قومی سلامتی اور خطے کی بدلتی صورتحال
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے عالمی محاصرے کی کوششوں میں خطے کی قوتوں پر مبنی نئے اتحاد بننے لگے ہیں
اوباما کی رخصتی سے پہلے بھارت ان سے کئی کام نکالنے میں کامیاب ہوچکا ہے فوٹو: آئی ایس پی آر
اعلیٰ سول اورعسکری قیادت نے بنیادی قومی مفادات کے تحفظ اور کسی قسم کے منفی بیرونی اثرورسوخ کا مؤثر توڑ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ سول اور عسکری قیادت کا اعلیٰ سطح کا اجلاس منگل کو جنرل ہیڈ کوارٹرز میں ہوا جس میں قومی سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ وفاقی وزرا خواجہ محمدآصف اور اسحٰق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی اور خارجہ سیکریٹری اعزاز چوہدری نے شرکت کی۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف، ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)،لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختراور دیگرسینئرسول حکام نے شرکت کی۔
وزیراعظم نواز شریف کی علالت اور ملک میں عدم موجودگی میں ہونے والا یہ پہلا اہم اجلاس ہے جس میں شرکا نے پاک چین اقتصادی راہداری سمیت ملک کی داخلی اوربیرونی سلامتی کی صورتحال سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی غوروخوض کیا۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے عالمی محاصرے کی کوششوں میں خطے کی قوتوں پر مبنی نہ صرف نئے اتحاد بننے لگے ہیں بلکہ بھارت کو ایٹمی سپلائرز گروپ میں شمولیت کے لیے صدر اوباما کی فعال آشیرباد بھی حاصل ہوگئی ہے، مودی امریکا کے دورے پر ہیں ۔
امریکا چین کی اقتصادی طاقت ، جنوبی ایشیا اور بلوچستان سمیت بحرہند اور بحرعرب پر اسٹرٹیجک بالادستی کے حصول اور پاک چین دوستی سے خائف ہے، اسی تناطر میں اجلاس کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے جب کہ ایرانی بندرگاہ چاہ بہار21 کی توسیع اور دیگر اتحادی امور کے حوالہ سے پاکستان کو کسی طور غافل نہ رہنے کا عندیہ دیا گیا، بھارت، ایران اور افغانستان نے چاہ بہار بندرگاہ کی ترقی کے لیے جن عزائم کا اظہار کیا ہے وہ چشم کشا ہیں ۔ اجلاس میں نوشکی میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ پاکستان کی خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے جس سے باہمی اعتماد کو ٹھیس پہنچی اور باہمی طور پر متفقہ4 فریقی فریم ورک کے تحت افغان امن کے عمل کی روح مجروح ہوئی۔ اس ڈرون حملہ پر جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ اس ضمن میں مذمت کا لفظ ناکافی ہے۔
تاہم ملکی سلامتی کے علاوہ امریکی صدر بارک اوباما سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی وائٹ ہاؤس میں ایک اور ملاقات کے مضمرات بھی قابل غور ہیں، شنید ہے کہ نریندر مودی جب امریکی صدر بارک اوباما سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا اور ان کی آمد پر انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔اوباما نے بانہیں پھیلا کر کہا کہ ''میرا دوست آگیا''۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق بات چیت میں موسمیاتی تبدیلیوں، قابل تجدید توانائی، سیکیورٹی اور دفاعی تعاون اور معاشی بہتری جیسے موضوعات شامل ہیں۔ نریندر مودی کا دو برس قبل بھارت کا وزیراعظم بننے کے بعد امریکا کا یہ چوتھا دورہ ہے جب کہ بارک اوباما سے یہ ان کی ساتویں ملاقات ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کے ساتھ نیوکلیئر سول تعاون میں پیشرفت ہوئی ہے ۔طرفہ تماشا ہے کہ مودی نے قطر، سوئٹزرلینڈ ، افغانستان اور امریکا سمیت میکسیکو کے پانچ ملکی دورے کیے اور ہمارے سیاست دان ابھی پانامہ لیکس کے ٹی او آرز کی گتھی سلجھانے میں لگے ہوئے ہیں، مودی اپنے جارحانہ عزائم کے ساتھ خطے کی سیاسی،عسکری اور معاشی ڈائنا مکس کو تبدیل کرنے کی مہم پر ہیں، افغانستان میں بھارتی اثرورسوخ اب کوئی راز نہیں رہا، بلوچستان ، کراچی اس کا ہدف ہے، ایران،افغانستان ، سعودی عرب اور قطر سے معاہدوں کی اس پر بارش ہوئی ہے لیکن ہمارے سی پیک منصوبہ کے مغربی روٹ پر سینیٹ کمیٹی میں تشویش کی لہر اٹھی ہے، قوم پرست بلوچ اور پختونخوا سیاسی رہنماؤں نے راہداری منصوبہ پر اتفاق رائے سے جزوی گریز کی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے ، اس کشمکش، سیاسی برہمی اور ناراضگی کا خاتمہ کیے بغیر گیم چینجر منصوبہ کی تکمیل کیسے ممکن ہوگی ۔
اوباما نیوکلیئر سپلائر گروپس میں بھارتی شمولیت کی علانیہ حمایت کرتے ہیں۔ اس موقع پر نیوکلیئر سول ٹیکنالوجی میں تعاون ، سائبر سیکیورٹی پر ساتھ کام کرنے پر اتفاق جب کہ اوباما نے میزائل ٹیکنالوجی اور نیوکلیئر سپلائر گروپس میں شمولیت پر بھارت کی جو حمایت کی ہے اس پر مودی نے اوباما کا شکریہ ادا کیا۔ بلاشبہ اوباما مودی ''لو اسٹوری'' کے ڈراپ سین کا ادراک وقت کا تقاضہ ہے، اوباما کی رخصتی سے پہلے بھارت ان سے کئی کام نکالنے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ مشیرخارجہ سرتاج عزیزکا کہنا ہے کہ بھارت کو غلط فہمی ہے کہ وہ ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہوکر محفوظ رہیگا۔ سینیٹ کے اجلاس کے دوران بھارت کی جانب سے نیوکلئیرسپلائرزگروپ میں شامل ہونیکی درخواست کے حوالے سے پیش کی گئی تحریک التوا پر اظہارخیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بھارت بحر ہند کو ایٹمی دوڑ میں جھونک رہا ہے۔ یہی بات امریکی سینیٹرز کہہ چکے ہیں ۔ مژگاں تو کھولو ، حکمرانو!
وزیراعظم نواز شریف کی علالت اور ملک میں عدم موجودگی میں ہونے والا یہ پہلا اہم اجلاس ہے جس میں شرکا نے پاک چین اقتصادی راہداری سمیت ملک کی داخلی اوربیرونی سلامتی کی صورتحال سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی غوروخوض کیا۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے عالمی محاصرے کی کوششوں میں خطے کی قوتوں پر مبنی نہ صرف نئے اتحاد بننے لگے ہیں بلکہ بھارت کو ایٹمی سپلائرز گروپ میں شمولیت کے لیے صدر اوباما کی فعال آشیرباد بھی حاصل ہوگئی ہے، مودی امریکا کے دورے پر ہیں ۔
امریکا چین کی اقتصادی طاقت ، جنوبی ایشیا اور بلوچستان سمیت بحرہند اور بحرعرب پر اسٹرٹیجک بالادستی کے حصول اور پاک چین دوستی سے خائف ہے، اسی تناطر میں اجلاس کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے جب کہ ایرانی بندرگاہ چاہ بہار21 کی توسیع اور دیگر اتحادی امور کے حوالہ سے پاکستان کو کسی طور غافل نہ رہنے کا عندیہ دیا گیا، بھارت، ایران اور افغانستان نے چاہ بہار بندرگاہ کی ترقی کے لیے جن عزائم کا اظہار کیا ہے وہ چشم کشا ہیں ۔ اجلاس میں نوشکی میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ پاکستان کی خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے جس سے باہمی اعتماد کو ٹھیس پہنچی اور باہمی طور پر متفقہ4 فریقی فریم ورک کے تحت افغان امن کے عمل کی روح مجروح ہوئی۔ اس ڈرون حملہ پر جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ اس ضمن میں مذمت کا لفظ ناکافی ہے۔
