کھیل کود بچوں کی جسمانی اور دماغی صحت کے لیے ناگزیر
بچوں کی جسمانی اور دماغی صحت کو یقینی بنانے کے لیے محفوظ کھیل کے میدان فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے.
تعلیمی سرگرمیوں کے باعث بچوں کو کھیلنے کودنے کا کم وقت ملتا ہے. فوٹو :میرا اقبال
متوسط اور کم ترقی یافتہ رہائشی آبادیوں میں مقیم چھوٹے بچوں کو کھیلنے کودنے کے لیے زیادہ وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔
حال ہی میں کی گئی تحقیق کے مطابق کھیل کود بچوں کی جسمانی اور دماغی صحت کے لیے ازحد ضروری ہے۔ نصابی کتب، سلیبس میں اضافے اور وقت کی کمی کے باعث بچوں کو کھیلنے کودنے کا کم وقت ملتا ہے جس سے ان کی صحت متاثر ہوتی ہے۔ تحقیقی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر ریجینا نے کہا ہے کہ انتہائی غریب والدین کے بچے بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں اور ان کے پاس بھی غیر روایتی کھیلنے کودنے کا وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بچوں کی جسمانی اور دماغی صحت کو یقینی بنانے کے لیے محفوظ کھیل کے میدان فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ان کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کو مرتب کرتے وقت اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ چھوٹے بچوں کے پاس اسکول کے اوقات کے بعد غیر روایتی کھیل کود کے لیے خاطر خواہ وقت دستیاب ہو تاکہ وہ جسمانی اور دماغی طور پر صحت مند رہیں اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار خوش اسلوبی سے ادا کر سکیں۔
حال ہی میں کی گئی تحقیق کے مطابق کھیل کود بچوں کی جسمانی اور دماغی صحت کے لیے ازحد ضروری ہے۔ نصابی کتب، سلیبس میں اضافے اور وقت کی کمی کے باعث بچوں کو کھیلنے کودنے کا کم وقت ملتا ہے جس سے ان کی صحت متاثر ہوتی ہے۔ تحقیقی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر ریجینا نے کہا ہے کہ انتہائی غریب والدین کے بچے بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں اور ان کے پاس بھی غیر روایتی کھیلنے کودنے کا وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بچوں کی جسمانی اور دماغی صحت کو یقینی بنانے کے لیے محفوظ کھیل کے میدان فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ان کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کو مرتب کرتے وقت اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ چھوٹے بچوں کے پاس اسکول کے اوقات کے بعد غیر روایتی کھیل کود کے لیے خاطر خواہ وقت دستیاب ہو تاکہ وہ جسمانی اور دماغی طور پر صحت مند رہیں اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار خوش اسلوبی سے ادا کر سکیں۔