کراچی سے متعلق حکم پر جاں بوجھ کر عمل نہیں کیا گیا چیف جسٹس

حکم میںکہا تھا کہ سیاسی جماعتیں دہشت گردوںکی سرپرستی چھوڑ دیں اورپولیس کو فعال کردار دیا جائے،ریمارکس

لاشیں پھر گرنے لگیں، حکم میںکہا تھا کہ سیاسی جماعتیں دہشت گردوںکی سرپرستی چھوڑ دیں اورپولیس کو فعال کردار دیا جائے، سمجھوتوں کا لفظ پاکستان کی لغت سے ختم ہوجانا چاہیے، ریمارکس۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے کہا ہے کراچی کے بارے سپریم کورٹ کے فیصلے پر جان بوجھ کر عمل نہیںہوا فیصلے کے دو مہینے تک امن رہا اب پھر لاشیں گرنے لگی ہیں۔

یہ آبزرویشن انھوں نے گزشتہ روز ریکوڈک کیس کی سماعت کے دوران خالد انورکی جانب سے اچانک کراچی کے بارے میں تحفظات کے اظہار پر دی۔ خالد انور نے ریکوڈک کیس میں دلائل دیتے ہوئے اچا نک کراچی کا معاملہ اٹھایا اورکہا ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے مسلح قاتل شہر میں متحرک ہیں، پولیس اعلیٰ حکام کی ہدایت کے مطابق سارے معاملے سے الگ تھلگ ہے حالانکہ شہریوں کو تحفظ دینا حکومت کی ذمے داری ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا عدالت کے فیصلے پر تو عمل نہیں ہوا ،ہم نے کہا تھا کہ سیاسی جماعتیں دہشتگردوںکی سرپرستی چھوڑ دیں اور پولیس کو فعال کردار دیا جائے لیکن کچھ نہیں ہوا۔ ثنا نیوز کے مطابقدوران سماعت ٹیتھان کمپنی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ صوبے کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے یہ پاکستان کی بقاء کا معاملہ ہے ۔ معاملے کے حل کے لیے بندوق نہیں مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں بھی ایسے مقامات ہیں جہاں پر میں بھی نہیں جا سکتا اور آپ ( ججز ) بھی نہیں جا سکتے ۔ کراچی کی صورت حال انتہائی سنگین ہے ۔


روزانہ لوگ مارے جاتے ہیں میری جان کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت کی ہے ۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ادلے کے بدلے لوگ مارے جا رہے ہیں ۔ ہم نے کراچی میں امن و امان کی صورت حال پر فیصلہ دیا جس پر عملدرآمد نہیں ہوا ۔ عدالت نے جتنی بھی ہدایات دیں سب کو نظر انداز کیا گیا ۔ سیاسی جماعتوں میں موجود عسکری ونگز ختم کرنے کے لیے دیے گئے حکم پر بھی عمل نہیں کیا گیا ۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی فیصلہ آنے کے بعد دو ماہ تک حالات اچھے رہے تاہم اب حالات پھر ویسے کے ویسے ہو گئے ہیں۔

قبل ازیں سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ریکوڈک کیس میں ٹی تھیان کاپر کمپنی ٹی سی سی کے وکیل کی طرف سے کمپنی کیخلاف فیصلہ آنے کی صورت میں پاکستان میں سرمایہ کاری کیلیے خطرناک نتائج سے متعلق دلائل مستردکرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ فیصلہ آئین و قانون کے تحت ہوگا،بیرونی دنیا کو یہ پیغام نہیں جانا چاہیے کہ پاکستان میں عدم شفافیت پر سمجھوتا کر لیا گیا ہے، سمجھوتے کا لفظ ملک کے لغت سے اب نکل جانا چاہیے،غیر امتیازی برتائو اور عدم شفافیت کیخلاف عدالت جس حد تک چاہے جا سکتی ہے۔

ٹی تھیان کے وکیل خالد انور نے چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کو بتایا کہ کمپنی نے معدنیات نکالنے کیلیے لائسنس حاصل کرنے کی توقع پر سرمایہ کاری کی تھی ،اگر یہ توقع نہ ہوتی تو ٹی تھیان کبھی بھی سرمایہ کاری نہ کرتی،مائننگ لائسنس نہیں ملے گا تو یہ عالمی قوانین کیخلاف ہوگا، اگر معاہدہ کالعدم قرار دیا گیا تو ملک میں تیل و گیس کی تلاش کے پچاس سے زائد معاہدے از خودکالعدم ہوجائیںگے ، سپریم کورٹ کے فیصلے سے معاہدہ منسوخ ہواتو نقصان ریاست کا ہوگا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا ہم ڈرنے والے نہیں قانون کے مطابق فیصلہ ہوگا،مزید سماعت آج پھر ہوگی ۔

Recommended Stories

Load Next Story