بدھا کی زہریلی مسکراہٹ

اگربھارت کوسی ٹی بی ٹی پردستخط کےبغیرنیوکلیئرسپلائرزگروپ کی رکنیت کااہل قراردیاجاسکتا ہےتوپھرپاکستان نےکیا قصورکیا ہے

اٹھارہ مئی انیس سو چوہتر کو راجھستان کے علاقے پوکھران میں بھارت نے بارہ کلو ٹن قوت کا زیرِ زمین ایٹمی دھماکہ کیا تو وزیرِ اعظم اندرا گاندھی نے اعلان کیا کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ یہ ایک پرامن جوہری دھماکہ ہے اور ویسے بھی اس پروجیکٹ کا نام '' سمائلنگ بدھا ''ہے۔ مگر باقی دنیا کو بدھا کی یہ ایٹمی مسکراہٹ زیادہ پسند نہ آئی اور ذوالفقار علی بھٹو کو تو بالکل پسند نہ آئی۔ انھوں نے ملتان میں جوہری سائنسدانوں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان گھاس کھا لے گا مگر بھارت کی ایٹمی بلیک میلنگ کے آگے نہیں جھکے گا۔ اس مقام سے پاک چین دوستی میں جوہری تعاون کا آغاز ہوا جو آنے والے برسوں میں دونوں ممالک کے ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کی اسٹرٹیجک پارٹنر شپ میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔

باقی دنیا پر بھارت کے اچانک جوہری دھماکے کا اثر یہ ہوا کہ سات ممالک (امریکا، برطانیہ، فرانس، سابق سوویت یونین المعروف موجودہ روس، جاپان، کینیڈا اور مغربی جرمنی) نے بھارت کی طرح کے گیٹ کریشرز کو مستقبل میں روکنے کے لیے جوہری مواد، آلات اور ٹیکنالوجی کو کنٹرول کرنے اور اس مواد و ٹیکنالوجی کو جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے)کے تحفظات کے ساتھ صرف ان ممالک کو فروخت یا فراہم کرنے کا لندن اجلاس میں عہد کیا جو جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے (سی ٹی بی ٹی) پر دستخط کر چکے ہوں۔ (لندن کلب کے بنیادی ارکان میں فرانس واحد ملک تھا جس نے کلب میں شمولیت کے بعد سی ٹی بی ٹی پر دستخط کیے)۔

نومبر انیس سو پچھتر میں سات ممالک پر مشتمل لندن کلب کا پہلا باضابطہ اجلاس ہوا جس نے قواعد و ضوابط اور رکنیت کے معیارات مقرر کیے اور پھر اس کلب کا باضابطہ نام نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) رکھا گیا۔ انیس سو اٹھہتر کے جماوڑے کے بعد اگلے گیارہ برس تک این ایس جی کا کوئی باضابطہ اجلاس نہیں ہوا۔ لیکن انیس سو اکیانوے کی جنگِ خلیج کے بعد جب صدام حسین کے جوہری پروگرام کے بارے میں یہ تاثر پھیلا کہ وہ قابو سے باہر ہو رہا ہے تو پھر نیوکلیئر سپلائرز گروپ نے دہرے استعمال کے آلات کی فہرست کو بھی کنٹرولڈ آلات و ٹیکنالوجی کی فہرست سے نتھی کر دیا۔ دو ہزار چار میں چین بھی این ایس جی کا رکن بن گیا۔

اس وقت نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے ارکان کی تعداد اڑتالیس ہے جن میں مذکورہ بالا ممالک کے علاوہ ارجنٹینا، آسٹریلیا، آسٹریا، بیلاروس، بلجئیم، برازیل، بلغاریہ، کروشیا، قبرص، چیک ریپبلک، ڈنمارک، ایستونیا، فن لینڈ، یونان، ہنگری، آئس لینڈ، آئر لینڈ، اٹلی، قزاقستان، لیٹویا، لتھوینیا، لکسمبرگ، مالٹا، میکسیکو، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، رومانیہ، سربیا، سلوواکیہ، سلووینیا، جنوبی افریقہ، جنوبی کوریا، اسپین، سویڈن، سوئٹزر لینڈ، ترکی اور یوکرین شامل ہیں۔

تاہم بھارت، پاکستان، اسرائیل اور شمالی کوریا اعلانیہ ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود اس گروپ سے باہر ہیں۔ کیونکہ چاروں سی ٹی بی ٹی کے دستخط کنندہ نہیں اور ان میں سے دو ممالک یعنی اسرائیل اور شمالی کوریا تو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے تحفظات و معیارات بھی تسلیم نہیں کرتے۔ علاوہ ازیں این ایس جی میں کوئی نیا ملک تب ہی داخل ہو سکتا ہے جب اسے تمام اڑتالیس رکن ممالک کی حمایت حاصل ہو۔

