عدالتوں اور مقدمات کا چسکا
شیخ معظم خان مندوخیل نے عدالتوں سے متعلق ان ہی تاخیراتی حربوں کا ذکر کیا ہے
barq@email.com
KARACHI:
کچھ عرصہ پہلے اگر آپ کو یاد ہو تو ہم نے ان کالموں میں شیخ معظم خان مندوخیل کی ان کتابوں کا ذکر کیا تھا جو ان کے کالموں کا ایک مجموعہ ''از خود نوٹس'' کی تین جلدوں پر مشتمل تھا پھر یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ ان میں سے ایک خاص کالم پر بعد میں بات کریں گے جس کا عنوان ہے... ''عدالت جانے سے پہلے ہزار بار سوچیں'' ... آپ سے کیا پردہ اس موضوع پر ہم خود بھی بات کرنے سے ڈر رہے تھے کیوں کہ شیخ معظم خان کے کالم سے پہلے بھی ہم عدالتوں اور قانون سے ذرا دور دور رہنا پسند کرتے تھے۔
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہم ان مروجہ علوم جسے قانون ریاضی، ڈاکٹری اور انجینئرنگ وغیرہ کے ڈسے ہوئے ہیں والد نے وفات کے فوراً بعد جو ترکہ ہمارے لیے چھوڑا تھا اس میں سب سے قابل ذکر چیز ایک دیوانی کا مقدمہ تھا جو گاؤں کے ایک پیشہ ور، ماہر مقدمات نے ان کے خلاف دائر کیا تھا، مقدمہ تو صرف اتنا تھا کہ ایک دیوار تعمیر کرنے کے لیے والد صاحب نے پتھر منگوائے معمار جو تھا وہ بیمار پڑ گیا تھا اس لیے پتھر تقریباً مہینہ بھر وہاں پڑے رہے، اس پر اس پیشہ ور مقدمہ باز نے والد صاحب کے خلاف مقدمہ دائر کیا کہ اس نے ''شاہراہ عام'' کو بند کیا ہوا ہے وہ پتھر کہ دیواروں میں چن بھی دیے گئے تھے لیکن مقدمہ چلتا رہا، اس پیشہ ور مقدمہ باز کا اپنے بارے میں خود ہی کہنا تھا کہ میں ''کچہری' کا تیراک ہوں، نچلی عدالتوں کو وہ کم کم پانی کہتا تھا اور کسی مقدمے کے بارے میں بات کرتا تو بولتا... اسے تب پتہ چلے گا جب میں اسے گہرے پانی میں لے جا کر غوطے دوں گا، کسی کو مقدمے کے ذریعے خوار کرنے کو وہ غوطے دینا کہتا تھا، تین چار مقدمے اس کے ہر وقت کسی نہ کسی کے ساتھ چلتے رہتے تھے۔
کسی نے ایک مرتبہ پوچھا یہ روز روز کچہریوں میں آنے جانے سے تم بور نہیں ہوتے، بولا نہیں وہ ایسا ہے کہ کچہریوں میں جو چھولے، پکوڑے اور سموسے وغیرہ ملتے ہیں وہ مجھے بہت پسند ہیں اس لیے میں نہ کسی کسی طرح وہاں جانے کی سبیل پیدا کرتا ہوں، پھر ایک دو مقدمات کے لیے بھی جانا پڑتا ہے اور آٹھ دس کے لیے بھی... اور جب جانا ہوا تو کیوں نہ دس بارہ مقدمات ایک ساتھ چلائے جائیں، ہمارے والد صاحب تو مقدمات کے نام سے بھی واقف نہیں تھے اور تھانہ کچہری کو دور سے دیکھ کر گھبرا جاتے تھے چنانچہ اس شخص کے پاس بہت سارے جرگے بھی لے گئے کہ اب تو راستے سے پتھر بھی ہٹائے جا چکے ہیں اب تو ہمارا پیچھا چھوڑ دو، حالانکہ جب پتھر تھے تب بھی راستہ بند نہیں تھا۔
