ڈی ایٹ ممالک پائیدار ترقی کی اسٹریٹجی کیلئے زری و مالی پالیسیاں بنائیں گے
عالمی ویورو بحران کے اثرات سے تحفظ کیلیے جدید مالی شمولیت پالیسیوں کوفروغ، اسلامی فنانس کے مواقع تلاش، معلومات۔۔۔
روایتی منڈیوں پر انحصار کم، کرنسی سواپ انتظامات اور ٹیکس نیٹ کو توسیع دی جائیگی، ڈی ایٹ مرکزی بینکوں کا اجلاس ختم، مشترکہ اعلامیہ فوٹو: آئی این پی
ترقی پذیر اسلامی ملکوں (ڈی ایٹ) کے مرکزی بینکوں نے معاشی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلیے باہمی تعاون کے فروغ کیلیے مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا ہے۔
ڈیولپنگ ایٹ (ڈی ایٹ) ممالک کے مرکزی بینکوں کے گورنروں نے بدھ کو اسلام آباد میں دوسرا اجلاس منعقد کیا جس کی صدارت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر یاسین انور نے کی، اس کا مقصدمعاشی اور مالی شعبے کودرپیش مختلف چیلنجوں کو مل جل کر سمجھنا اور ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلیے باہمی تعاون بڑھانا تھا۔جولائی 2010 میں ابوجا، نائیجیریا میں گزشتہ اجلاس کے بعد سے عالمی معیشت کو کئی چیلنجوں کا سامنا ہے، بیرونی، مالیاتی اور فنانشل عدم توازن برقرار ہے جس سے معاشی نمو اور روزگار کیلیے چیلنج پیدا ہورہے ہیں۔
امریکا میں کمزور معاشی سرگرمی اور یوروزون بحران سنگین ہونے پر عالمی نمو رواں سال کم ہونے کاخدشہ ہے جس سے ابھرتی اور ترقی پذیر معیشتوں میں حقیقی جی ڈی پی نمو مزید کم ہوگی، اگرچہ اثرات اور متعلقہ چیلنج ملکوں اور علاقوں میں مختلف ہوسکتے ہیں تاہم ڈی ایٹ ممالک مل جل کر پائیدار اور جامع نمو حاصل کرنے کے عزم میںمتحد ہیں، اس حوالے سے رکن ممالک عالمی معیشت کی غیریقینی صورتحال کے پس منظر میں پائیدار نمو کی حکمت عملی کیلیے مانیٹری اور مالی پالیسیاں تشکیل دینگے، جدت پسندانہ مالی شمولیت کی پالیسیوں کو فروغ، اسلامی فنانس کے مواقع تلاش اور ڈی ایٹ مرکزی بینکوں کے درمیان معلومات کا تبادلہ کیاجائے گا۔
اس کے علاوہ ڈی ایٹ ممالک کے مرکزی بینکوں نے پائیدار نمو کی حکمت عملی پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق ڈی ایٹ ممالک کو طرح طرح کے معاشی چیلنجوں کا سامنا ہے جن میں کچھ ساختی، کچھ سکلیکل اور بعض 2007-08 کے عالمی بحران اور حالیہ یوروزون قرضہ بحران کا براہ راست نتیجہ ہو سکتے ہیں تاہم ان مسائل سے نمٹنے کیلیے نمو کی حکمت عملی تشکیل دینے اور ارکان کے درمیان ممکنہ تعاون کے شعبوں کا تعین کرنے کیلیے ضروری ہے کہ ان چیلنجوں کو سمجھا جائے۔
اس کیلیے ڈی ایٹ ممالک نے بعض شعبوں میں تعاون اور ان پر توجہ مرکوز کرنے پر اتفاق ہواجس میں عالمی معاشی سست روی کے اثرات سے بچنے کیلیے مانیٹری ومالی پالیسی کے ٹولز تیار اور استعمال کرنا، روایتی تجارتی پارٹنرز کی طلب پر انحصار کم اور ڈی ایٹ جیسے علاقائی بلاکس کے درمیان تعاون کے مواقع پر توجہ مرکوز، تجارت اور سرمائے کے بہاؤ کو فروغ دینے کیلیے کرسپونڈنٹ بینکاری تعلقات اور کرنسی سواپ کے انتظامات، سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر، غیر رسمی شعبے کو قومی معاشی دھارے اور ٹیکس نیٹ میں لانا، مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کی کوششوں، تجربات سے استفادے کیلیے ذرائع کو ترقی دینا، بہتر مالیاتی نظم و ضبط پر عملدرآمد، انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کا فروغ، سرمایہ کاری معیارات کا نفاذ، حقیقی شعبے کو قرضے دینے میں بینکوں کو سہولتیں دینااور مالی استحکام کو تقویت دینا شامل ہیں۔
