ڈی ایٹ مرکزی بینکوں میں مسلسل تعاون ضروری ہے یاسین انور
بلند قرضوں اور مہنگائی سے نمٹنے کیلیے معاشی پالیسیوں کو متوازن کیا جانا چاہیے۔
بلند قرضوں اور مہنگائی سے نمٹنے کیلیے معاشی پالیسیوں کو متوازن کیا جانا چاہیے۔ فوٹو: فائل
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر یاسین انور نے معیشتیں مضبوط بنانے کیلیے ڈی ایٹ کے مرکزی بینکوں کے درمیان مسلسل تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈی ایٹ ممالک کی معاشی پالیسیوں کو متوازن کیا جانا چاہیے تاکہ تیز رفتار بحالی کے دباؤ، قرضے کی بلند نمو، سرمائے کے بہاؤ میں اتار چڑھاؤ، اشیا کی بلند قیمتوں اور مہنگائی کے دوبارہ پیدا ہونے والے خطرے سے نمٹا جاسکے۔
ڈی ایٹ ممالک کے سینٹرل بینک گورنرز کے دوسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں پائیدار نمو کیلیے اپنی معیشتوں کو متوازن رکھنا چاہیے، اس کے لیے ہمیں ملکی اخرجات کو درست رکھنا ہوگا، تجارت میں اضافہ کرنا ہوگا اور قرضے کے بوجھ تلے دبی ہوئی ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں بہتر منافع کی تلاش میں ابھرتے ہوئے اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان سرمائے کی آزادانہ آمدورفت کو ممکن بنانا ہوگا۔
ڈی ایٹ ممالک کے درمیان مستحکم تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ڈی ایٹ کے سیکریٹریٹ کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ وہ ہماری معیشتوں اور ان کے باہمی تعلق کے بارے میں معلومات اکٹھی اور محفوظ کرسکے، اس سے دو مقاصد پورے ہوں گے، ایک تو ڈی ایٹ کی معیشتوں کی کیفیت پر باقاعدگی سے تازہ ترین معلومات مہیا ہوتی رہیں گی، دوسرا معاشی اور مالی تعاون پر ہماری معیشتوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے میں بھی مدد ملے گی۔
انہوں نے ڈی ایٹ ممالک سے کہا کہ وہ نجی شعبے میں مضبوط تر روابط کو فروغ دیں خصوصاً نجی بینکوں میں تاکہ تجارت اور سرحد پار روابط بڑھانے کیلیے ادائیگیوں میں سہولت پیدا کی جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک میں اسلامی فنانس کو فروغ دینے کے لیے پائیدار ماڈلز تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
ڈی ایٹ ممالک کے سینٹرل بینک گورنرز کے دوسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں پائیدار نمو کیلیے اپنی معیشتوں کو متوازن رکھنا چاہیے، اس کے لیے ہمیں ملکی اخرجات کو درست رکھنا ہوگا، تجارت میں اضافہ کرنا ہوگا اور قرضے کے بوجھ تلے دبی ہوئی ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں بہتر منافع کی تلاش میں ابھرتے ہوئے اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان سرمائے کی آزادانہ آمدورفت کو ممکن بنانا ہوگا۔
ڈی ایٹ ممالک کے درمیان مستحکم تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ڈی ایٹ کے سیکریٹریٹ کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ وہ ہماری معیشتوں اور ان کے باہمی تعلق کے بارے میں معلومات اکٹھی اور محفوظ کرسکے، اس سے دو مقاصد پورے ہوں گے، ایک تو ڈی ایٹ کی معیشتوں کی کیفیت پر باقاعدگی سے تازہ ترین معلومات مہیا ہوتی رہیں گی، دوسرا معاشی اور مالی تعاون پر ہماری معیشتوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے میں بھی مدد ملے گی۔
انہوں نے ڈی ایٹ ممالک سے کہا کہ وہ نجی شعبے میں مضبوط تر روابط کو فروغ دیں خصوصاً نجی بینکوں میں تاکہ تجارت اور سرحد پار روابط بڑھانے کیلیے ادائیگیوں میں سہولت پیدا کی جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک میں اسلامی فنانس کو فروغ دینے کے لیے پائیدار ماڈلز تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