۔

وزیرخزانہ اسحق ڈار نے آیندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ معیشت کو درپیش خطرات ٹل چکے ہیں اور ملک استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ پاکستان کے جون 2014ء تک دیوالیہ ہونے کی پیش گوئیاں کرنیوالے ناکام ہوگئے اور ہم نے ملک کو نہ صرف دیوالیہ ہونے سے بچایا بلکہ معیشت کو اتنا مستحکم کیا ۔ وزیر خزانہ نے سرکاری ملازمین، پنشنرز اور ورکرز کے لیے متعدد ریلیف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 2013ء اور 2014ء کے ایڈہاک ریلیف کو بنیادی تنخواہ کا حصہ بنایا جا رہا ہے اور وفاقی حکومت کے تمام ملازمین کو یکم جولائی 2016ء سے رواں بنیادی تنخواہ پر 10فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جائے گا جب کہ وفاق کے 85 سال سے زائد عمر کے پنشنرز کی پنشن میں 25 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، مزدور طبقے کی کم سے کم اجرت 13 ہزار سے بڑھا کر 14 ہزار روپے کردی گئی ہے ۔

اسحاق ڈار نے کاشت کاروں کے لیے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی 2016 سے کھاد کی فی بوری قیمت 1400 روپے اور ڈی اے پی کھاد 2500 روپے کی جارہی ہے جب کہ خصوصی رعایت کی مد میں حکومت تقریباً 27 ارب روپے کے اخراجات اٹھائے گی۔ وزیر خزانہ قوم کو قائل کریں کہ انقلاب عنقریب زرعی معیشت کی دہلیز پر دستک دینے والا ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق صنعت نے 6.8 فیصد کی شرح ترقی سے موجودہ سال میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا لہٰذا صنعتی یونٹس پر ڈیوٹی کی شرح 5 سے کم کر کے3 فیصد کردی گئی جب کہ ٹیکسٹائل کے شعبے میں ٹیکنالوجی اسکیم یکم جولائی سے نافذ ہوگی، ٹیکس کریڈٹ کی مدت کو بڑھا کر30 جون 2019 تک توسیع کرنے کی تجویز دی گئی ہے، یہاں بھی ہمہ گیر صنعتی ترقی کے لیے حکومت کو اپنے اس وعدہ کو پورا کرنا ہوگا کہ پورا پاکستان ایک لحاظ سے ڈیوٹی فری اکنامک زون بن جائے گا۔ سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کے تحت آیندہ وفاقی بجٹ میں ریلوے ڈویژن کے لیے مجموعی طور پر 41ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جس میں سے 36ارب 66کروڑ 15لاکھ 26ہزار روپے جاری منصوبوں جب کہ دو ارب 45کروڑ روپے نئے منصوبوں کے لیے رکھے گئے ہیں۔

ریلوے ڈویژن کو آیندہ مالی سال کے بجٹ میں سی پیک منصوبوں کے لیے ایک ارب 88کروڑ 82لاکھ 74ہزار روپے کی رقم فراہم کی جائے گی ۔ جامشورو پاور پلانٹ کو ریل کے ذریعے کوئلے کی ترسیل کے منصوبے کے لیے دو ارب 33کروڑ 17لاکھ ایک ہزار روپے فراہم کیے جائینگے۔ بلاشبہ وزیر داخلہ کو یہ ادراک کرنا ہوگا کہ ملکی و غیر ملکی قرضوں کی معہ سود ادائیگی ایک چیلنج ہے، حکومت ملکی قرضوں کی مد میں 12 کھرب47 ارب روپے مارک اپ،جب کہ 807.443 ارب روپے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کرے گی ، گذشتہ 9ماہ کے دوران قرضوں کی سود کی ادائیگی کی مد میں حکومت 13کھرب 71 ارب روپے ادا کرچکی ہے۔ اب لازم ہے کہ قرضوں پر پلنے والی جمہوریت خود کفالت اور کشکول توڑ معیشت کی سمت قدم بڑھائے ورنہ مالی سال کے خاتمہ پر ایسا نہ ہو کہ مایوس اور مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام گنگنا رہے ہوں:

آندھی میں اک دیپ جلایا اور پانی میں آگ لگائی
Load Next Story