جبکہ غریبوں اور کم آمدن گھرانوں کی مالی مشکلات دور کرنے کیلیے مالی شمولیت کو اولین ترجیح حاصل رہے گی جس سے انہیں بہتر معاشی مواقع اور روزگار ملے گا۔ مشترکہ اعلامیے میں رکن ممالک کے درمیان مالی شمولیت کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ مالی شمولیت کے ایجنڈے کو ترقی دینے کیلیے رکن ملک مالی شمولیت کی قومی حکمت عملیاں تشکیل دیںگے، فراہمی کے ذرائع اور ادائیگی کے نظام کیلیے پالیسی طرز فکر کا مطالعہ جیسے ایجنٹ بیسڈ بینکاری، موبائل فون بینکاری اور پوسٹ آفس نیٹ ورکس۔ ڈی ایٹ ملکوں کا مالی شمولیت مشاورتی گروپ (سی جی ایف آئی) تشکیل دیا جائے جس میں ہر ملک کے مرکزی بینک کی نمائندگی ہو۔
سی جی ایف آئی معلومات کے تبادلے اور مشاورت کے اجلاس منعقد کر کے آئندہ ڈی ایٹ سربراہ اجلاس تک ایک جامع دستاویز تیار کریں گے۔ اعلامیے کے مطابق مستقبل میں مرکزی بینک ڈی ایٹ ملکوں میں اسلامی فنانس کے فروغ کیلیے مستحکم ماڈلز پر تبادلہ خیال کر سکتے ہیں، اس سلسلے میں ماہرین کے گروپ نے تعاون کے تین اہم شعبوں مالی آلات اور مارکیٹوں کی تشکیل، تصور اور آگہی کا فروغ اور تربیت و استعداد کاری کا تعین کیا ہے، علاوہ ازیں ڈی ایٹ ممالک اطلاعات کے تبادلے اور مرکزی بینکوں کے پیر لرننگ کے ذریعے مانیٹری پالیسی، بینکنگ ضوابط اور نگرانی، مالی شمولیت اور اسلامی فنانس جیسے شعبوں میں کام کریں گے۔
اعلامیے میں کہا گیاکہ ڈی ایٹ ممالک کے مرکزی بینکوں کے گورنروں کا آئندہ اجلاس ترکی میں 2014 میں متوقع ہے جس میں شیڈو بینکاری اور اس سے متعلقہ خطرات نیز مالی شعبے کے دیگر امور پر بحث پر اتفاق کیا گیا ہے۔
ڈیولپنگ ایٹ (ڈی ایٹ) ممالک کے مرکزی بینکوں کے گورنروں نے بدھ کو اسلام آباد میں دوسرا اجلاس منعقد کیا جس کی صدارت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر یاسین انور نے کی، اس کا مقصدمعاشی اور مالی شعبے کودرپیش مختلف چیلنجوں کو مل جل کر سمجھنا اور ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلیے باہمی تعاون بڑھانا تھا۔جولائی 2010 میں ابوجا، نائیجیریا میں گزشتہ اجلاس کے بعد سے عالمی معیشت کو کئی چیلنجوں کا سامنا ہے، بیرونی، مالیاتی اور فنانشل عدم توازن برقرار ہے جس سے معاشی نمو اور روزگار کیلیے چیلنج پیدا ہورہے ہیں۔
امریکا میں کمزور معاشی سرگرمی اور یوروزون بحران سنگین ہونے پر عالمی نمو رواں سال کم ہونے کاخدشہ ہے جس سے ابھرتی اور ترقی پذیر معیشتوں میں حقیقی جی ڈی پی نمو مزید کم ہوگی، اگرچہ اثرات اور متعلقہ چیلنج ملکوں اور علاقوں میں مختلف ہوسکتے ہیں تاہم ڈی ایٹ ممالک مل جل کر پائیدار اور جامع نمو حاصل کرنے کے عزم میںمتحد ہیں، اس حوالے سے رکن ممالک عالمی معیشت کی غیریقینی صورتحال کے پس منظر میں پائیدار نمو کی حکمت عملی کیلیے مانیٹری اور مالی پالیسیاں تشکیل دینگے، جدت پسندانہ مالی شمولیت کی پالیسیوں کو فروغ، اسلامی فنانس کے مواقع تلاش اور ڈی ایٹ مرکزی بینکوں کے درمیان معلومات کا تبادلہ کیاجائے گا۔
