بھارت نے اجمل قصاب کو پھانسی دیکر جیل میں ہی دفنادیا
پھانسی خفیہ رکھناضروری تھی،پاکستان کواطلاع کردی تھی،بھارت،ہرقسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان
پاکستانی میڈیاوعوام خاموش،ایمنسٹی انٹرنیشنل کااظہارمذمت،بڑانقصان ہے،تحریک طالبان،لشکرطیبہ نے قصاب کوہیروقراردیدیا۔ فوٹو: رائٹرز
ممبئی حملوں کے الزام میںگرفتاراجمل قصاب کوبدھ کی صبح کو بھارت کی پوناجیل میں اچانک خاموشی سے پھانسی دیدی گئی۔
بھارتی وزیر داخلہ سشیل کمارشنڈے نے پھانسی کی تصدیق کردی اور کہا کہ پا کستان کواس کے بارے میں بتادیاگیاتھالیکن پاکستان نے لاش وصول کرنے کاکوئی مطالبہ نہیں کیا، اگر پاکستان لاش کامطالبہ کرتاہے توبھارت اسے ضرورسونپ دیگا، پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ بھارتی نائب ہائی کمشنرنے اجمل قصاب کی پھانسی سے متعلق آگاہ کردیاتھاتاہم دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کامؤقف بالکل واضح ہے اورپاکستان دہشت گردی کیخلاف بھارت سمیت دیگرممالک سے تعاون کیلیے تیارہے۔
بھارتی وزیراخلہ شنڈے کے مطابق وزارتِ داخلہ نے اجمل قصاب کی رحم کی درخواست16 اکتوبرکوصدر پرناب مکھرجی کے پاس بھیجی تھی اورصدرنے 5نومبر کواجمل قصاب کی رحم کی درخواست مستردکرکے دوبارہ وزارت داخلہ کوواپس بھیج دی تھی،8 نومبرکوہی اس بات کافیصلہ کر لیا گیاتھاکہ قصاب کو21نومبر کوپونے کی یروڈاجیل میں پھانسی دی جائے گی،قصاب کی پھانسی کے معاملے کوخفیہ رکھناضروری تھا، قصاب کی پھانسی کے لیے بھارتی حکومت پربہت دبائوتھا۔
بھارتی ٹی وی رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف ہواہے کہ اجمل قصاب کوممبئی کے ارتھرروڈجیل سے پونے کے یروادا جیل لے جانے اورپھرپھانسی دینے کے سارے عمل کوایک وڈیوکی شکل دی گئی ہے،اس پورے آپریشن کا کوئی بھی لمحہ ایسانہیں ہے جووڈیومیں شامل نہیں،قصاب کو بدھ کی صبح7:30پرپھانسی دی گئی اورنو بج کر30منٹ پریرواداجیل کی حدودمیں دفنایاگیا،بھارتی میڈیاکے مطابق اجمل قصاب چاہتاتھاکہ اس کی والدہ کو پھانسی سے متعلق اطلاع دیدی جائے،اس کے علاوہ اجمل قصاب نے موت سے قبل کسی بھی قسم کی آخری خواہش کااظہارنہیںکیااورکہاکہ اس کی کوئی بھی خواہش اورتمنانہیںہے۔
آن لائن کے مطابق بھارتی میڈیا میں اجمل قصاب کی تدفین کے حوالے سے مختلف دعوے کیے گئے ہیں بعض رپورٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ حکومت کی جانب سے تدفین کوخطرہ قراردیے جانے کے بعدفیصلہ کیا گیا ہے کہ اجمل قصاب کی میت کو اسامہ بن لادن کی طرح سمندر بردکیاجائے گا۔اجمل قصاب کے وکلانے اسے اچانک پھانسی دیے جانے پرحیرانگی کااظہارکرتے ہوئے اس بارے سوالات اٹھائے ہیں قصاب کی وکیل امین فرحانہ شاہ کاکہنا تھا مجھے قصاب کی پھانسی کا اچانک سن کر دھچکالگا،اتنی زیادہ خفیہ طریقے سے اسے کیوں پھانسی دی گئی؟ ۔ بھارتی چینلزپرفی الحال اجمل قصاب کی پھانسی کی خبرسب سے بڑی خبرہے۔
