ساحلی زمینعدالتی حکم کے باوجود ڈی ایچ اے نے سروے نہیں کرایا
سندھ حکومت کے خطوط کاجواب تک نہیں دیا، اجازت کے بغیرہی الاٹمنٹ شروع کردی
سندھ حکومت کے خطوط کاجواب تک نہیں دیا، اجازت کے بغیرہی الاٹمنٹ شروع کردی فوٹو: فائل
سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ڈی ایچ اے نے اپنی زمین کا سروے کرانے میں تاخیری حربے استعمال کرنا شروع کردیے ہیں جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے سروے کے حوالے سے لکھے گئے خطوط کا جواب تک دینا گوارہ نہیں کیا۔
ذرائع کے مطابق سمندرکے جگہ چھوڑ کر پیچھے ہٹنے کے باعث ساحلی علاقے کی ہزاروں ایکڑاراضی سندھ حکومت کی ملکیت ہے لیکن ڈی ایچ نے اپنی مرضی سے سندھ حکومت کی اجازت کے بغیرہی الاٹمنٹ شروع کر دی ہے اس ضمن میں سروے کے لیے متعدد خطوط لکھنے کے باوجودکوئی جواب تک نہیں دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سندھ حکومت نے سپریم کورٹ کے مقدمہ نمبر 16/2011 میں 31-10-2012 کودیے گئے فیصلے کے تحت سینئرممبربورڈ آف ریونیو شاذر شمعون کی سربراہی میں19 رکنی کمیٹی کے قیام کانوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جس کے ممبران میں ممبرآر اینڈ ایس بورڈ آف ریونیواسداﷲ دھاریجو، ممبر لینڈ یوٹیلائزیشن غلام مصطفی پھل، ممبرگوٹھ آباد عابد حسین زواوی، ممبر جوڈیشل بورڈ آف ریونیو محمد قاسم لاشاری، کمشنرکراچی ہاشم زیدی، ایڈیشنل آئی جی کراچی (سی سی پی او) اقبال محمود، ڈی سی جنوبی جمال مصطفیٰ قاضی، ڈی سی غربی گنہور خان لغاری، ڈی سی شرقی سمیع صدیقی، ڈی سی ملیرجان محمد قاضی، ڈی سی سینٹرل ڈاکٹر سیف الرحمٰن، کنسلٹنٹ بورڈ آف ریونیو نذر محمد بلوچ ، پراجیکٹ ڈائریکٹر لارمز، ڈائریکٹر سیٹلمنٹ سروے اینڈ لینڈ ریکارڈ حیدرآباد، ڈپٹی ڈائریکٹر آئی ٹی بورڈ آف ریونیو، ڈپٹی ڈائریکٹر جی آئی ایس بورڈ آف ریونیو ، سروے سپرنٹنڈنٹ کراچی ، سروے آف پاکستان کا نمائندہ شامل ہوں گے جبکہ ڈائریکٹر سیٹلمنٹ سروے اینڈ لینڈ ریکارڈ کمیٹی کے سیکریٹری ہوں گے ۔
سندھ حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے تحت کمیٹی سمندر سے خالی ہونے والی اراضی اورناکلاس زمین (گورنمنٹ کی زمین ) کا سروے کرنے کی پالیسی بنائے گی کہ کس طرح قوائد و ضوابط کے تحت زمینوں کا سروے مکمل کیا جاسکے ،کمیٹی سروے کے لیے ایڈمنسٹریٹو / ٹیکنیکل معاملات کوحل کرے گی، سروے کے معاملات کومانیٹر کرے گی اور ریگولر بنیاد پر کام کے معیار اور مقررہ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کردار اداکرے گی۔