لیکن اس شخص نے اپنی مجبوری بتائی کہ ان دنوں اس کے پاس کوئی اور مقدمہ نہیں ہے اور کچہری جانے سے چھولے، سموسے کھانے اور چائے پینے کی اسے عادت پڑی ہوئی ہے ذرا صبر کرو کوئی دو چار اور مقدمات کی سبیل ہو جائے تو یہ مقدمہ واپس لے لوں گا، والد صاحب نے پیشکش کی کہ اتنی سی بات ہے تو کچہری آنے جانے اور کھانے پینے کا خرچہ مجھ پر... لیکن خدا کے لیے ... بولا نہیں نہیں میں مفت خور اور حرام خور نہیں خدا کے فضل سے اپنی ''محنت'' کی کھاتا ہوں، آخر درمیان والوں نے اس پر سمجھوتہ کرا دیا کہ اس کے کچہری کا خرچہ والد صاحب دیں گے بدلے میں وہ ''مقدمے'' کو چلائیں گے نہیں سلا دیں گے لیکن واپس لینے میں اس کی ''ساکھ'' کو نقصان پہنچ جائے گی۔
یوں والد صاحب کی وفات تک وہ مقدمہ چل تو نہیں رہا تھا لیکن لٹکا ہوا تھا ہمیں پتہ بھی نہیں تھا کہ ایسی ایک ''امانت'' بھی ہمیں ترکے میں ملی ہے پتہ اس وقت چلا جب اس شخص نے راستے میں ہمیں روک کر کہا کہ برخوردار تمہارے والد کو اللہ بخشے ان کی وفات کو چھ مہینے ہو چلے ہیں اس عرصے میں آٹھ دس ''تاریخیں'' میں نے اپنے خرچے پر بھگتائی ہیں وہ واجبات بھی تمہارے ذمے ہیں اور آئندہ کے لیے بھی انتظامات کر دو، پورے حالات سے واقف ہونے کے بعد بڑا سخت غصہ آیا پھر اس کے بارے میں مکمل تفصیل معلوم کی تو پتہ چلا کہ اس کے چھ مقدمات زیر سماعت ہیں ایک مقدمہ اس نرس کے خلاف تھا جس نے اس کے نومولود پوتے کو زور سے کھنیچ کر اس کا ہاتھ بیکار کر دیا تھا۔
دوسرا اس اسپتال کے خلاف جہاں اس کی اسی سالہ ماں ڈاکٹروں کی بے پروائی کی وجہ سے عالم شباب میں مر گئی تھی حالانکہ ڈاکٹروں کا موقف تھا کہ ''مرحومہ'' کو جب اسپتال لایا تھا تو وہ پہلے ہی مکمل طور پر ''مرحومہ'' ہو چکی تھی، تیسرا مقدمہ اس ڈرائیور کے خلاف تھا جس نے اس کے گھر کے قریب تیز ہارن بجا کر اس کی حاملہ بیوی کو ذہنی جسمانی اور روحانی نقصان پہنچایا، تین اور مقدمات زمینوں سے متعلق تھے اور یہ ایک ہمارے والد کے خلاف راستہ بند کرنے کا تھا، ہم نے ٹھان لیا کہ اسے اسی کے میدان میں دوڑا دوڑا کر ماریں گے چنانچہ مجسٹریٹ کے ایک ریڈر کو گانٹھ لیا یہ تاریخ کے دن جا کر برآمدے میں بیٹھ جاتا سب سے آخر میں ''آواز'' ہوتی اور تاریخ بدل جاتی کیونکہ یا ہم حاضری سے استثناء کی درخواست دے چکے ہوتے یا ہمارا وکیل بیمار ہوتا، ایسی کئی درخواستیں ہم نے پہلے سے لکھ کر ریڈر کے حوالے کی ہوئی تھیں۔
