اصغرخان کیس اسلم بیگ نے نظرثانی کی درخواست دائرکردی
سپریم کورٹ نے وفاق کومطلوبہ موادجمع کرانے کے لیے دوہفتے کی مہلت دیدی
سپریم کورٹ نے وفاق کومطلوبہ موادجمع کرانے کے لیے دوہفتے کی مہلت دیدی۔ فوٹو: فائل
سابق آرمی چیف جنرل (ر) اسلم بیگ نے اصغر خان کیس کے فیصلہ پر سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائرکردی۔
بیرسٹر علی ظفرکے ذریعے دائر پٹیشن میں فیصلے کو غیر منصفانہ اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے مئوقف اپنایا گیا کہ سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں شفاف انصاف کے اصول کو مد نظر نہیں رکھا اور آرمی آفیسر کی حیثیت سے وہ اپنے سپریم کمانڈر کے احکامات پر عمل درآمد کے پابند ہیں لہذا عدالت اپنے فیصلہ پر نظرثانی کرے۔کیس کا فیصلہشفاف ٹرائل کے آئینی حق کی شق10اے سے متصادم ہے کیونکہ کسی کو صفائی کا موقع اور ٹرائل کے بغیر مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا جبکہ سپریم کورٹ نے اسد درانی اور یونس حبیب کے زبانی بیان حلفی پر انہیں مجرم قرار دیا جو قرین انصاف نہیں۔
نظر ثانی درخواست میںکہا گیا کہ اگر غیر قانونی حکم کو نہ ماننے کی توجیح کو تسلیم کیا جائے تو فوج اور بیوروکریسی میںکہرام مچ جائے گا اور ریاست کے معاملات چلانا مشکل ہو جائے گا جس سے افراتفری پیدا ہوگی۔درخواست میں مزیدکہا گیا کہ عدالت نے اسلم بیگ کے بیان حلفی کو نظر اندازکیا حالانکہ الزامات کی تصدیق صرف غلام اسحاق خان ہی کر سکتے تھے لیکن عدالت نے مبہم بیان حلفیوں پر انھیں قصور وار ٹھہرایا اور ان پر الیکشن میں دھاندلی کا الزام عائدکیا جب تک ٹرائل نہ ہو اور سیاسی جماعتوں اور پیسے لینے والوں سے تفتیش نہ ہو اس بارے میں آبزرویشن دینا درست نہیں کیونکہ جب تک جرم ثابت نہ ہوکسی کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی نہ ہی مجرم ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
درخواست میں مئوقف اپنایا گیا ہے کہ عدالت کا فیصلہ غیر واضح ہے اور مئوثر بہ ماضی ہے جبکہ پی سی اوکیس میں خود عدالت کا فیصلہ مستقبل کیلیے ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ سیاست میں صدرکے کردار کا تعین نہیںکیا گیا ،صدرکے بارے میں فیصلے میں وضاحت ضروری ہے۔ این این آئی کے مطابق درخواست میںکہاگیاکہ بطور آرمی چیف کوئی الزام تھا توکارروائی کا مناسب فورم پاکستان آرمی ایکٹ ہے۔ فیصلہ کالعدم قرار دے کر نظرثانی کی جائے۔درخواست میںکہاگیا کہ سیاستدانوں میں مبینہ رقوم کی تقسیم میں ان کا کوئی کردار نہیں۔خصوصی خبر نگارکے مطابق سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی درخواست پر اصغر خان کیس کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست میں مطلوبہ مواد جمع کرانے کے لیے دو ہفتے کی مہلت دیدی۔
بیرسٹر علی ظفرکے ذریعے دائر پٹیشن میں فیصلے کو غیر منصفانہ اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے مئوقف اپنایا گیا کہ سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں شفاف انصاف کے اصول کو مد نظر نہیں رکھا اور آرمی آفیسر کی حیثیت سے وہ اپنے سپریم کمانڈر کے احکامات پر عمل درآمد کے پابند ہیں لہذا عدالت اپنے فیصلہ پر نظرثانی کرے۔کیس کا فیصلہشفاف ٹرائل کے آئینی حق کی شق10اے سے متصادم ہے کیونکہ کسی کو صفائی کا موقع اور ٹرائل کے بغیر مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا جبکہ سپریم کورٹ نے اسد درانی اور یونس حبیب کے زبانی بیان حلفی پر انہیں مجرم قرار دیا جو قرین انصاف نہیں۔
نظر ثانی درخواست میںکہا گیا کہ اگر غیر قانونی حکم کو نہ ماننے کی توجیح کو تسلیم کیا جائے تو فوج اور بیوروکریسی میںکہرام مچ جائے گا اور ریاست کے معاملات چلانا مشکل ہو جائے گا جس سے افراتفری پیدا ہوگی۔درخواست میں مزیدکہا گیا کہ عدالت نے اسلم بیگ کے بیان حلفی کو نظر اندازکیا حالانکہ الزامات کی تصدیق صرف غلام اسحاق خان ہی کر سکتے تھے لیکن عدالت نے مبہم بیان حلفیوں پر انھیں قصور وار ٹھہرایا اور ان پر الیکشن میں دھاندلی کا الزام عائدکیا جب تک ٹرائل نہ ہو اور سیاسی جماعتوں اور پیسے لینے والوں سے تفتیش نہ ہو اس بارے میں آبزرویشن دینا درست نہیں کیونکہ جب تک جرم ثابت نہ ہوکسی کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی نہ ہی مجرم ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
درخواست میں مئوقف اپنایا گیا ہے کہ عدالت کا فیصلہ غیر واضح ہے اور مئوثر بہ ماضی ہے جبکہ پی سی اوکیس میں خود عدالت کا فیصلہ مستقبل کیلیے ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ سیاست میں صدرکے کردار کا تعین نہیںکیا گیا ،صدرکے بارے میں فیصلے میں وضاحت ضروری ہے۔ این این آئی کے مطابق درخواست میںکہاگیاکہ بطور آرمی چیف کوئی الزام تھا توکارروائی کا مناسب فورم پاکستان آرمی ایکٹ ہے۔ فیصلہ کالعدم قرار دے کر نظرثانی کی جائے۔درخواست میںکہاگیا کہ سیاستدانوں میں مبینہ رقوم کی تقسیم میں ان کا کوئی کردار نہیں۔خصوصی خبر نگارکے مطابق سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی درخواست پر اصغر خان کیس کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست میں مطلوبہ مواد جمع کرانے کے لیے دو ہفتے کی مہلت دیدی۔