شہر میں فوجی آپریشن کی ضرورت نہیں آئی جی سندھ

کراچی میں سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ سامنے نہیں آئے، آئی جی کی حیدرآباد میں پریس کانفرنس

کراچی میں سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ سامنے نہیں آئے، پولیس اور رینجرز حالات کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، استعداد کار بڑھانے کی ضرورت ہے، آئی جی کی حیدرآباد میں پریس کانفرنس۔ فوٹو: فائل

انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ فیاض احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ کراچی میں فوجی آپریشن کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ رینجرزشہر میں موجود ہیں اور وہ بھی فوج کا حصہ ہیں۔

حیدرآباد کے شہباز ہال میں پولیس افسران کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوںسے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کراچی میں اسلحہ سازی کی کوئی فیکٹری نہیں ہے، لیکن یہ اطلاعات ہیں کہ کراچی سمیت سندھ میں باہر سے اسلحہ لایا جاتا ہے۔کراچی میں کسی بھی سیاسی جماعت کا عسکری ونگ سامنے نہیں آیا لیکن ٹارگٹ کلرز سیاسی پارٹیوں کی چھتری ضروراستعمال کرتے ہیں ۔ دہشت گردی کے خدشات ہمیشہ رہتے ہیں، اب بھی ہیںکیونکہ اس حوالے سے انٹیلی جنس رپورٹ ہے، جن سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ سندھ میں یوم عاشور پر فوج کو طلب نہیں کیا جا رہا، بلکہ اسٹینڈ بائی رکھا جا رہا ہے۔


9 اور 10 محرم الحرام کو موٹر سائیکل چلانے پر پابندی زیرغور ہے۔ انھوں نے بتایا کہ غیر قانونی ہتھیاروں کے حوالے سے اسمبلی میں بل لایا جا رہا ہے جس کے بعد غیر قانونی ہتھیار رکھنے والے کی ضمانت بھی نہیں ہو سکے گی ۔ رواں سال 170 ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کیا جا چکا ہے،گرفتار ملزمان نے300 سے زائد افرادکے قتل کا اعتراف کیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ حیدرآباد میں بوہرہ برادری کے افراد کے قتل میں ملوث گروہ کے 2 کارندوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے، شیعہ اور سنی علماء سے مل کر دہشت گردی سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلرزکی تیسری قوت پشت پناہی کر رہی ہے ۔

اغوا برائے تاوان کے حوالے سے اپر سندھ میں آپریشن جاری ہے ۔حیدرآباد اور میر پورخاص ریجن کے 13 اضلاع میں محرم کے دوران امن و امان قائم کر نے کے لیے38 ہزار پولیس اہلکار اور افسران تعینات کیے گئے ہیں۔ قبل ازیں محرم الحرام کے دوران امن قائم رکھنے کے لیے آئی جی کی سربراہی میں حیدرآباد اور میرپورخاص ریجن کے 13 اضلاع کے اعلیٰ افسران کا اجلاس منعقد ہوا ۔ ڈی آئی حیدرآباد اور ڈی آئی جی میرپورخاص نے اپنے ریجن میں امن و امان ، حفاظتی انتظامات اور حساس مقامات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ بعد ازاں فیاض لغاری نے قدم گاہ مولا علی کا دورہ کیا اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا ۔

Recommended Stories

Load Next Story