جس پر وہ صرف تاریخ ڈال دیتا تھا، دو سال تو اس کھیل میں گزر گئے ہم نے ایک بھی تاریخ پر حاضری نہیں دی اور وہ ہر تاریخ پر حاضر ہو کر چھولے سموسے اور چائے اپنے پلے سے کھاتا رہا، تنگ آ کر ایک دن آخر چیخ پڑا اور اس کے رونے دھونے سے ''ریڈر'' نے مجسٹریٹ سے یہ منظوری لی کہ بغیر میڈیکل سرٹیفکیٹ کے ہماری کوئی درخواست قابل قبول نہیں ہو گی، اس کا اپائے ہم نے یہ کیا کہ اپنے قریبی اسپتال کے دوست ڈاکٹر کو سارا کھیل سمجھا کر مدد کرنے پر آمادہ کر لیا چنانچہ اب ایک تاریخ پر ہمارا میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کیا جاتا دوسری پر وکیل صاحب جو ہمارا دوست تھا ایسے سرٹیفکیٹوں کا ایک اچھا خاصا بنڈل ہم نے ریڈر کے حوالے کیا ہوا تھا جس پر صرف نئی تاریخیں ڈالنا ہوتیں اور مضمون میں کچھ پریسکپریسی اور آٹھ دس دن کی بیڈ ریسٹ لکھی ہوتی، چار سال تک کچہریوں کے تیراک کو اس کے اپنے تالاب میں غوطے دیے تو ایک دن اچانک عدالت میں اس کی طرف مقدمہ واپس لینے کی درخواست آ ہی گئی۔
شیخ معظم خان مندوخیل نے عدالتوں سے متعلق ان ہی تاخیراتی حربوں کا ذکر کیا ہے جن کی وجہ سے مقدمے سالہا سال تک نہ صرف لٹکے رہتے ہیں بلکہ فاصل عدالتوں کا وقت برباد کر کے ان کا کام بڑھاتے ہیں اور مقدمات کا ڈھیر مزید اونچا ہوتا جاتا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے اگر آپ کو یاد ہو تو ہم نے ان کالموں میں شیخ معظم خان مندوخیل کی ان کتابوں کا ذکر کیا تھا جو ان کے کالموں کا ایک مجموعہ ''از خود نوٹس'' کی تین جلدوں پر مشتمل تھا پھر یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ ان میں سے ایک خاص کالم پر بعد میں بات کریں گے جس کا عنوان ہے... ''عدالت جانے سے پہلے ہزار بار سوچیں'' ... آپ سے کیا پردہ اس موضوع پر ہم خود بھی بات کرنے سے ڈر رہے تھے کیوں کہ شیخ معظم خان کے کالم سے پہلے بھی ہم عدالتوں اور قانون سے ذرا دور دور رہنا پسند کرتے تھے۔
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہم ان مروجہ علوم جسے قانون ریاضی، ڈاکٹری اور انجینئرنگ وغیرہ کے ڈسے ہوئے ہیں والد نے وفات کے فوراً بعد جو ترکہ ہمارے لیے چھوڑا تھا اس میں سب سے قابل ذکر چیز ایک دیوانی کا مقدمہ تھا جو گاؤں کے ایک پیشہ ور، ماہر مقدمات نے ان کے خلاف دائر کیا تھا، مقدمہ تو صرف اتنا تھا کہ ایک دیوار تعمیر کرنے کے لیے والد صاحب نے پتھر منگوائے معمار جو تھا وہ بیمار پڑ گیا تھا اس لیے پتھر تقریباً مہینہ بھر وہاں پڑے رہے، اس پر اس پیشہ ور مقدمہ باز