کل شام سے ایم اے جناح روڈ بند کردیا جائیگا
9اور10محرم کو موبائل فون سروس بند کرنیکی درخواست کی جائیگی،مختلف علاقوں میں موٹر سائیکل چلانے پر پابندی کا بھی فیصلہ.
ایسٹ اور سائوتھ زون کے18 جبکہ ویسٹ کے10علاقے انتہائی حساس قرار. فوٹو: پی پی آئی
وفاقی حکومت کی ہدایت پر محرم الحرام میں دہشت گردی خطرات کے پیش نظر حکومت سندھ نے کراچی سمیت صوبے بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ریڈ الرٹ کر دیا گیا ہے۔
دہشت گردی خدشات کے پیش نظر حکومت سندھ وفاقی حکومت کو باضابطہ درخواست کریگی کہ 9 اور 10 محرم کو موبائل فون سروس بند کردی جائے تاہم اس درخواست پر حتمی فیصلہ وفاقی حکومت سیکیورٹی اداروں کی مشاورت سے کریگی، کراچی میں 9 اور 10 محرم کے مرکزی جلوسوں کے روٹس پر واقع تمام دکانوں اور مارکیٹوں کو آج(جمعرات)کی شب12 بجے سے سیل کر دیا جائے گا جبکہ ایم اے جناح روڈ کو کل (جمعہ) کی شام 6 بجے کے بعد سے عام ٹریفک کیلیے بند کردیا جائے گا۔
کراچی میں ویسٹ ، سائوتھ اور ایسٹ کے بعض علاقوں میں موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عائد کرنے کا بھی فیصلہ کرلیا گیا ہے جس میں سہراب گوٹھ ، ملیر ، شارع فیصل ، لیاقت آباد ، تین ہٹی ، گرومندر ، سولجر بازار ، صدر ، بولٹن مارکیٹ ، کھارادر اور کیماڑی سمیت 25 علاقے شامل ہیں تاہم موٹر سائیکل چلانے پر پابندی کا باضابطہ اعلان وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی منظوری کے بعد کیا جائے گا، ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلیے فول پروف سکیورٹی انتظامات کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
کراچی سمیت صوبے بھر میں 7 سے 10 محرم الحرام تک 50 ہزار سے زائد پولیس ، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکارسیکورٹی پر مامور ہونگے جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلیے فوج الرٹ رہے گی،کراچی میں مرکزی جلوسوں کی نگرانی350سے زائد کلوز سرکٹ کیمروں کے ذریعے کے ایم سی کمانڈ اینڈ کنٹرول اور پولیس کنٹرول روم سے کی جائیگی، کراچی میں سیکیورٹی کو3زونز میں تقسیم کیا گیا ہے اور سیکیورٹی انتظامات کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی کراچی اقبال محمود ہونگے جبکہ ان کی معاونت تینوں زونز کے ڈی آئی جیزکریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے ایسٹ اور سائوتھ زون کے18علاقوں جبکہ ویسٹ کے10علاقوںکو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے، سیکیورٹی پلان کے مطابق 9 اور 10 محرم الحرام کے مرکزی جلوسوں کی گزر گاہوں گرومندر ، نمائش ، سی بریز پلازہ ، رینبو سینٹر ، ایمپرس مارکیٹ ، ریگل چوک ، ایم جناح روڈ ، سعید منزل ، ریڈیو پاکستان ، جامعہ کلاتھ ، لائٹ ہائوس ، ڈینسو ہال ، بولٹن مارکیٹ ، بمبئی بازار اور کھارادر (امام بارگاہ حسنیان ایرانیان) تک اطراف کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو 200 سے زائد کنٹینرز اور دیگر رکاوٹوں کے ذریعے کل (جمعہ ) کی شام سے مکمل طور پر سیل کر کے پولیس افسران و اہلکاروں کو تعینات کر دیا جائے اور ان مقامات سے کسی کو بھی باہر یا اندر آنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔
جبکہ جلوس کے راستوں پر آنے والی تمام رہائشی عمارتوں کے مکینوں کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ اپنے فلیٹوں کی کھڑکیاں مکمل طور پر بند رکھیں ،جلوس کی فضائی نگرانی4ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کی جائیگی اور ان ہیلی کاپٹرز سے پورے جلوس کی فلم بندی بھی کی جائے گی، اس سلسلے میں سندھ حکومت کی خصوصی درخواست پر وفاقی حکومت نے 2 ہیلی کاپٹرز سندھ حکومت کو فراہم کیے ہیں،9اور 10محرم الحرام کے مرکزی جلوسوں میں شرکت کیلیے آنے والے افراد کا داخلہ مزار قائد کے قریب ایم اے جناح روڈ پر قائم کیے جانے والے6انٹری پوائنٹس سے ہوگا۔
جلوس میں شامل پولیس اور رینجرز کی گاڑیوں میں نصب کیمروں کے ساتھ ساتھ جیمرز بھی ہونگے،10محرم کے مرکزی جلوس کے اختتام کے بعد تعزیوں کو سمندر میں ٹھنڈا کرنے کیلیے نیٹی جیٹی پل کو چاروں اطراف سے سیل کردیا جائے گا اور صرف وہی لوگ ان تعزیوں کے ہمراہ جاسکیں گے جن کو پیشگی اجازت نامے جاری کیے گئے ہوںگے جبکہ پولیس نے نیٹی جیٹی پل کے نیچے سمندرمیں تعزیوں کو ٹھنڈا کرنے کے دوران بھی سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے ہیں، 8سے 10 محرم کی سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی کے لئے وزیر اعلیٰ ہائوس میں مرکزی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے جہاں وزیر اعلیٰ سندھ براہ راست تمام انتظامات کی مانیٹرنگ کریں گے،علاوہ ازیں حکومت سندھ نے محرم الحرام کے دوران امن وامان برقرار رکھنے اور میونسپل سروسز کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو خصوصی ذمے داریاں سونپ دی ہیں۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت سندھ نے صوبے بھر میں کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ 7 سے 10 محرم تک اپنی اپنی حدود میں امن وامان برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطہ رکھیں اور تمام انتظامات کی براہ راست نگرانی کریں،حکومت سندھ نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ محرم الحرام کے دوران وہ میونسپل سروسز کے اداروں، فراہمی، فائر بریگیڈ، ریسکیو، محکمہ صحت، بجلی فراہم کرنے والے اداروں سے بھی رابطے میں رہیں۔
دہشت گردی خدشات کے پیش نظر حکومت سندھ وفاقی حکومت کو باضابطہ درخواست کریگی کہ 9 اور 10 محرم کو موبائل فون سروس بند کردی جائے تاہم اس درخواست پر حتمی فیصلہ وفاقی حکومت سیکیورٹی اداروں کی مشاورت سے کریگی، کراچی میں 9 اور 10 محرم کے مرکزی جلوسوں کے روٹس پر واقع تمام دکانوں اور مارکیٹوں کو آج(جمعرات)کی شب12 بجے سے سیل کر دیا جائے گا جبکہ ایم اے جناح روڈ کو کل (جمعہ) کی شام 6 بجے کے بعد سے عام ٹریفک کیلیے بند کردیا جائے گا۔
کراچی میں ویسٹ ، سائوتھ اور ایسٹ کے بعض علاقوں میں موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عائد کرنے کا بھی فیصلہ کرلیا گیا ہے جس میں سہراب گوٹھ ، ملیر ، شارع فیصل ، لیاقت آباد ، تین ہٹی ، گرومندر ، سولجر بازار ، صدر ، بولٹن مارکیٹ ، کھارادر اور کیماڑی سمیت 25 علاقے شامل ہیں تاہم موٹر سائیکل چلانے پر پابندی کا باضابطہ اعلان وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی منظوری کے بعد کیا جائے گا، ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلیے فول پروف سکیورٹی انتظامات کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
