شہر قائد امن کا متلاشی
شہری ہڑتال کی سیاست سے اکتا چکے ہیں، محض ایک دن کی ہڑتال معیشت کو کروڑوں کا نقصان پہنچاتی ہے۔
شہری ہڑتال کی سیاست سے اکتا چکے ہیں، محض ایک دن کی ہڑتال معیشت کو کروڑوں کا نقصان پہنچاتی ہے۔ فوٹو؛ فائل
KARACHI:
پاکستان کا معاشی ہب شہر قائد امن کا متلاشی ہے۔ رینجرز کی جانب سے کراچی آپریشن کے بعد شہر میں امن و امان کی جو ایک جھلک دکھائی دی تھی اس پر شہریوں نے اطمینان کا اظہار کیا تھا لیکن شہر کی سب سے بڑی اسٹیک ہولڈر سیاسی جماعت کے تحفظات برقرار ہیں کہ آپریشن یکطرفہ اور صرف ان کے خلاف ہو رہا ہے۔ بدھ کو متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے شہر میں ہڑتال کی اپیل کی گئی جو جزوی طور پر کامیاب رہی۔ مذکورہ ہڑتال ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار کے گھر کا رینجرز کی جانب سے محاصرے اور تلاشی کے احتجاج پر کال کی گئی تھی۔
پریس کلب کے باہر پرامن احتجاجی مظاہرے میں ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ آخر پاکستان کے ایک محب وطن اور سچے پاکستانی طبقے کو کیوں دیوار سے لگایا جا رہا ہے؟ ہر بار ہمارے اور صرف ہمارے ہی صبر کا امتحان لیا جا رہا ہے؟ آخر ایسا کیوں؟ انھوں نے جنرل راحیل شریف اور کور کمانڈر کراچی سے کہا کہ ہمیں ملاقات کا وقت دیں، ہماری بات سنیں۔ کراچی آپریشن کے مثبت ثمرات سے انکار ممکن نہیں لیکن شہر میں مستقل امن کے لیے صائب ہو گا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کو دور کیا جائے، نیز شہریوں کی جانب سے ہڑتال سے گریز اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ احتجاجی سیاست سے نالاں ہیں۔
یہ اس بات کا امر ہے کہ شہری ہڑتال کی سیاست سے اکتا چکے ہیں، محض ایک دن کی ہڑتال معیشت کو کروڑوں کا نقصان پہنچاتی ہے جب کہ روز کی دیہاڑی کرنے والے مزدور کا چولہا بجھا رہتا ہے۔ احتجاج ہر انسان کا جمہوری حق ہے لیکن اس کے لیے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عمل کرنا چاہیے۔ بہرحال شہر کی بڑی سیاسی جماعت کے تحفظات سے بھی انحراف نہیں کیا جا سکتا۔ راست ہو گا کہ مذکورہ معاملات کو بحسن خوبی اور جمہوری تقاضوں کے مطابق حل کیا جائے۔ یہی وقت کا تقاضا ہے۔
پاکستان کا معاشی ہب شہر قائد امن کا متلاشی ہے۔ رینجرز کی جانب سے کراچی آپریشن کے بعد شہر میں امن و امان کی جو ایک جھلک دکھائی دی تھی اس پر شہریوں نے اطمینان کا اظہار کیا تھا لیکن شہر کی سب سے بڑی اسٹیک ہولڈر سیاسی جماعت کے تحفظات برقرار ہیں کہ آپریشن یکطرفہ اور صرف ان کے خلاف ہو رہا ہے۔ بدھ کو متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے شہر میں ہڑتال کی اپیل کی گئی جو جزوی طور پر کامیاب رہی۔ مذکورہ ہڑتال ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار کے گھر کا رینجرز کی جانب سے محاصرے اور تلاشی کے احتجاج پر کال کی گئی تھی۔
پریس کلب کے باہر پرامن احتجاجی مظاہرے میں ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ آخر پاکستان کے ایک محب وطن اور سچے پاکستانی طبقے کو کیوں دیوار سے لگایا جا رہا ہے؟ ہر بار ہمارے اور صرف ہمارے ہی صبر کا امتحان لیا جا رہا ہے؟ آخر ایسا کیوں؟ انھوں نے جنرل راحیل شریف اور کور کمانڈر کراچی سے کہا کہ ہمیں ملاقات کا وقت دیں، ہماری بات سنیں۔ کراچی آپریشن کے مثبت ثمرات سے انکار ممکن نہیں لیکن شہر میں مستقل امن کے لیے صائب ہو گا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کو دور کیا جائے، نیز شہریوں کی جانب سے ہڑتال سے گریز اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ احتجاجی سیاست سے نالاں ہیں۔
یہ اس بات کا امر ہے کہ شہری ہڑتال کی سیاست سے اکتا چکے ہیں، محض ایک دن کی ہڑتال معیشت کو کروڑوں کا نقصان پہنچاتی ہے جب کہ روز کی دیہاڑی کرنے والے مزدور کا چولہا بجھا رہتا ہے۔ احتجاج ہر انسان کا جمہوری حق ہے لیکن اس کے لیے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عمل کرنا چاہیے۔ بہرحال شہر کی بڑی سیاسی جماعت کے تحفظات سے بھی انحراف نہیں کیا جا سکتا۔ راست ہو گا کہ مذکورہ معاملات کو بحسن خوبی اور جمہوری تقاضوں کے مطابق حل کیا جائے۔ یہی وقت کا تقاضا ہے۔