ادھرپاکستان میں سماجی سائٹس اورذرائع ابلاغ میں اجمل قصاب کی پھانسی کے بارے میں زیادہ تبصرے نہیں کیے جارہے۔پاکستان کے الیکٹرونک میڈیانے بھی اس خبر کو زیادہ اہمیت نہیں دی اوراکثر چینلوں میں چند ٹکرچلا کرخاموشی چھا گئی۔اجمل قصاب کی پھانسی پراس کے آبائی علاقے فریدکوٹ کے لوگوں نے ملے جلے ردعمل کااظہارکیا،کئی لوگوں نے خوشی،کئی نے غم کااظہارکیاجبکہ بعض افرادنے پھانسی کی اطلاعات کوتسلیم کرنے سے ہی انکارکردیاجبکہ اجمل قصاب کے اہل خانہ نے ممبئی حملوں کے بعدہی گھربارچھوڑدیاتھااور ان کے بارے میں تاحال کسی کوکوئی علم نہیں۔
آئی این پی کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ''ایمنسٹی انٹرنیشنل''نے بھارت میں ممبئی حملوں کے واحدزندہ پکڑ ے جانے والے حملہ آوراجمل قصاب کی پھانسی کوبھارت کا پسماندگی کی جانب ایک قدم گردانتے ہوئے کہاہے کہ قصاب کے وکلااورخاندان کوپھانسی سے پہلے آگاہ نہیں کیاگیاجوعالمی اصولوں کے خلاف ہے،ممبئی حملوںکے جرم کی نوعیت سے کوئی انکارنہیں تاہم سزائے موت انتہائی ظالمانہ اور غیرانسانی اقدام ہے۔
این این آئی کے مطابق کالعدم پاکستان تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے غیر ملکی میڈیاکوبتایا کہ اجمل قصاب کی پھانسی کی خبرحیرت انگیزہے اوربھارتی سرزمین پرایک مسلمان کی پھانسی بڑانقصان ہے ۔دوسری جانب ٹائمز آف انڈیا کے مطابق لشکرطیبہ کے ایک سینئرکمانڈرنے نامعلوم مقام سے اجمل قصاب کوہیروقراردیتے ہوئے کہاکہ قصاب نے دیگرجنگجوئوں کی حوصلہ افزائی کردی ہے اورہم ان کے نقش قدم پرچلیںگے۔
بھارتی وزیر داخلہ سشیل کمارشنڈے نے پھانسی کی تصدیق کردی اور کہا کہ پا کستان کواس کے بارے میں بتادیاگیاتھالیکن پاکستان نے لاش وصول کرنے کاکوئی مطالبہ نہیں کیا، اگر پاکستان لاش کامطالبہ کرتاہے توبھارت اسے ضرورسونپ دیگا، پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ بھارتی نائب ہائی کمشنرنے اجمل قصاب کی پھانسی سے متعلق آگاہ کردیاتھاتاہم دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کامؤقف بالکل واضح ہے اورپاکستان دہشت گردی کیخلاف بھارت سمیت دیگرممالک سے تعاون کیلیے تیارہے۔
بھارتی وزیراخلہ شنڈے کے مطابق وزارتِ داخلہ نے اجمل قصاب کی رحم کی درخواست16 اکتوبرکوصدر پرناب مکھرجی کے پاس بھیجی تھی اورصدرنے 5نومبر کواجمل قصاب کی رحم کی درخواست مستردکرکے دوبارہ وزارت داخلہ کوواپس بھیج دی تھی،8 نومبرکوہی اس بات کافیصلہ کر لیا گیاتھاکہ قصاب کو21نومبر کوپونے کی یروڈاجیل میں پھانسی دی جائے گی،قصاب کی پھانسی کے معاملے کوخفیہ رکھناضروری تھا، قصاب کی پھانسی کے لیے بھارتی حکومت پربہت دبائوتھا۔