تو پھر جھگڑا کیا ہے؟


جھگڑے کا سبب امریکا ہے۔ جس امریکا نے انیس سو چوہتر میں بھارت کے ایٹمی دھماکے کے بعد بے مہار جوہری پھیلاؤ کنٹرول کرنے کے لیے نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور اس کے قواعد و ضوابط کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا وہی امریکا چاہتا ہے کہ ان قواعد و ضوابط کو پسِ پشت ڈال کر بھارت کو گروپ کا رکن بنا لیا جائے بھلے بھارت سی ٹی بی پر دستخط کی لازمی شرط پوری کرے نہ کرے۔ اس دباؤ کا محرک دو ہزار پانچ میں جارج بش اور من موہن سنگھ حکومت کے درمیان ہونے والی سول نیوکلیئر ڈیل ہے جس کے تحت بھارتی جوہری فوجی پروگرام کو سویلین جوہری منصوبوں سے الگ کر کے سویلین مقاصد کے لیے جوہری میٹریل اور ٹیکنالوجی کی تجارت ہو سکتی ہے۔

سن دو ہزار آٹھ میں امریکا نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے ارکان کو ''جارحانہ ڈپلومیسی ''کے ذریعے قائل کر لیا کہ وہ بھارت کو جوہری مواد و ٹیکنالوجی کی باہمی تجارت کی ''غیر معمولی مثال'' کے طور پر اجازت دے دیں۔ اس کے عوض بھارت نے گروپ کو یہ تحریری یقین دہانی کروائی کہ وہ کسی ایسے ملک سے حساس جوہری مواد اور ٹیکنالوجی شیئر نہیں کرے گا جو این ایس جی میں شامل نہ ہو۔ نیز بھارت یکطرفہ جوہری تجربات سے بھی باز رہے گا۔ یہ انہونی رعایت حاصل ہونے کے بعد دو ہزار دس میں امریکا نے بھارت کو گروپ کی رکنیت دلوانے کی کوششیں شروع کر دیں اور اب ان کوششوں میں انتہائی شدت آ گئی ہے۔ کیونکہ صدر اوباما جاتے جاتے اپنی صدارتی کامیابیوں کی ٹوپی میں ایک اور کلغی اڑسنا چاہتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے ارکان کو ارسال خط میں اپیل کی کہ وہ بھارت کو گروپ کی رکنیت دینے پر متفق ہو جائیں کیونکہ بھارت نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے اغراض و مقاصد کا پرزور حمایتی ہے۔ نیز بھارت نے یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ وہ رکن بننے کے بعد کسی اور ملک (یعنی پاکستان) کی رکنیت کی درخواست کی میرٹ پر حمایت کرے گا اور اس ضمن میں اپنے موقف پر علاقائی تنازعات (یعنی کشمیر) کو حاوی نہیں ہونے دے گا۔

جان کیری کے اس معصوم خط کو پڑھنے کے بعد مجھے انیس سو باسٹھ کی بھارت چین جنگ یاد آ رہی ہے جب کینیڈی انتظامیہ نے صدر ایوب خان کو یقین دہانی کروائی تھی کہ اگر آپ اس جنگ میں غیر جانبدار رہے تو امریکا کشمیر تنازعے کے حل میں بھرپور کردار ادا کرے گا۔ صدر ایوب نے اس وعدے پر اعتبار کر لیا اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔

پاکستان چونکہ کئی بار دوہرے امریکی معیار کا شکار ہو چکا ہے لہذا وہ اس بار جھانسے میں آنے پر آمادہ نہیں (کل کا کچھ کہا نہیں جا سکتا)۔ پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت کی طرح وہ بھی ایک ذمے دار جوہری طاقت ہے۔ اس کے جوہری حفاظتی نظام کے معیاری ہونے کی گواہی خود امریکا دے چکا ہے۔ لہذا اگر بھارت کو سی ٹی بی ٹی پر دستخط کے بغیر نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کا اہل قرار دیا جا سکتا ہے تو پھر پاکستان نے کیا قصور کیا ہے۔ مگر امریکا کہتا ہے کہ تمہاری بات اور ہے اور بھارت کی بات اور ہے۔

پاکستان کی امید اب گروپ کے دو ارکان یعنی چین اور ترکی سے وابستہ ہے کہ وہ کب تک بھارتی رکنیت کے بارے میں امریکی دباؤ برداشت کر سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ طے ہے کہ اگر ایک بار بھارت گروپ کا رکن بن گیا تو پھر پاکستان کبھی رکن نہیں بن سکے گا۔

اور اگر پاکستان اس بار بھی امتیازی سلوک کا نشانہ بن گیا تو پھر اس کے پاس جینے کا وہی راستہ رہ جائے گا جو کسی بھی ایسے بچے کے پاس ہوتا ہے جسے اس کے بڑے دھتکار دیں۔ بڑی طاقتوں کی جانب سے اپنے ہی مرتب کردہ معیارات سے آناکانی جنوبی ایشیا کی امن و سلامتی کے لیے کوئی اچھا شگون نہیں۔ مفادات ہی تباہی لاتے ہیں اور امن بھی۔
Load Next Story