تاہم ملکی سلامتی کے علاوہ امریکی صدر بارک اوباما سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی وائٹ ہاؤس میں ایک اور ملاقات کے مضمرات بھی قابل غور ہیں، شنید ہے کہ نریندر مودی جب امریکی صدر بارک اوباما سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا اور ان کی آمد پر انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔اوباما نے بانہیں پھیلا کر کہا کہ ''میرا دوست آگیا''۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق بات چیت میں موسمیاتی تبدیلیوں، قابل تجدید توانائی، سیکیورٹی اور دفاعی تعاون اور معاشی بہتری جیسے موضوعات شامل ہیں۔ نریندر مودی کا دو برس قبل بھارت کا وزیراعظم بننے کے بعد امریکا کا یہ چوتھا دورہ ہے جب کہ بارک اوباما سے یہ ان کی ساتویں ملاقات ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کے ساتھ نیوکلیئر سول تعاون میں پیشرفت ہوئی ہے ۔طرفہ تماشا ہے کہ مودی نے قطر، سوئٹزرلینڈ ، افغانستان اور امریکا سمیت میکسیکو کے پانچ ملکی دورے کیے اور ہمارے سیاست دان ابھی پانامہ لیکس کے ٹی او آرز کی گتھی سلجھانے میں لگے ہوئے ہیں، مودی اپنے جارحانہ عزائم کے ساتھ خطے کی سیاسی،عسکری اور معاشی ڈائنا مکس کو تبدیل کرنے کی مہم پر ہیں، افغانستان میں بھارتی اثرورسوخ اب کوئی راز نہیں رہا، بلوچستان ، کراچی اس کا ہدف ہے، ایران،افغانستان ، سعودی عرب اور قطر سے معاہدوں کی اس پر بارش ہوئی ہے لیکن ہمارے سی پیک منصوبہ کے مغربی روٹ پر سینیٹ کمیٹی میں تشویش کی لہر اٹھی ہے، قوم پرست بلوچ اور پختونخوا سیاسی رہنماؤں نے راہداری منصوبہ پر اتفاق رائے سے جزوی گریز کی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے ، اس کشمکش، سیاسی برہمی اور ناراضگی کا خاتمہ کیے بغیر گیم چینجر منصوبہ کی تکمیل کیسے ممکن ہوگی ۔
اوباما نیوکلیئر سپلائر گروپس میں بھارتی شمولیت کی علانیہ حمایت کرتے ہیں۔ اس موقع پر نیوکلیئر سول ٹیکنالوجی میں تعاون ، سائبر سیکیورٹی پر ساتھ کام کرنے پر اتفاق جب کہ اوباما نے میزائل ٹیکنالوجی اور نیوکلیئر سپلائر گروپس میں شمولیت پر بھارت کی جو حمایت کی ہے اس پر مودی نے اوباما کا شکریہ ادا کیا۔ بلاشبہ اوباما مودی ''لو اسٹوری'' کے ڈراپ سین کا ادراک وقت کا تقاضہ ہے، اوباما کی رخصتی سے پہلے بھارت ان سے کئی کام نکالنے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ مشیرخارجہ سرتاج عزیزکا کہنا ہے کہ بھارت کو غلط فہمی ہے کہ وہ ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہوکر محفوظ رہیگا۔ سینیٹ کے اجلاس کے دوران بھارت کی جانب سے نیوکلئیرسپلائرزگروپ میں شامل ہونیکی درخواست کے حوالے سے پیش کی گئی تحریک التوا پر اظہارخیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بھارت بحر ہند کو ایٹمی دوڑ میں جھونک رہا ہے۔ یہی بات امریکی سینیٹرز کہہ چکے ہیں ۔ مژگاں تو کھولو ، حکمرانو!