بجٹ پر اپوزیشن کا قابل غور استدلال
میثاق جمہوریت کی طرح میثاق معیشت کی ضرورت ہے تاکہ ترقی کا سفر جاری ہے
کرپشن ملک کا بڑا ایشو ہے لیکن اس کے خاتمے کے لیے تجاویز نہیں دی گئیں فوٹو؛ فائل
قومی اسمبلی اورسینیٹ میں اپوزیشن ارکان نے وفاقی بجٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ آئی ایم ایف کے ایما پر تیار کیا گیا، یہ نہ تو کسان دوست ہے نہ مزدور دوست، عام آدمی کے لیے اس میں کوئی خوشخبری نہیں، جب تک آف شور کمپنیوں کا سلسلہ بند نہیں ہوگا معیشت درست نہیں ہوسکتی ، تاہم میثاق معیشت کی حکومتی تجویز کی حمایت کی گئی اور حزب اختلاف کی طرف سے تنقید کے جواب میں مدلل انداز میں اس کا جواب دیا گیا، حکومتی ارکان نے دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی معیشت مستحکم اور اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگئی ہے۔
میثاق جمہوریت کی طرح میثاق معیشت کی ضرورت ہے تاکہ ترقی کا سفر جاری ہے۔ بلاشبہ دنیا بھر کے جمہوری نظاموں اور پارلیمانی بحث و مباحثے میں بجٹ کے اعلان کے بعد ارکان پارلیمنٹ اس کے حسن و قبح اور ریلیف و فلاحی پہلوؤں کو اجاگر کرتے اور ان بجٹ تجاویز پر کڑی نکتہ چینی ہوتی ہے جسے اپوزیشن ارکان عوامی ریلیف کے بجائے مخصوص طبقات کے مفادات کی تکمیل کا وسیلہ سمجھتے ہیں تاہم پارلیمانی بحث پوائنٹ اسکورنگ کے ڈیبیٹ تک محدود نہ ہو بلکہ کوشش ہونی چاہیے کہ حکومت اپوزیشن کی پیش کردہ مثبت تجاویز پر صاد کرے اور اسے بجٹ کا حصہ بنائے۔
اگر اپوزیشن لیڈر کے کہنے کے مطابق بجٹ آئی ایم ایف کے ایما پر تیار کیا گیا ، یہ محض الفاظ کا ہیر پھیر ہے، یہ نہ تو کسان دوست ہے نہ مزدور دوست، حکومت نے ایوان میں درست اعداد و شمار پیش نہیں کیے ، تو وزیرخزانہ اپوزیشن کے ان الزامات ، مطالبات اور اعتراضات کا سنجیدگی سے نوٹس لیں، اور اپوزیشین کی جائز تجاویز بجٹ میں شامل کی جانی چاہئیں۔
اپوزیشن بھی بجٹ پر لفاظی سے گریز کرے ۔سینیٹ میں بجٹ پر بحث کے دوران ارکان نے کہا کہ بجٹ عوام دوست نہیں، حکمران آف شور کمپنیاں بنارہے ہیں جب کہ ملکی معیشت تباہ ہوچکی، کرپشن ملک کا بڑا ایشو ہے لیکن اس کے خاتمے کے لیے تجاویز نہیں دی گئیں۔ یہ نکات قابل غور ہیں ، لہٰذا کوشش ہونی چاہیے کہ بجٹ تقاریر اپنے سنجیدہ اہداف کے مطابق تعمیری ہوں اور اس کے نتیجے میں حکومت کشادہ دلی سے اپوزیشن تجاویز کو مان کر ہمہ جہت عوامی ریلیف والا بجٹ دے ۔
میثاق جمہوریت کی طرح میثاق معیشت کی ضرورت ہے تاکہ ترقی کا سفر جاری ہے۔ بلاشبہ دنیا بھر کے جمہوری نظاموں اور پارلیمانی بحث و مباحثے میں بجٹ کے اعلان کے بعد ارکان پارلیمنٹ اس کے حسن و قبح اور ریلیف و فلاحی پہلوؤں کو اجاگر کرتے اور ان بجٹ تجاویز پر کڑی نکتہ چینی ہوتی ہے جسے اپوزیشن ارکان عوامی ریلیف کے بجائے مخصوص طبقات کے مفادات کی تکمیل کا وسیلہ سمجھتے ہیں تاہم پارلیمانی بحث پوائنٹ اسکورنگ کے ڈیبیٹ تک محدود نہ ہو بلکہ کوشش ہونی چاہیے کہ حکومت اپوزیشن کی پیش کردہ مثبت تجاویز پر صاد کرے اور اسے بجٹ کا حصہ بنائے۔
اگر اپوزیشن لیڈر کے کہنے کے مطابق بجٹ آئی ایم ایف کے ایما پر تیار کیا گیا ، یہ محض الفاظ کا ہیر پھیر ہے، یہ نہ تو کسان دوست ہے نہ مزدور دوست، حکومت نے ایوان میں درست اعداد و شمار پیش نہیں کیے ، تو وزیرخزانہ اپوزیشن کے ان الزامات ، مطالبات اور اعتراضات کا سنجیدگی سے نوٹس لیں، اور اپوزیشین کی جائز تجاویز بجٹ میں شامل کی جانی چاہئیں۔
اپوزیشن بھی بجٹ پر لفاظی سے گریز کرے ۔سینیٹ میں بجٹ پر بحث کے دوران ارکان نے کہا کہ بجٹ عوام دوست نہیں، حکمران آف شور کمپنیاں بنارہے ہیں جب کہ ملکی معیشت تباہ ہوچکی، کرپشن ملک کا بڑا ایشو ہے لیکن اس کے خاتمے کے لیے تجاویز نہیں دی گئیں۔ یہ نکات قابل غور ہیں ، لہٰذا کوشش ہونی چاہیے کہ بجٹ تقاریر اپنے سنجیدہ اہداف کے مطابق تعمیری ہوں اور اس کے نتیجے میں حکومت کشادہ دلی سے اپوزیشن تجاویز کو مان کر ہمہ جہت عوامی ریلیف والا بجٹ دے ۔