نے والد صاحب کے خلاف مقدمہ دائر کیا کہ اس نے ''شاہراہ عام'' کو بند کیا ہوا ہے وہ پتھر کہ دیواروں میں چن بھی دیے گئے تھے لیکن مقدمہ چلتا رہا، اس پیشہ ور مقدمہ باز کا اپنے بارے میں خود ہی کہنا تھا کہ میں ''کچہری' کا تیراک ہوں، نچلی عدالتوں کو وہ کم کم پانی کہتا تھا اور کسی مقدمے کے بارے میں بات کرتا تو بولتا... اسے تب پتہ چلے گا جب میں اسے گہرے پانی میں لے جا کر غوطے دوں گا، کسی کو مقدمے کے ذریعے خوار کرنے کو وہ غوطے دینا کہتا تھا، تین چار مقدمے اس کے ہر وقت کسی نہ کسی کے ساتھ چلتے رہتے تھے۔
کسی نے ایک مرتبہ پوچھا یہ روز روز کچہریوں میں آنے جانے سے تم بور نہیں ہوتے، بولا نہیں وہ ایسا ہے کہ کچہریوں میں جو چھولے، پکوڑے اور سموسے وغیرہ ملتے ہیں وہ مجھے بہت پسند ہیں اس لیے میں نہ کسی کسی طرح وہاں جانے کی سبیل پیدا کرتا ہوں، پھر ایک دو مقدمات کے لیے بھی جانا پڑتا ہے اور آٹھ دس کے لیے بھی... اور جب جانا ہوا تو کیوں نہ دس بارہ مقدمات ایک ساتھ چلائے جائیں، ہمارے والد صاحب تو مقدمات کے نام سے بھی واقف نہیں تھے اور تھانہ کچہری کو دور سے دیکھ کر گھبرا جاتے تھے چنانچہ اس شخص کے پاس بہت سارے جرگے بھی لے گئے کہ اب تو راستے سے پتھر بھی ہٹائے جا چکے ہیں اب تو ہمارا پیچھا چھوڑ دو، حالانکہ جب پتھر تھے تب بھی راستہ بند نہیں تھا۔
لیکن اس شخص نے اپنی مجبوری بتائی کہ ان دنوں اس کے پاس کوئی اور مقدمہ نہیں ہے اور کچہری جانے سے چھولے، سموسے کھانے اور چائے پینے کی اسے عادت پڑی ہوئی ہے ذرا صبر کرو کوئی دو چار اور مقدمات کی سبیل ہو جائے تو یہ مقدمہ واپس لے لوں گا، والد صاحب نے پیشکش کی کہ اتنی سی بات ہے تو کچہری آنے جانے اور کھانے پینے کا خرچہ مجھ پر... لیکن خدا کے لیے ... بولا نہیں نہیں میں مفت خور اور حرام خور نہیں خدا کے فضل سے اپنی ''محنت'' کی کھاتا ہوں، آخر درمیان والوں نے اس پر سمجھوتہ کرا دیا کہ اس کے کچہری کا خرچہ والد صاحب دیں گے بدلے میں وہ ''مقدمے'' کو چلائیں گے نہیں سلا دیں گے لیکن واپس لینے میں اس کی ''ساکھ'' کو نقصان پہنچ جائے گی۔
یوں والد صاحب کی وفات تک وہ مقدمہ چل تو نہیں رہا تھا لیکن لٹکا ہوا تھا ہمیں پتہ بھی نہیں تھا کہ ایسی ایک ''امانت'' بھی ہمیں ترکے میں ملی ہے پتہ اس وقت چلا جب اس شخص نے راستے میں ہمیں روک کر کہا کہ برخوردار تمہارے والد کو اللہ بخشے ان کی وفات کو چھ مہینے ہو چلے ہیں اس عرصے میں آٹھ دس ''تاریخیں'' میں نے اپنے خرچے پر بھگتائی ہیں وہ واجبات بھی تمہارے ذمے ہیں اور آئندہ کے لیے بھی انتظامات کر دو، پورے حالات سے واقف ہونے کے بعد بڑا سخت غصہ آیا پھر اس کے بارے میں مکمل تفصیل معلوم کی تو پتہ چلا کہ اس کے چھ مقدمات زیر سماعت ہیں ایک مقدمہ اس نرس کے خلاف تھا جس نے اس کے نومولود پوتے کو زور سے کھنیچ کر اس کا ہاتھ بیکار کر دیا تھا۔