بھارتی ٹی وی رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف ہواہے کہ اجمل قصاب کوممبئی کے ارتھرروڈجیل سے پونے کے یروادا جیل لے جانے اورپھرپھانسی دینے کے سارے عمل کوایک وڈیوکی شکل دی گئی ہے،اس پورے آپریشن کا کوئی بھی لمحہ ایسانہیں ہے جووڈیومیں شامل نہیں،قصاب کو بدھ کی صبح7:30پرپھانسی دی گئی اورنو بج کر30منٹ پریرواداجیل کی حدودمیں دفنایاگیا،بھارتی میڈیاکے مطابق اجمل قصاب چاہتاتھاکہ اس کی والدہ کو پھانسی سے متعلق اطلاع دیدی جائے،اس کے علاوہ اجمل قصاب نے موت سے قبل کسی بھی قسم کی آخری خواہش کااظہارنہیںکیااورکہاکہ اس کی کوئی بھی خواہش اورتمنانہیںہے۔
آن لائن کے مطابق بھارتی میڈیا میں اجمل قصاب کی تدفین کے حوالے سے مختلف دعوے کیے گئے ہیں بعض رپورٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ حکومت کی جانب سے تدفین کوخطرہ قراردیے جانے کے بعدفیصلہ کیا گیا ہے کہ اجمل قصاب کی میت کو اسامہ بن لادن کی طرح سمندر بردکیاجائے گا۔اجمل قصاب کے وکلانے اسے اچانک پھانسی دیے جانے پرحیرانگی کااظہارکرتے ہوئے اس بارے سوالات اٹھائے ہیں قصاب کی وکیل امین فرحانہ شاہ کاکہنا تھا مجھے قصاب کی پھانسی کا اچانک سن کر دھچکالگا،اتنی زیادہ خفیہ طریقے سے اسے کیوں پھانسی دی گئی؟ ۔ بھارتی چینلزپرفی الحال اجمل قصاب کی پھانسی کی خبرسب سے بڑی خبرہے۔
ادھرپاکستان میں سماجی سائٹس اورذرائع ابلاغ میں اجمل قصاب کی پھانسی کے بارے میں زیادہ تبصرے نہیں کیے جارہے۔پاکستان کے الیکٹرونک میڈیانے بھی اس خبر کو زیادہ اہمیت نہیں دی اوراکثر چینلوں میں چند ٹکرچلا کرخاموشی چھا گئی۔اجمل قصاب کی پھانسی پراس کے آبائی علاقے فریدکوٹ کے لوگوں نے ملے جلے ردعمل کااظہارکیا،کئی لوگوں نے خوشی،کئی نے غم کااظہارکیاجبکہ بعض افرادنے پھانسی کی اطلاعات کوتسلیم کرنے سے ہی انکارکردیاجبکہ اجمل قصاب کے اہل خانہ نے ممبئی حملوں کے بعدہی گھربارچھوڑدیاتھااور ان کے بارے میں تاحال کسی کوکوئی علم نہیں۔
آئی این پی کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ''ایمنسٹی انٹرنیشنل''نے بھارت میں ممبئی حملوں کے واحدزندہ پکڑ ے جانے والے حملہ آوراجمل قصاب کی پھانسی کوبھارت کا پسماندگی کی جانب ایک قدم گردانتے ہوئے کہاہے کہ قصاب کے وکلااورخاندان کوپھانسی سے پہلے آگاہ نہیں کیاگیاجوعالمی اصولوں کے خلاف ہے،ممبئی حملوںکے جرم کی نوعیت سے کوئی انکارنہیں تاہم سزائے موت انتہائی ظالمانہ اور غیرانسانی اقدام ہے۔
این این آئی کے مطابق کالعدم پاکستان تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے غیر ملکی میڈیاکوبتایا کہ اجمل قصاب کی پھانسی کی خبرحیرت انگیزہے اوربھارتی سرزمین پرایک مسلمان کی پھانسی بڑانقصان ہے ۔دوسری جانب ٹائمز آف انڈیا کے مطابق لشکرطیبہ کے ایک سینئرکمانڈرنے نامعلوم مقام سے اجمل قصاب کوہیروقراردیتے ہوئے کہاکہ قصاب نے دیگرجنگجوئوں کی حوصلہ افزائی کردی ہے اورہم ان کے نقش قدم پرچلیںگے۔