کیا سلیکشن کمیٹی ربڑ اسٹیمپ ہے
معین خان، ہارون رشید یا انضمام الحق جو بھی چیف سلیکٹر بنے اسے کرنا وہی ہے جو ’’بڑے‘‘ چاہتے ہیں۔
معین خان، ہارون رشید یا انضمام الحق جو بھی چیف سلیکٹر بنے اسے کرنا وہی ہے جو ’’بڑے‘‘ چاہتے ہیں۔ فوٹو: آن لائن
''انضمام بھائی آ گئے اب تو باصلاحیت کرکٹرز کو ضرور ان کا حق ملے گا''، گذشتہ ماہ جب ایک نوجوان کرکٹر نے پُرجوش لہجے میں مجھ سے یہ بات کہی تو میں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا، میں اس کی حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہتا تھا، مجھے بخوبی علم تھا کہ صرف چہرے بدلتے ہیں کام وہی رہتا ہے، معین خان، ہارون رشید یا انضمام الحق جو بھی چیف سلیکٹر بنے اسے کرنا وہی ہے جو ''بڑے'' چاہتے ہیں، اب ان کی پہلی ٹیم ہی دیکھ لیجیے اس میں کیا تیر مار لیے؟ کتنے نوجوان کھلاڑی منتخب ہوئے؟ نظرانداز شدہ کس پلیئر کی واپسی ہوئی، سوائے چند کے بیشتر کرکٹرز وہی ہیں جو انگلینڈ کیخلاف گذشتہ برس آخری ٹیسٹ سیریز میں کھیلے تھے۔
احمد شہزاد کو ڈسپلن کے نام پر پہلے ہی باہر کیا جا چکا حالانکہ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ احمد بیٹ لے کر کبھی کسی شائق کو مارنے کرائوڈ میں گھسا، امپائر سے ناراض ہو کر ٹیم باہر بلا لی یا ساتھی کرکٹر سے فٹبال کھیلتے ہوئے لڑ بیٹھا ہو، شعیب ملک ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے، جنید خان کی فٹنس اور فارم پر سوال اٹھے جبکہ بلال آصف بیچارہ پانی پلا کر ہی ڈراپ ہو گیا، اب جو ٹیم میں آئے ان میں سے محمد عامر پابندی ہٹنے کے بعد آٹومیٹک چوائس تھے، اتنے طویل ٹور میں دو وکٹ کیپرز جانا ضروری ہیں ۔
لہٰذا محمد رضوان کا انتخاب کوئی عام انسان بھی کر لیتا، سمیع اسلم، سہیل خان اور افتخار احمد بھی پاکستان کیلیے پہلے کھیل چکے،اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کم و بیش یہی ٹیم ہارون رشید نے بھی بنائی تھی تو انھیں ہٹا کر نیا چیف سلیکٹر لانے کا کیا فائدہ ہوا؟ بیچارہ فواد عالم ہر ڈومیسٹک سیزن میں رنز کے ڈھیر لگاتا اور جب ٹیم کا اعلان ہو تو باصلاحیت قرار دے کر باہر کر دیا جاتا ہے، اب تو اسے اے ٹیم میں بھی نہیں رکھا گیا، وہاں بھی کئی دوستیاں نبھا دی گئیں، اپنی دانست میں بڑی چالاکی سے کام لیا گیا کہ سینئر ٹیم کے کیمپ میں احسان عادل، آصف ذاکر ، اکبر رحمان اور خرم منظور کو بلا لیا تاکہ اے ٹیم میں مرضی کے کھلاڑی فٹ کر لیے جائیں، یہ بیچارے اب نہ پاکستان ٹیم میں آئے نہ اے سائیڈ کا حصہ بن سکے، یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ ایک سابق کپتان کے بھی یہی خیالات ہیں، مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ انضمام الحق پر مشتمل سلیکشن کمیٹی ،جی ہاں میں یہی کہہ رہا ہوں کیونکہ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ وسیم حیدر اور وجاہت واسطی جیسے اوسط درجے کے کرکٹرز جن کے بارے میں پتا کرنے کیلیے لوگوں کو گوگل کی مدد لینا پڑے اورتوصیف احمد جیسے یس مین انضمام کے سامنے کچھ کہہ سکتے ہوں گے،ان کی قطعی اتنی مجال نہیں ہے۔
