نیب رینٹل پاورکمپنی سے وصولی کیلیے ضمانت لے سپریم کورٹ

’کارکے‘کو93 ملین ڈالر دے کر نیب نے17ملین میںپلی بارگین کیاگیا،فیصل صالح

’کارکے‘کو93 ملین ڈالر دے کر نیب نے17ملین میںپلی بارگین کیاگیا،فیصل صالح۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے رینٹل پاورکیس میں بحری جہاز پر قائم ترک پاورکمپنی کارکے کے پاور پلانٹ کو ملکی حدود سے باہر نہ جانے دینے کے بارے میں نیب کے بیان حلفی کو واپس لینے کی درخواست مسترد کر دی اور ہدایت کی ہے کہ نیب کارکے کے ذمے واجب الادا رقم کی مالیت کا تخمینہ لگا کر اس کی وصولی کے بارے میںضمانت حاصل کرے۔


رینٹل پاور پلانٹ سے متعلق فیصلے پر عملدرآمدکیس کی سماعت کے دوران جسٹس گلزار احمد نے کہا عدالت جہازکو روکنا نہیں چاہتی لیکن اس کے ذمے حکومت کی جو رقم بنتی ہے اس کی واپسی کی ضمانت لیکر جانے دیا جائے۔پراسیکیوٹر جنرل نیب کے کے آغا نے کہا یہ بیان حلفی عدالت کی ہدایت پر دیا تھا اس لیے عدالت آرڈر جاری کر دے۔چیف جسٹس نے کہا بیان حلفی رضاکارانہ طور پر دیا گیا تھا عدالت نے ہدایت نہیںکی تھی جبکہ جسٹس گلزار نے کہا کہ یک طرفہ طور پر بیان حلفی واپس نہیں لیا جا سکتا۔فیصل صالح حیات نے کہا کا رکے کو79ملین ڈالر ایڈوانس دیے گئے اور14ملین ڈالر منافع دیا گیا۔

انھوں نے کہا نیب نے کمپنی کے ساتھ 17 ملین ڈالر میں پلی بارگین کیا جبکہ عدالت کا فیصلہ وصولی کیلیے واضح تھا ۔کے کے آغا نے کہا کہ نیب آرڈیننس کے تحت معاملات طے کیے گئے، ڈائریکٹر جنرل نیب شہزاد بھٹی نے کہا کہ کوئی پلی بارگین نہیں ہوا۔عدالت نے کارکے کو نوٹس کے باوجود عدم حاضری کا نوٹس لیا ۔ این این آئی کے مطابق سپریم کورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل نیب کے رویہ پر برہمی کا اظہارکیا اورکہا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ 'کارکے'کو ادا کی گئی رقم کا تحفظ کیسے ہوگا؟
Load Next Story