اس کے علاوہ ڈی ایٹ ممالک کے مرکزی بینکوں نے پائیدار نمو کی حکمت عملی پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق ڈی ایٹ ممالک کو طرح طرح کے معاشی چیلنجوں کا سامنا ہے جن میں کچھ ساختی، کچھ سکلیکل اور بعض 2007-08 کے عالمی بحران اور حالیہ یوروزون قرضہ بحران کا براہ راست نتیجہ ہو سکتے ہیں تاہم ان مسائل سے نمٹنے کیلیے نمو کی حکمت عملی تشکیل دینے اور ارکان کے درمیان ممکنہ تعاون کے شعبوں کا تعین کرنے کیلیے ضروری ہے کہ ان چیلنجوں کو سمجھا جائے۔
اس کیلیے ڈی ایٹ ممالک نے بعض شعبوں میں تعاون اور ان پر توجہ مرکوز کرنے پر اتفاق ہواجس میں عالمی معاشی سست روی کے اثرات سے بچنے کیلیے مانیٹری ومالی پالیسی کے ٹولز تیار اور استعمال کرنا، روایتی تجارتی پارٹنرز کی طلب پر انحصار کم اور ڈی ایٹ جیسے علاقائی بلاکس کے درمیان تعاون کے مواقع پر توجہ مرکوز، تجارت اور سرمائے کے بہاؤ کو فروغ دینے کیلیے کرسپونڈنٹ بینکاری تعلقات اور کرنسی سواپ کے انتظامات، سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر، غیر رسمی شعبے کو قومی معاشی دھارے اور ٹیکس نیٹ میں لانا، مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کی کوششوں، تجربات سے استفادے کیلیے ذرائع کو ترقی دینا، بہتر مالیاتی نظم و ضبط پر عملدرآمد، انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کا فروغ، سرمایہ کاری معیارات کا نفاذ، حقیقی شعبے کو قرضے دینے میں بینکوں کو سہولتیں دینااور مالی استحکام کو تقویت دینا شامل ہیں۔
جبکہ غریبوں اور کم آمدن گھرانوں کی مالی مشکلات دور کرنے کیلیے مالی شمولیت کو اولین ترجیح حاصل رہے گی جس سے انہیں بہتر معاشی مواقع اور روزگار ملے گا۔ مشترکہ اعلامیے میں رکن ممالک کے درمیان مالی شمولیت کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ مالی شمولیت کے ایجنڈے کو ترقی دینے کیلیے رکن ملک مالی شمولیت کی قومی حکمت عملیاں تشکیل دیںگے، فراہمی کے ذرائع اور ادائیگی کے نظام کیلیے پالیسی طرز فکر کا مطالعہ جیسے ایجنٹ بیسڈ بینکاری، موبائل فون بینکاری اور پوسٹ آفس نیٹ ورکس۔ ڈی ایٹ ملکوں کا مالی شمولیت مشاورتی گروپ (سی جی ایف آئی) تشکیل دیا جائے جس میں ہر ملک کے مرکزی بینک کی نمائندگی ہو۔
سی جی ایف آئی معلومات کے تبادلے اور مشاورت کے اجلاس منعقد کر کے آئندہ ڈی ایٹ سربراہ اجلاس تک ایک جامع دستاویز تیار کریں گے۔ اعلامیے کے مطابق مستقبل میں مرکزی بینک ڈی ایٹ ملکوں میں اسلامی فنانس کے فروغ کیلیے مستحکم ماڈلز پر تبادلہ خیال کر سکتے ہیں، اس سلسلے میں ماہرین کے گروپ نے تعاون کے تین اہم شعبوں مالی آلات اور مارکیٹوں کی تشکیل، تصور اور آگہی کا فروغ اور تربیت و استعداد کاری کا تعین کیا ہے، علاوہ ازیں ڈی ایٹ ممالک اطلاعات کے تبادلے اور مرکزی بینکوں کے پیر لرننگ کے ذریعے مانیٹری پالیسی، بینکنگ ضوابط اور نگرانی، مالی شمولیت اور اسلامی فنانس جیسے شعبوں میں کام کریں گے۔
اعلامیے میں کہا گیاکہ ڈی ایٹ ممالک کے مرکزی بینکوں کے گورنروں کا آئندہ اجلاس ترکی میں 2014 میں متوقع ہے جس میں شیڈو بینکاری اور اس سے متعلقہ خطرات نیز مالی شعبے کے دیگر امور پر بحث پر اتفاق کیا گیا ہے۔