اسی لیے ان سب کو منتخب کیا گیا کہ بھائی آرام سے جو چیک مل رہا ہے وہ لو اور شہر شہر گھومتے رہو، چیف سلیکٹر فوٹوسیشن کرانے کاکول گئے پھر لاہور کے کیمپ میں بھی سب کاغذ قلم تھامے دکھائی دیے، میں یہ نہیں سمجھ پایا کہ اس ٹیم کو سلیکٹ کرنے میں کیا راکٹ سائنس تھی ، اتنے دنوں تک باریک بینی سے کیا دیکھا گیا؟ قائد اعظم ٹرافی میں سب سے زیادہ791 رنز بنانے کے باوجود قومی ٹیم سے باہر آصف ذاکر اور761 رنز اسکور کرنے والے اکبر الرحمان کیا اب کرکٹ چھوڑ دیں؟ پورے سیزن سخت گرمی میں اتنی محنت کا انھیں کیا فائدہ ہوا،فواد عالم کے 672 رنز کس کام کے ہیں، انضمام صاحب اگر آپ ان کھلاڑیوں کو منتخب کرتے تو ضرور کہا جاتا کہ نئے چیف سلیکٹر نے کچھ کام کیا، کوئی نیا ایس ایچ او بھی تھانے آتا ہے تو کارکردگی دکھانے کیلیے کچھ کرتا ہے، آپ نے تو ملک کیلیے اتنی کرکٹ کھیلی آپ سے تو پلیئرز کو بہت توقعات تھیں ان پر تو پورا اترتے، اسی طرح 21 وکٹیں لینے والے سہیل خان کو48 وکٹوں کے ساتھ دوسرے ٹاپ وکٹ ٹیکر احسان عادل پر ترجیح دینے کی وجہ کیا تھی یہ بھی چیف سلیکٹر ہی بتا سکیں گے۔
مانا انگلینڈ کا ٹور مشکل ہے مگر پھر نوجوان کھلاڑیوں کو اور کہاں موقع دیں گے؟ اب کون سا اپنے ملک میں کرکٹ ہو رہی ہے کہ منتخب کر لیں گے، محض تجربہ دلانے کیلیے ہی بھیج دیتے، سنا ہے چیف سلیکٹر خود انگلینڈ جائیں گے اس کا کیا فائدہ اس کے بدلے انھیں بورڈ سے کہنا چاہیے کہ ایک اضافی کھلاڑی بھیج دیں جو وہاں کچھ سیکھ ہی لے گا، مگر افسوس ہمارے ملک میں ایسی کوئی روایت نہیں ہے، یہاں جسے اختیار ملے وہ من مانی کرنے لگتا ہے، اوپننگ کا شعبہ بیحد کمزور ہے، حفیظ کی اپنی فٹنس کا پتا نہیں پھر بھی انھیں زبردستی منتخب کر لیا گیا، شان مسعود کو گذشتہ سیریز کے دونوں ٹیسٹ کی چاروں اننگز میں جیمز اینڈرسن نے آئوٹ کیا تھا، شارٹ پچ گیندوں پر وہ پریشان دکھائی دیے تھے اور ایک نصف سنچری ہی بنا پائے تھے، اب انگلینڈ کی مشکل پچز پر وہ کیسے اچھا کھیل پیش کر سکیں گے اس پر سوالیہ نشان موجود ہے، قائد اعظم ٹرافی کے9 میچزمیں وہ 27 کی معمولی اوسط سے محض 386 رنز ہی بنا سکے تھے جس میں 52 سب سے زیادہ اسکور تھا،یہ پرفارمنس کسی صورت ایک اوپنر کے شایان شان نہیں ہے، ایسے میں اگر لوگ یہ باتیں کر رہے ہیں کہ انھیں گورننگ بورڈ میں موجود والد کی وجہ سے منتخب کیا گیا تو ایسے لوگوں کی زبان کوئی کیسے بند کرا سکتا ہے۔
