اختلاف و تنقید کی ہٹ دھرمی

صدرمملکت ممنون حسین نے موجودہ پارلیمنٹ کے تین سال مکمل ہونے پر مشترکہ اجلاس سے جو خطاب کیا ہے

صدرمملکت ممنون حسین نے موجودہ پارلیمنٹ کے تین سال مکمل ہونے پر مشترکہ اجلاس سے جو خطاب کیا ہے،اس پر بھی اپوزیشن نے صدر مملکت کو تنقیدکا نشانہ بنایا ہے اور یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ صدر مملکت نے جو خطاب کیا اس میں ڈرون حملے اور پانامہ لیکس پر بھی اظہار خیال کرنا چاہیے تھا اور اپوزیشن پر تنقید نہیں کرنی چاہیے تھی ،کیونکہ صدر مملکت وفاق کی علامت ہیں۔

صدرمملکت پر تنقید کرنے والوں میں جہاں پی ٹی آئی کے پہلی بار منتخب ہونے والے ارکان شامل تھے، وہاں متعدد بار پارلیمنٹ کے لیے منتخب ہونے والے چوہدری اعتزاز احسن جیسے متعدد ارکان پارلیمنٹ بھی شامل ہیں، جنھیں پتہ ہے کہ ہر سال پارلیمنٹ سے صدر مملکت کا خطاب ایک آئینی تقاضا اور روایتی خطاب ہوتا ہے اور یہ خطاب صدر مملکت اپنی مرضی سے نہیں بلکہ حکومت وقت کی مرضی کے مطابق کرتے ہیں اور جو حکومت کی طرف سے لکھ کر دیا جاتا ہے وہی صدر مملکت نے پڑھنا ہوتا ہے اور اب تک کسی بھی صدر مملکت نے اپنے خطاب میں حکومت وقت پر کبھی کوئی تنقید کی ہے اور نہ الزام تراشی بلکہ زیادہ تر لکھی ہوئی تقریریں ہی ایوان میں پڑھی جاتی رہی ہیں اور بہت کم یہ ہوا ہے کہ صدر مملکت نے اپنی طرف سے حکومت کو مشورے دیے ہوں بلکہ صدر مملکت حکومتی پالیسی کی تائید اور حکومتی اقدامات کی تعریف اورحوصلہ افزائی ہی کی ہے۔

یہ صدر ممنون حسین ہی نے نہیں کیا بلکہ سابق صدر آصف علی زرداری، سردار فاروق احمد لغاری، محمد رفیق تارڑ، غلام اسحق خان جیسے سویلین صدر ہی نہیں بلکہ ریفرنڈم کے ذریعے منتخب ہونے والے فوجی صدور جنرل محمد ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف بھی کرتے رہے اور فوجی صدور نے بھی اپنی حکومتوں پر تنقید نہیں کی بلکہ ان کی رہنمائی کے لیے مشورے ہی دیے تھے۔

صدر مملکت وفاق کی علامت مگر وہ منتخب اپنی حمایتی حکومت اور پارٹی کے ذریعے ہی ہوتا ہے کیا بھٹو دور کے صدر مملکت چوہدری فضل الٰہی سمیت پیپلز پارٹی سے سیاسی تعلق رکھنے والے آصف علی زرداری اور فاروق لغاری اور مسلم لیگ (ن) سے سیاسی تعلق رکھنے والے محمد رفیق تارڑ نے کبھی حکومت پر تنقید کی تھی کہ ممنون حسین اپنی ہی حکومت پر تنقید کرتے۔ صدارت کا خواب تو کبھی آصف علی زرداری نے بھی نہیں دیکھا تھا جس کا خود انھوں نے اعتراف بھی کیا تھا۔ سابق صدر غلام اسحق خان سیاسی شخصیت نہیں تھے مگر انھیں ایک مجبوری کے تحت پیپلز پارٹی کی حکومت اور مسلم لیگ (ن) نے منتخب کرایا تھا اور اسی صدر غلام اسحق نے پہلے بے نظیر بھٹو اور بعد میں نواز شریف حکومت برطرف کی تھی۔

ماضی میں فوجی صدر پرویز مشرف کے پارلیمنٹ سے خطاب کے موقعے پر شدید ہنگامہ آرائی ہوئی تھی جس پر انھوں نے پارلیمنٹ ارکان سے بعد میں آئینی خطاب بھی چھوڑ دیا تھا اور اپنے مخالف ارکان کو بدلحاظ و بداخلاق بھی قرار دیا تھا۔ نواز حکومت کی برطرفی کے بعد بحالی کے بعد صدر اسحق کے لیے بھی پارلیمنٹ سے خطاب مسئلہ بنا تھا اور وہ پیپلز پارٹی کے بعد مسلم لیگ (ن) کے بھی مخالف ہوگئے تھے۔پارلیمنٹ سے صدر مملکت کے خطاب کے بعد پارلیمنٹ میں ارکان اس پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ حکومتی ارکان صدر کے خطاب کی تعریف اور مخالفت کرکے صدر کے لیے اظہار تشکر کرلیتے ہیں یہ روایت چلی آرہی ہے جو متنازعہ بھی رہی ہے۔


