رمضان المبارک میں مہنگائی کا طوفان
احسن عمل تو یہ ہوگا کہ رمضان کے مبارک ماہ میں مسلمانوں کو رعایتی اور سستے نرخوں پر اشیا فراہم کی جائیں
عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہے، انتظامیہ گرانفروشوں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائے۔ فوٹو : فائل
رمضان المبارک کے آغاز ہی پر گرانفروشوں اور منافع خور تاجروں کی من مانی قیمتوں پر اشیائے ضروریہ اور دیگر اجناس کی فروخت نے عوام کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سے قبل از رمضان بلند بانگ دعوے ضرور کیے جارہے تھے کہ رمضان میں نہ صرف مہنگائی کو کنٹرول کیا جائے گا بلکہ عوام کی سہولت کے لیے سستی اشیا مہیا کی جائیں گی لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ ماہ صیام سے پہلے ہی گرانفروش مافیا متحرک ہوگئی تھی جب کہ پہلے روزہ پر عوام کو بازاروں میں پھل، سبزیاں اور دیگر اجناس تقریباً دگنی قیمتوں پر خریدنا پڑیں۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ سرکاری نرخ نامہ اور مانیٹرنگ کے لیے بنائی گئی ٹیمیں بھی غیر موثر ثابت ہوئیں، جب کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹ بھی متحرک نہ ہوسکے۔ یوں لگتا ہے جیسے گرانفروشوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ دکانداروں نے ازخود سبزیوں و پھلوں کی قیمتوں میں 8 سے 20 روپے فی کلو تک اضافہ کردیا ہے۔ رمضان بازار کی انتظامیہ نے ریٹ لسٹیں ہی غائب کردیں جب کہ مارکیٹوں میں نرخنامہ آویزاں ہی نہیں کیے جا رہے یا قدرے چھپا کر لگائے جاتے ہیں، نیز دو اور تین نمبر کوالٹی والی اشیا نمبر ایک کوالٹی کے دام پر فروخت کی جا رہی ہیں جس پر عوام سراپا احتجاج ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ شہریوں نے شکوہ کیا ہے کہ اشیا مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہیں، جن چیزوں کی قیمتیں کم ہیں، ان کا معیار بھی کم ہے۔ جب کہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ ماہ صیام میں سحر و افطار کے دوران زیادہ استعمال ہونے والی اشیا کی مصنوعی قلت بھی پیدا کردی گئی ہے۔
لاہور کے بازاروں سے افطار کی ضروری اشیا کے علاوہ لیموں، شملہ مرچ اور پالک بھی غائب ہوگئی۔ کوئٹہ میں ایرانی کھجور کی قیمت میں سو فیصد اضافے نے روزہ داروں کی مشکلات بڑھا دیں۔اسلام آباد، راولپنڈی، کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں بھی گرانی کا یہی حال ہے، جب کہ انتظامیہ خواب خرگوش کے مزے لوٹنے میں مصروف ہے۔
عوام کی پریشانیوں کا کسی کو خیال نہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں جب کہ متوسط اور غریب طبقہ کی قوت خرید انتہائی گرچکی ہے حکومت کو کم از کم سرکاری نرخوں کے مطابق اشیا کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے جب کہ احسن عمل تو یہ ہوگا کہ رمضان کے مبارک ماہ میں مسلمانوں کو رعایتی اور سستے نرخوں پر اشیا فراہم کی جائیں جیسا کہ دیگر ممالک میں تہواروں کے موقع پر عوام کو ریلیف دیا جاتا ہے۔ جب کہ پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی گرانفروشی اور مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہے، انتظامیہ گرانفروشوں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ سرکاری نرخ نامہ اور مانیٹرنگ کے لیے بنائی گئی ٹیمیں بھی غیر موثر ثابت ہوئیں، جب کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹ بھی متحرک نہ ہوسکے۔ یوں لگتا ہے جیسے گرانفروشوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ دکانداروں نے ازخود سبزیوں و پھلوں کی قیمتوں میں 8 سے 20 روپے فی کلو تک اضافہ کردیا ہے۔ رمضان بازار کی انتظامیہ نے ریٹ لسٹیں ہی غائب کردیں جب کہ مارکیٹوں میں نرخنامہ آویزاں ہی نہیں کیے جا رہے یا قدرے چھپا کر لگائے جاتے ہیں، نیز دو اور تین نمبر کوالٹی والی اشیا نمبر ایک کوالٹی کے دام پر فروخت کی جا رہی ہیں جس پر عوام سراپا احتجاج ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ شہریوں نے شکوہ کیا ہے کہ اشیا مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہیں، جن چیزوں کی قیمتیں کم ہیں، ان کا معیار بھی کم ہے۔ جب کہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ ماہ صیام میں سحر و افطار کے دوران زیادہ استعمال ہونے والی اشیا کی مصنوعی قلت بھی پیدا کردی گئی ہے۔
لاہور کے بازاروں سے افطار کی ضروری اشیا کے علاوہ لیموں، شملہ مرچ اور پالک بھی غائب ہوگئی۔ کوئٹہ میں ایرانی کھجور کی قیمت میں سو فیصد اضافے نے روزہ داروں کی مشکلات بڑھا دیں۔اسلام آباد، راولپنڈی، کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں بھی گرانی کا یہی حال ہے، جب کہ انتظامیہ خواب خرگوش کے مزے لوٹنے میں مصروف ہے۔
عوام کی پریشانیوں کا کسی کو خیال نہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں جب کہ متوسط اور غریب طبقہ کی قوت خرید انتہائی گرچکی ہے حکومت کو کم از کم سرکاری نرخوں کے مطابق اشیا کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے جب کہ احسن عمل تو یہ ہوگا کہ رمضان کے مبارک ماہ میں مسلمانوں کو رعایتی اور سستے نرخوں پر اشیا فراہم کی جائیں جیسا کہ دیگر ممالک میں تہواروں کے موقع پر عوام کو ریلیف دیا جاتا ہے۔ جب کہ پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی گرانفروشی اور مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہے، انتظامیہ گرانفروشوں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائے۔