دوسرا اس اسپتال کے خلاف جہاں اس کی اسی سالہ ماں ڈاکٹروں کی بے پروائی کی وجہ سے عالم شباب میں مر گئی تھی حالانکہ ڈاکٹروں کا موقف تھا کہ ''مرحومہ'' کو جب اسپتال لایا تھا تو وہ پہلے ہی مکمل طور پر ''مرحومہ'' ہو چکی تھی، تیسرا مقدمہ اس ڈرائیور کے خلاف تھا جس نے اس کے گھر کے قریب تیز ہارن بجا کر اس کی حاملہ بیوی کو ذہنی جسمانی اور روحانی نقصان پہنچایا، تین اور مقدمات زمینوں سے متعلق تھے اور یہ ایک ہمارے والد کے خلاف راستہ بند کرنے کا تھا، ہم نے ٹھان لیا کہ اسے اسی کے میدان میں دوڑا دوڑا کر ماریں گے چنانچہ مجسٹریٹ کے ایک ریڈر کو گانٹھ لیا یہ تاریخ کے دن جا کر برآمدے میں بیٹھ جاتا سب سے آخر میں ''آواز'' ہوتی اور تاریخ بدل جاتی کیونکہ یا ہم حاضری سے استثناء کی درخواست دے چکے ہوتے یا ہمارا وکیل بیمار ہوتا، ایسی کئی درخواستیں ہم نے پہلے سے لکھ کر ریڈر کے حوالے کی ہوئی تھیں۔
جس پر وہ صرف تاریخ ڈال دیتا تھا، دو سال تو اس کھیل میں گزر گئے ہم نے ایک بھی تاریخ پر حاضری نہیں دی اور وہ ہر تاریخ پر حاضر ہو کر چھولے سموسے اور چائے اپنے پلے سے کھاتا رہا، تنگ آ کر ایک دن آخر چیخ پڑا اور اس کے رونے دھونے سے ''ریڈر'' نے مجسٹریٹ سے یہ منظوری لی کہ بغیر میڈیکل سرٹیفکیٹ کے ہماری کوئی درخواست قابل قبول نہیں ہو گی، اس کا اپائے ہم نے یہ کیا کہ اپنے قریبی اسپتال کے دوست ڈاکٹر کو سارا کھیل سمجھا کر مدد کرنے پر آمادہ کر لیا چنانچہ اب ایک تاریخ پر ہمارا میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کیا جاتا دوسری پر وکیل صاحب جو ہمارا دوست تھا ایسے سرٹیفکیٹوں کا ایک اچھا خاصا بنڈل ہم نے ریڈر کے حوالے کیا ہوا تھا جس پر صرف نئی تاریخیں ڈالنا ہوتیں اور مضمون میں کچھ پریسکپریسی اور آٹھ دس دن کی بیڈ ریسٹ لکھی ہوتی، چار سال تک کچہریوں کے تیراک کو اس کے اپنے تالاب میں غوطے دیے تو ایک دن اچانک عدالت میں اس کی طرف مقدمہ واپس لینے کی درخواست آ ہی گئی۔
شیخ معظم خان مندوخیل نے عدالتوں سے متعلق ان ہی تاخیراتی حربوں کا ذکر کیا ہے جن کی وجہ سے مقدمے سالہا سال تک نہ صرف لٹکے رہتے ہیں بلکہ فاصل عدالتوں کا وقت برباد کر کے ان کا کام بڑھاتے ہیں اور مقدمات کا ڈھیر مزید اونچا ہوتا جاتا ہے۔