کراچی سمیت صوبے بھر میں 7 سے 10 محرم الحرام تک 50 ہزار سے زائد پولیس ، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکارسیکورٹی پر مامور ہونگے جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلیے فوج الرٹ رہے گی،کراچی میں مرکزی جلوسوں کی نگرانی350سے زائد کلوز سرکٹ کیمروں کے ذریعے کے ایم سی کمانڈ اینڈ کنٹرول اور پولیس کنٹرول روم سے کی جائیگی، کراچی میں سیکیورٹی کو3زونز میں تقسیم کیا گیا ہے اور سیکیورٹی انتظامات کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی کراچی اقبال محمود ہونگے جبکہ ان کی معاونت تینوں زونز کے ڈی آئی جیزکریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے ایسٹ اور سائوتھ زون کے18علاقوں جبکہ ویسٹ کے10علاقوںکو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے، سیکیورٹی پلان کے مطابق 9 اور 10 محرم الحرام کے مرکزی جلوسوں کی گزر گاہوں گرومندر ، نمائش ، سی بریز پلازہ ، رینبو سینٹر ، ایمپرس مارکیٹ ، ریگل چوک ، ایم جناح روڈ ، سعید منزل ، ریڈیو پاکستان ، جامعہ کلاتھ ، لائٹ ہائوس ، ڈینسو ہال ، بولٹن مارکیٹ ، بمبئی بازار اور کھارادر (امام بارگاہ حسنیان ایرانیان) تک اطراف کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو 200 سے زائد کنٹینرز اور دیگر رکاوٹوں کے ذریعے کل (جمعہ ) کی شام سے مکمل طور پر سیل کر کے پولیس افسران و اہلکاروں کو تعینات کر دیا جائے اور ان مقامات سے کسی کو بھی باہر یا اندر آنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔
جبکہ جلوس کے راستوں پر آنے والی تمام رہائشی عمارتوں کے مکینوں کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ اپنے فلیٹوں کی کھڑکیاں مکمل طور پر بند رکھیں ،جلوس کی فضائی نگرانی4ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کی جائیگی اور ان ہیلی کاپٹرز سے پورے جلوس کی فلم بندی بھی کی جائے گی، اس سلسلے میں سندھ حکومت کی خصوصی درخواست پر وفاقی حکومت نے 2 ہیلی کاپٹرز سندھ حکومت کو فراہم کیے ہیں،9اور 10محرم الحرام کے مرکزی جلوسوں میں شرکت کیلیے آنے والے افراد کا داخلہ مزار قائد کے قریب ایم اے جناح روڈ پر قائم کیے جانے والے6انٹری پوائنٹس سے ہوگا۔
جلوس میں شامل پولیس اور رینجرز کی گاڑیوں میں نصب کیمروں کے ساتھ ساتھ جیمرز بھی ہونگے،10محرم کے مرکزی جلوس کے اختتام کے بعد تعزیوں کو سمندر میں ٹھنڈا کرنے کیلیے نیٹی جیٹی پل کو چاروں اطراف سے سیل کردیا جائے گا اور صرف وہی لوگ ان تعزیوں کے ہمراہ جاسکیں گے جن کو پیشگی اجازت نامے جاری کیے گئے ہوںگے جبکہ پولیس نے نیٹی جیٹی پل کے نیچے سمندرمیں تعزیوں کو ٹھنڈا کرنے کے دوران بھی سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے ہیں، 8سے 10 محرم کی سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی کے لئے وزیر اعلیٰ ہائوس میں مرکزی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے جہاں وزیر اعلیٰ سندھ براہ راست تمام انتظامات کی مانیٹرنگ کریں گے،علاوہ ازیں حکومت سندھ نے محرم الحرام کے دوران امن وامان برقرار رکھنے اور میونسپل سروسز کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو خصوصی ذمے داریاں سونپ دی ہیں۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت سندھ نے صوبے بھر میں کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ 7 سے 10 محرم تک اپنی اپنی حدود میں امن وامان برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطہ رکھیں اور تمام انتظامات کی براہ راست نگرانی کریں،حکومت سندھ نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ محرم الحرام کے دوران وہ میونسپل سروسز کے اداروں، فراہمی، فائر بریگیڈ، ریسکیو، محکمہ صحت، بجلی فراہم کرنے والے اداروں سے بھی رابطے میں رہیں۔