دنیائے باکسنگ کے کنگ محمد علی کا انتقال
سابق ہیوی ویٹ چیمپئن سانس کی تکلیف کے باعث کئی دن سے اسپتال میں زیر علاج تھے
یہ حقیقت ہے کہ محمد علی کے انتقال سے باکسنگ کا ایک عظیم دور اپنے اختتام کو پہنچا، لیکن محمد علی کا تذکرہ آیندہ آنے والی نسلوں تک ہوتا رہے گا۔ وٹو : فائل
باکسنگ لیجنڈ محمد علی 74 سال کی عمر میں امریکا میں انتقال کرگئے۔ سابق ہیوی ویٹ چیمپئن سانس کی تکلیف کے باعث کئی دن سے اسپتال میں زیر علاج تھے۔ باکسر محمد علی کے انتقال کے بعد دنیائے باکسنگ کے ایک عظیم باب کا اختتام ہوگیا۔ واضح رہے کہ امریکا کی ریاست کینٹکی میں 17 جنوری 1942ء کو جنم لینے والے باکسر محمد علی پہلے کیسیئس کلے کے نام سے جانے جاتے تھے، انھوں نے باکسنگ کی تربیت 12 سال کی عمر سے لینا شروع کی اور 22 سال کی عمر میں ہیوی ویٹ چیمپئن شپ کا عالمی ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔
سونی لسٹن کے خلاف 25 فروری 1964ء کو ہونے والے اہم مقابلے کے اگلے ہی دن انھوں نے اعلان کیا کہ وہ اسلام قبول کررہے ہیں اور اپنا نام بدل کر محمد علی رکھ رہے ہیں۔ یہ دور ان کے کیریئر کا عروج تھا لیکن مذہب اسلام قبول کرنے کے بعد انھیں کئی سمت سے مخالفتوں اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ عالمی ٹائٹل جیتنے کے محض تین سال بعد 1967ء میں محمد علی نے اپنے مذہبی عقائد اور امریکا کے ویت نام جنگ میں ملوث ہونے کی مخالفت کی بنا پر امریکی فوج میں بھرتی ہونے سے انکار کردیا تھا جس کی پاداش میں نہ صرف انھیں گرفتار کرلیا گیا بلکہ مقدمہ بھی چلایا گیا، اس طرح انھوں نے اپنے کیریئر کے 4 سال گنوا دیے۔ کسی بھی ایتھلیٹ کے لیے اپنے کیریئر کا یہ دور بہت قیمتی ہوتا ہے لیکن جس طرح محمد علی نے جنگ مخالفت پر اپنے موقف کا اظہار کیا اور پامردی سے ڈٹے رہے وہ ہر شخص کے لیے قابل تعظیم وتقلید ہے۔
بعد ازاں محمد علی کے کیریئر کے دوسرے دور کا آغاز ہوا جس میں انھوں نے 1974ء اور 1978ء میں دوبارہ عالمی ٹائٹل کا اعزاز حاصل کیا اس طرح وہ تین مرتبہ عالمی فاتح رہے۔ واضح رہے محمد علی نے 1984ء میں پارکنسنز کی تشخیص کے بعد باکسنگ چھوڑ دی تھی۔ اپنے کیریئر میں انھوں نے کل 61 مقابلے کیے جس میں 56 جیتے اور صرف 5 مقابلے ہارے، انھوں نے 37 ناقابل شکست ناک آؤٹ میچ جیتے۔ انھوں نے چار شادیاں کیں جن سے 7 بیٹیاں اور دو بیٹے ہوئے۔ ان کی ایک بیٹی لیلیٰ علی نے بھی اپنے باپ کی طرح باکسنگ کیریئر کو اپنایا۔ محمد علی نے اپنے کیریئر سے متعلق کئی بیسٹ سیلر کتابیں بھی لکھیں جن میں ''مائی اون اسٹوری'' اور ''دی سول آف اے بٹرفلائی'' شامل ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ محمد علی کے انتقال سے باکسنگ کا ایک عظیم دور اپنے اختتام کو پہنچا، لیکن محمد علی کا تذکرہ آیندہ آنے والی نسلوں تک ہوتا رہے گا۔
سونی لسٹن کے خلاف 25 فروری 1964ء کو ہونے والے اہم مقابلے کے اگلے ہی دن انھوں نے اعلان کیا کہ وہ اسلام قبول کررہے ہیں اور اپنا نام بدل کر محمد علی رکھ رہے ہیں۔ یہ دور ان کے کیریئر کا عروج تھا لیکن مذہب اسلام قبول کرنے کے بعد انھیں کئی سمت سے مخالفتوں اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ عالمی ٹائٹل جیتنے کے محض تین سال بعد 1967ء میں محمد علی نے اپنے مذہبی عقائد اور امریکا کے ویت نام جنگ میں ملوث ہونے کی مخالفت کی بنا پر امریکی فوج میں بھرتی ہونے سے انکار کردیا تھا جس کی پاداش میں نہ صرف انھیں گرفتار کرلیا گیا بلکہ مقدمہ بھی چلایا گیا، اس طرح انھوں نے اپنے کیریئر کے 4 سال گنوا دیے۔ کسی بھی ایتھلیٹ کے لیے اپنے کیریئر کا یہ دور بہت قیمتی ہوتا ہے لیکن جس طرح محمد علی نے جنگ مخالفت پر اپنے موقف کا اظہار کیا اور پامردی سے ڈٹے رہے وہ ہر شخص کے لیے قابل تعظیم وتقلید ہے۔
بعد ازاں محمد علی کے کیریئر کے دوسرے دور کا آغاز ہوا جس میں انھوں نے 1974ء اور 1978ء میں دوبارہ عالمی ٹائٹل کا اعزاز حاصل کیا اس طرح وہ تین مرتبہ عالمی فاتح رہے۔ واضح رہے محمد علی نے 1984ء میں پارکنسنز کی تشخیص کے بعد باکسنگ چھوڑ دی تھی۔ اپنے کیریئر میں انھوں نے کل 61 مقابلے کیے جس میں 56 جیتے اور صرف 5 مقابلے ہارے، انھوں نے 37 ناقابل شکست ناک آؤٹ میچ جیتے۔ انھوں نے چار شادیاں کیں جن سے 7 بیٹیاں اور دو بیٹے ہوئے۔ ان کی ایک بیٹی لیلیٰ علی نے بھی اپنے باپ کی طرح باکسنگ کیریئر کو اپنایا۔ محمد علی نے اپنے کیریئر سے متعلق کئی بیسٹ سیلر کتابیں بھی لکھیں جن میں ''مائی اون اسٹوری'' اور ''دی سول آف اے بٹرفلائی'' شامل ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ محمد علی کے انتقال سے باکسنگ کا ایک عظیم دور اپنے اختتام کو پہنچا، لیکن محمد علی کا تذکرہ آیندہ آنے والی نسلوں تک ہوتا رہے گا۔