انضمام اینڈ کمپنی نے اپنی پہلی ٹیم سے بیحد مایوس کیا، بڑا کھلاڑی بڑے فیصلے نہیں کر پایا، الٹا وہ ابھی سے مایوس کن بیانات دے رہے ہیں کہ ہار گئے تو تبدیلیاں نہیں ہوں گی یعنی انھیں خود بھی ٹیم کی جیت کا امکان نہیں نظر آتا، اس وقت تو یہی لگتا ہے کہ صرف چہرہ بدلا اور کچھ نہ ہوا شاید اسی لیے اپنی صاف گوئی کیلیے مشہور ایک سابق کپتان نے سوشل میڈیا پر نئی سلیکشن کمیٹی کو بھی ''ربڑ اسٹیمپ'' قرار دے دیا ہے، مجھے یاد ہے کہ جب میں نے محسن خان کیلیے یہ جملہ استعمال کیا تھا تو وہ سخت ناراض ہوگئے تھے شاید موجودہ چیف سلیکٹر کو بھی اچھا نہ لگے، مگر انھیں اپنے فیصلوں سے ثابت کرنا ہوگا کہ ان کی کمیٹی ''ربر اسٹیمپ'' نہیں ہے۔
احمد شہزاد کو ڈسپلن کے نام پر پہلے ہی باہر کیا جا چکا حالانکہ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ احمد بیٹ لے کر کبھی کسی شائق کو مارنے کرائوڈ میں گھسا، امپائر سے ناراض ہو کر ٹیم باہر بلا لی یا ساتھی کرکٹر سے فٹبال کھیلتے ہوئے لڑ بیٹھا ہو، شعیب ملک ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے، جنید خان کی فٹنس اور فارم پر سوال اٹھے جبکہ بلال آصف بیچارہ پانی پلا کر ہی ڈراپ ہو گیا، اب جو ٹیم میں آئے ان میں سے محمد عامر پابندی ہٹنے کے بعد آٹومیٹک چوائس تھے، اتنے طویل ٹور میں دو وکٹ کیپرز جانا ضروری ہیں ۔
لہٰذا محمد رضوان کا انتخاب کوئی عام انسان بھی کر لیتا، سمیع اسلم، سہیل خان اور افتخار احمد بھی پاکستان کیلیے پہلے کھیل چکے،اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کم و بیش یہی ٹیم ہارون رشید نے بھی بنائی تھی تو انھیں ہٹا کر نیا چیف سلیکٹر لانے کا کیا فائدہ ہوا؟ بیچارہ فواد عالم ہر ڈومیسٹک سیزن میں رنز کے ڈھیر لگاتا اور جب ٹیم کا اعلان ہو تو باصلاحیت قرار دے کر باہر کر دیا جاتا ہے، اب تو اسے اے ٹیم میں بھی نہیں رکھا گیا، وہاں بھی کئی دوستیاں نبھا دی گئیں، اپنی دانست میں بڑی چالاکی سے کام لیا گیا کہ سینئر ٹیم کے کیمپ میں احسان عادل، آصف ذاکر ، اکبر رحمان اور خرم منظور کو بلا لیا تاکہ اے ٹیم میں مرضی کے کھلاڑی فٹ کر لیے جائیں، یہ بیچارے اب نہ پاکستان ٹیم میں آئے نہ اے سائیڈ کا حصہ بن سکے، یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ ایک سابق کپتان کے بھی یہی خیالات ہیں، مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ انضمام الحق پر مشتمل سلیکشن کمیٹی ،جی ہاں میں یہی کہہ رہا ہوں کیونکہ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ وسیم حیدر اور وجاہت واسطی جیسے اوسط درجے کے کرکٹرز جن کے بارے میں پتا کرنے کیلیے لوگوں کو گوگل کی مدد لینا پڑے اورتوصیف احمد جیسے یس مین انضمام کے سامنے کچھ کہہ سکتے ہوں گے،ان کی قطعی اتنی مجال نہیں ہے۔