ہر دور میں سیاسی اختلافات کو جمہوریت کا حسن قرار دیا جاتا رہا ہے مگر جمہوریت کے نام پر منتخب ہونے والے بعض ارکان اپنی ہی پارلیمنٹ کو بے توقیر بھی کرچکے ہیں جن میں ایک نمایاں نام تحریک انصاف کے عمران خان کا ہے جن کی پارلیمنٹ میں حاضری وزیر اعظم نواز شریف سے بھی کم ہے۔ عمران خان نے پارلیمنٹ کو اہمیت اس لیے نہیں دی کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں تیسرے نمبر پر آنے والی جماعت ہے اور وہ منتخب ہونے کے چند ماہ بعد ہی اس پارلیمنٹ کو جعلی قرار دیتے رہے اور پھر پی ٹی آئی ارکان اسی پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کے بعد پارلیمنٹ کے سامنے ہی دھرنا کئی ماہ تک دیے رہے اور پارلیمنٹ پر الزامات بھی لگاتے رہے مگر اپنے مقصد میں ناکام ہونے کے بعد اسی پارلیمنٹ میں واپس بھی آنا پڑا اور خواجہ آصف کے شرم و حیا کے سخت الفاظ بھی سننا پڑے۔

سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری تو پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی کو ایوان میں اجنبی قرار دیتے ہیں اور ان اجنبیوں پر یہ مہربانی اسپیکر قومی اسمبلی کی ہے جنھوں نے بڑی تعداد میں دیے گئے استعفے قبول نہیں کیے تھے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی ایوان میں موجود ہے مگر اب بھی وہ وزیر اعظم کی ٹانگیں کھینچنے ہی کے لیے اپنی توانائی ضایع کر رہے ہیں ہر حکومت کو من مانی سے روکنے کے لیے اپوزیشن کا وجود ضروری ہے مگر حالت یہ ہے کہ اپوزیشن حکومت کے اچھے کام کی حمایت کرے تو اس پر فرینڈلی اپوزیشن کا الزام لگتا ہے۔

اس لیے یہ جمہوری روایت ہماری سیاست میں ہے ہی نہیں اور نمبر بڑھانے کے لیے اپوزیشن حکومت کے کسی اچھے اقدام کا بہت کم ساتھ دیتی ہے اور اگر ارکان اسمبلی کی مراعات بڑھنی ہوں تو سب ایک ہوجاتے ہیں اور جمہوریت میں متفقہ فیصلہ کم ہی ہوتا ہے اور ہٹ دھرمی اپوزیشن کی سیاسی ضرورت قرار پاتی ہے اور اچھے اقدام پر بھی تنقید ضرور ہوتی ہے۔

اپوزیشن کی طرف سے غلط وقت پر ایشو ضرور پیدا کیے جاتے ہیں جو حکومت کے لیے بہانہ بن جاتے ہیں جیسے دھرنوں کے دوران چینی صدرکا دورہ تھا اور حکومت ڈیڑھ سال بعد بھی پی ٹی آئی پر الزام لگا رہی ہے کہ چینی صدر کا دورہ دھرنے کی وجہ سے منسوخ ہوا اور اقتصادی راہداری کے اہم منصوبے میں تاخیر ہوئی۔وزیر اعظم کی اوپن ہارٹ سرجری پر بھی اپوزیشن الزام تراشی میں مصروف رہی اور وزیر اعظم کی بیماری پر بھی سیاست جاری رکھی گئی۔

نواز شریف کی موجودگی میں یہ حقیقت ہے کہ (ن) لیگ میں متبادل وزیر اعظم کی کوئی سوچ نہیں ہے مگر لکھی تقریریں پڑھنے والے بلاول زرداری نے بھی کہہ دیا کہ چوہدری نثار کی وزیر اعظم بننے کی سازش ناکام ہوگئی حالانکہ شہباز شریف اور اسحاق ڈار کی موجودگی میں چوہدری نثار کے وزیراعظم بننے کا امکان تک نہیں تھا۔ وزیر خزانہ نے جو نیا بجٹ پیش کیا ہے اس میں کسانوں اور زراعت سے متعلق کچھ اچھے فیصلے بھی ہیں مگر حکومت کی مخالفت میں یہ بجٹ بھی مسترد کردیا۔ ماضی میں بھی یہی ہوتا آیا ہے اپوزیشن صرف شور مچاتی ہے اور حکومت اپنی مرضی کا بجٹ منظور کرا لیتی ہے۔

بزرگ کہتے آئے ہیں کہ یہ دیکھو کیا کہا جا رہا ہے یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے مگر ہمارے یہاں ہر اپوزیشن کا کام غیر ضروری تنقید اور ہٹ دھرمی چلا آرہا ہے اور حکومت اور اپوزیشن مل کر کبھی عوام کے مجموعی مفاد کا نہیں سوچتے اور عوام اور اہم عوامی مسائل سیاست کی نظر کردیے جاتے ہیں اور اس سلسلے میں حکومت اور اپوزیشن ہمیشہ ایک رہے ہیں۔
Load Next Story