کمیٹی اپنی ریویو پروگریس رپورٹ ریگولر بنیاد پرسپریم کورٹ کے رجسٹرارکو بھیجے گی، ضرورت محسوس کرنے پر فوری اجلاس طلب کرسکے گی،کمیٹی کویہ اختیارحاصل ہوگاکہ وہ کسی بھی افسر،ایجنسی یا ادارے کوطلب کرکے سروے کا معاملہ حل کرے گی،یاد رہے کہ سندھ حکومت کی اربوں روپے کی اراضی پرڈی ایچ اے، پورٹ قاسم ،کے پی ٹی، پاکستان ریلوے،ٹیلی کمیونیکشن، سوئی گیس، پاکستان اسٹیل، کوآپریٹو سوسائٹیز، بلڈرز، لینڈ مافیازسمیت مختلف اداروں اورمحکموں نے قبضہ کررکھاہے۔
ذرائع کے مطابق سمندرکے جگہ چھوڑ کر پیچھے ہٹنے کے باعث ساحلی علاقے کی ہزاروں ایکڑاراضی سندھ حکومت کی ملکیت ہے لیکن ڈی ایچ نے اپنی مرضی سے سندھ حکومت کی اجازت کے بغیرہی الاٹمنٹ شروع کر دی ہے اس ضمن میں سروے کے لیے متعدد خطوط لکھنے کے باوجودکوئی جواب تک نہیں دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سندھ حکومت نے سپریم کورٹ کے مقدمہ نمبر 16/2011 میں 31-10-2012 کودیے گئے فیصلے کے تحت سینئرممبربورڈ آف ریونیو شاذر شمعون کی سربراہی میں19 رکنی کمیٹی کے قیام کانوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جس کے ممبران میں ممبرآر اینڈ ایس بورڈ آف ریونیواسداﷲ دھاریجو، ممبر لینڈ یوٹیلائزیشن غلام مصطفی پھل، ممبرگوٹھ آباد عابد حسین زواوی، ممبر جوڈیشل بورڈ آف ریونیو محمد قاسم لاشاری، کمشنرکراچی ہاشم زیدی، ایڈیشنل آئی جی کراچی (سی سی پی او) اقبال محمود، ڈی سی جنوبی جمال مصطفیٰ قاضی، ڈی سی غربی گنہور خان لغاری، ڈی سی شرقی سمیع صدیقی، ڈی سی ملیرجان محمد قاضی، ڈی سی سینٹرل ڈاکٹر سیف الرحمٰن، کنسلٹنٹ بورڈ آف ریونیو نذر محمد بلوچ ، پراجیکٹ ڈائریکٹر لارمز، ڈائریکٹر سیٹلمنٹ سروے اینڈ لینڈ ریکارڈ حیدرآباد، ڈپٹی ڈائریکٹر آئی ٹی بورڈ آف ریونیو، ڈپٹی ڈائریکٹر جی آئی ایس بورڈ آف ریونیو ، سروے سپرنٹنڈنٹ کراچی ، سروے آف پاکستان کا نمائندہ شامل ہوں گے جبکہ ڈائریکٹر سیٹلمنٹ سروے اینڈ لینڈ ریکارڈ کمیٹی کے سیکریٹری ہوں گے ۔
سندھ حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے تحت کمیٹی سمندر سے خالی ہونے والی اراضی اورناکلاس زمین (گورنمنٹ کی زمین ) کا سروے کرنے کی پالیسی بنائے گی کہ کس طرح قوائد و ضوابط کے تحت زمینوں کا سروے مکمل کیا جاسکے ،کمیٹی سروے کے لیے ایڈمنسٹریٹو / ٹیکنیکل معاملات کوحل کرے گی، سروے کے معاملات کومانیٹر کرے گی اور ریگولر بنیاد پر کام کے معیار اور مقررہ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کردار اداکرے گی۔
کمیٹی اپنی ریویو پروگریس رپورٹ ریگولر بنیاد پرسپریم کورٹ کے رجسٹرارکو بھیجے گی، ضرورت محسوس کرنے پر فوری اجلاس طلب کرسکے گی،کمیٹی کویہ اختیارحاصل ہوگاکہ وہ کسی بھی افسر،ایجنسی یا ادارے کوطلب کرکے سروے کا معاملہ حل کرے گی،یاد رہے کہ سندھ حکومت کی اربوں روپے کی اراضی پرڈی ایچ اے، پورٹ قاسم ،کے پی ٹی، پاکستان ریلوے،ٹیلی کمیونیکشن، سوئی گیس، پاکستان اسٹیل، کوآپریٹو سوسائٹیز، بلڈرز، لینڈ مافیازسمیت مختلف اداروں اورمحکموں نے قبضہ کررکھاہے۔