اسی لیے ان سب کو منتخب کیا گیا کہ بھائی آرام سے جو چیک مل رہا ہے وہ لو اور شہر شہر گھومتے رہو، چیف سلیکٹر فوٹوسیشن کرانے کاکول گئے پھر لاہور کے کیمپ میں بھی سب کاغذ قلم تھامے دکھائی دیے، میں یہ نہیں سمجھ پایا کہ اس ٹیم کو سلیکٹ کرنے میں کیا راکٹ سائنس تھی ، اتنے دنوں تک باریک بینی سے کیا دیکھا گیا؟ قائد اعظم ٹرافی میں سب سے زیادہ791 رنز بنانے کے باوجود قومی ٹیم سے باہر آصف ذاکر اور761 رنز اسکور کرنے والے اکبر الرحمان کیا اب کرکٹ چھوڑ دیں؟ پورے سیزن سخت گرمی میں اتنی محنت کا انھیں کیا فائدہ ہوا،فواد عالم کے 672 رنز کس کام کے ہیں، انضمام صاحب اگر آپ ان کھلاڑیوں کو منتخب کرتے تو ضرور کہا جاتا کہ نئے چیف سلیکٹر نے کچھ کام کیا، کوئی نیا ایس ایچ او بھی تھانے آتا ہے تو کارکردگی دکھانے کیلیے کچھ کرتا ہے، آپ نے تو ملک کیلیے اتنی کرکٹ کھیلی آپ سے تو پلیئرز کو بہت توقعات تھیں ان پر تو پورا اترتے، اسی طرح 21 وکٹیں لینے والے سہیل خان کو48 وکٹوں کے ساتھ دوسرے ٹاپ وکٹ ٹیکر احسان عادل پر ترجیح دینے کی وجہ کیا تھی یہ بھی چیف سلیکٹر ہی بتا سکیں گے۔
مانا انگلینڈ کا ٹور مشکل ہے مگر پھر نوجوان کھلاڑیوں کو اور کہاں موقع دیں گے؟ اب کون سا اپنے ملک میں کرکٹ ہو رہی ہے کہ منتخب کر لیں گے، محض تجربہ دلانے کیلیے ہی بھیج دیتے، سنا ہے چیف سلیکٹر خود انگلینڈ جائیں گے اس کا کیا فائدہ اس کے بدلے انھیں بورڈ سے کہنا چاہیے کہ ایک اضافی کھلاڑی بھیج دیں جو وہاں کچھ سیکھ ہی لے گا، مگر افسوس ہمارے ملک میں ایسی کوئی روایت نہیں ہے، یہاں جسے اختیار ملے وہ من مانی کرنے لگتا ہے، اوپننگ کا شعبہ بیحد کمزور ہے، حفیظ کی اپنی فٹنس کا پتا نہیں پھر بھی انھیں زبردستی منتخب کر لیا گیا، شان مسعود کو گذشتہ سیریز کے دونوں ٹیسٹ کی چاروں اننگز میں جیمز اینڈرسن نے آئوٹ کیا تھا، شارٹ پچ گیندوں پر وہ پریشان دکھائی دیے تھے اور ایک نصف سنچری ہی بنا پائے تھے، اب انگلینڈ کی مشکل پچز پر وہ کیسے اچھا کھیل پیش کر سکیں گے اس پر سوالیہ نشان موجود ہے، قائد اعظم ٹرافی کے9 میچزمیں وہ 27 کی معمولی اوسط سے محض 386 رنز ہی بنا سکے تھے جس میں 52 سب سے زیادہ اسکور تھا،یہ پرفارمنس کسی صورت ایک اوپنر کے شایان شان نہیں ہے، ایسے میں اگر لوگ یہ باتیں کر رہے ہیں کہ انھیں گورننگ بورڈ میں موجود والد کی وجہ سے منتخب کیا گیا تو ایسے لوگوں کی زبان کوئی کیسے بند کرا سکتا ہے۔
انضمام اینڈ کمپنی نے اپنی پہلی ٹیم سے بیحد مایوس کیا، بڑا کھلاڑی بڑے فیصلے نہیں کر پایا، الٹا وہ ابھی سے مایوس کن بیانات دے رہے ہیں کہ ہار گئے تو تبدیلیاں نہیں ہوں گی یعنی انھیں خود بھی ٹیم کی جیت کا امکان نہیں نظر آتا، اس وقت تو یہی لگتا ہے کہ صرف چہرہ بدلا اور کچھ نہ ہوا شاید اسی لیے اپنی صاف گوئی کیلیے مشہور ایک سابق کپتان نے سوشل میڈیا پر نئی سلیکشن کمیٹی کو بھی ''ربڑ اسٹیمپ'' قرار دے دیا ہے، مجھے یاد ہے کہ جب میں نے محسن خان کیلیے یہ جملہ استعمال کیا تھا تو وہ سخت ناراض ہوگئے تھے شاید موجودہ چیف سلیکٹر کو بھی اچھا نہ لگے، مگر انھیں اپنے فیصلوں سے ثابت کرنا ہوگا کہ ان کی کمیٹی ''ربر اسٹیمپ'' نہیں ہے۔