دریائی تجارت کی آزمائشی کارگو سروس کا آغاز

پاکستان میں پہلی مرتبہ دریائے سندھ میں کارگو سروس کی آزمائشی سروس شروع کردی گئی ہے۔

پاکستان میں پہلی مرتبہ دریائے سندھ میں کارگو سروس کی آزمائشی سروس شروع کردی گئی ہے۔ فوٹو؛ فائل

KARACHI:
پاکستان میں پہلی مرتبہ دریائے سندھ میں کارگو سروس کی آزمائشی سروس شروع کردی گئی ہے، یہ دریائی کارگو سروس میانوالی سے اٹک تک چلائی جائے گی، اس سلسلے میں کالا باغ کے قریب داؤد خیل میں دریائی بندر گاہ قائم کردی گئی جب کہ 35میٹر لمبا،9.5میٹر چوڑا اور 120ٹن وزنی کارگو بحری جہاز بھی تیار کیا گیا ہے جو 300 ٹن سامان لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کا نام ''ہاتھی'' رکھا گیا ہے۔ پائلٹ پراجیکٹ کے تحت دریائے سندھ میں چھوٹے بحری جہازوں کے ذریعے داؤد خیل سے اٹک تک سیمنٹ اور کھاد کی ترسیل روڈ ٹرانسپورٹ کے مقابلے میں پانچ گنا سستی ہونے کے ساتھ انتہائی محفوظ بھی ہوگی۔

اس منصوبے سے خصوصا ضلع میانوالی کو خاطر خواہ فائدہ ہوگا۔ ان لینڈ واٹر ٹرانسپورٹ ڈویلپمنٹ کمپنی کے چیئرمین کے مطابق پائلٹ پراجیکٹ کی کامیابی کے بعد پورٹ قاسم (کراچی) سے نوشہرہ (خیبر پختونخوا) تک اس واٹر ویز سسٹم کو وسعت دی جائے گی۔ پاکستان میں دریائی کارگو سروس کا شروع ہونا خوش آیند امر ہے۔ دریائی تجارت کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا' یہ زمین اور فضائی سروس کے مقابلے میں انتہائی سستا اور محفوظ راستہ ہے۔


تاریخ پر نگاہ دوڑائی جائے تو پنجاب اور سندھ کے درمیان ہزاروں سال تک دریائی تجارت ہوتی رہی' زیادہ دور کی بات نہیں انیسویں صدی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں بھی دریائی تجارت اپنے عروج پر تھی' ملتان اور ٹھٹھہ دریائی تجارت کے بڑے مراکز تھے جس کے باعث ان کا شمار خوشحال شہروں میں ہوتا تھا۔

پاکستان بننے کے بعد دریائی تجارت کی جانب زیادہ توجہ نہیں دی گئی' بدقسمتی یہ ہوئی کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت دریاؤں کا ایک بڑا حصہ ہندوستان کے پاس چلا گیا اور آہستہ آہستہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر میں متعدد ڈیمز تعمیر کر کے دریاؤں پر کنٹرول حاصل کر لیا اور پاکستان کے حصے کے دریاؤں میں پانی کم ہوتا چلا گیا، آج صورت حال یہ ہے کہ دریائے راوی میں دھول اڑتی دکھائی دیتی ہے۔ اگر حکومت ملک بھر کے دریاؤں اور نہروں کو آپس میں ملا کر دریائی تجارت کی جانب توجہ دے تو اس سے ملک میں کاروبار کو وسعت ملنے سے روز گار کے وسیع مواقع میسر آئیں گے اور حقیقی معنوں میں معاشی انقلاب برپا ہو سکے گا۔
Load Next Story