قبضہ مافیا کیخلاف تنہا کارروائی نہیں کر سکتے اسٹیٹ انجینئر
فلٹر پلانٹ تکمیل کے مراحل میں ہے لیکن بعض دیگر وجوہ اور فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث تاخیر ہو رہی ہے
واٹر سپلائی کے پرانے انفرااسٹرکچر کی وجہ سے صنعتوں کے لیے پانی کا فقدان ہے۔ فوٹو: فائل
حیدرآباد سائٹ میں ترقیاتی کاموں اور سڑکوں کی تعمیر سے متعلق پی سی حکومت کے پاس موجود ہے، فنڈزملتے ہی کام شروع کرا دیے جائیں گے۔
جبکہ تجاوزات کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ یہ یقین دہانی سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ لمٹیڈ کے اسٹیٹ انجینئر سید کامل جعفری نے تاجر رہنمائوں سے بات چیت کرتے ہوئے کرائی۔انہوں نے کہا کہ سائٹ میں ریلویز اور ہائی ویز کی زمینوں پر قبضہ مافیا سرگرم ہے جس کی سیاسی پشت پناہی کے باعث تنہا کارروائی نہیں کر سکتے، ایس ایچ او حالی روڈ کو سیکیورٹی کے لیے درخواست دی گئی ہے، البتہ سائٹ کے اندرونی ایریاز میںتجاوزات کی روک تھام کی جا رہی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ فلٹر پلانٹ تکمیل کے مراحل میں ہے لیکن بعض دیگر وجوہ اور فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث تاخیر ہو رہی ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ واٹر سپلائی کے پرانے انفرااسٹرکچر کی وجہ سے صنعتوں کے لیے پانی کا فقدان ہے ، سائٹ کی 25 سالہ ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے 24 انچ قطر کی لائن بھی ڈالی جا رہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ٹریٹمنٹ پلانٹ کی سمری حکومت سندھ کو بھیجی گئی تھی، سائٹ کے پاس قطعہ اراضی نہیں ہے، اس لیے پرائیویٹ طور پر زمین کی خریداری کی سمری حکومت کو بھیج دی ہے۔ قبل ازیں چیئرمین سائٹ افیئر سب کمیٹی محمد سلیم غوری نے صنعتکاروں کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے اسٹیٹ انجینئر کی توجہ واٹر سپلائی چارجز، سڑکوں کی تعمیرات، تجاوزات، فلٹر پلانٹ سے پانی کی فراہمی ، اسٹریٹ لائٹس اور دیگر امور کی جانب مبذول کرائی۔
جبکہ تجاوزات کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ یہ یقین دہانی سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ لمٹیڈ کے اسٹیٹ انجینئر سید کامل جعفری نے تاجر رہنمائوں سے بات چیت کرتے ہوئے کرائی۔انہوں نے کہا کہ سائٹ میں ریلویز اور ہائی ویز کی زمینوں پر قبضہ مافیا سرگرم ہے جس کی سیاسی پشت پناہی کے باعث تنہا کارروائی نہیں کر سکتے، ایس ایچ او حالی روڈ کو سیکیورٹی کے لیے درخواست دی گئی ہے، البتہ سائٹ کے اندرونی ایریاز میںتجاوزات کی روک تھام کی جا رہی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ فلٹر پلانٹ تکمیل کے مراحل میں ہے لیکن بعض دیگر وجوہ اور فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث تاخیر ہو رہی ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ واٹر سپلائی کے پرانے انفرااسٹرکچر کی وجہ سے صنعتوں کے لیے پانی کا فقدان ہے ، سائٹ کی 25 سالہ ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے 24 انچ قطر کی لائن بھی ڈالی جا رہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ٹریٹمنٹ پلانٹ کی سمری حکومت سندھ کو بھیجی گئی تھی، سائٹ کے پاس قطعہ اراضی نہیں ہے، اس لیے پرائیویٹ طور پر زمین کی خریداری کی سمری حکومت کو بھیج دی ہے۔ قبل ازیں چیئرمین سائٹ افیئر سب کمیٹی محمد سلیم غوری نے صنعتکاروں کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے اسٹیٹ انجینئر کی توجہ واٹر سپلائی چارجز، سڑکوں کی تعمیرات، تجاوزات، فلٹر پلانٹ سے پانی کی فراہمی ، اسٹریٹ لائٹس اور دیگر امور کی جانب مبذول کرائی۔